کیرالا میں نیشنل ہائی وے کی توسیع کے لیے ہرا بھرا درخت گرادیا گیا، سینکڑوں پرندے اور ان کے بچے ہلاک، انڈے اور گھونسلے تباہ

"لیکن نہ جانے کتنے پرندوں کا گھر گیا"

کیرالا میں ہائی وے کی توسیع کے لیے ہرا بھرا درخت گرادیا گیا
سینکڑوں پرندے اور ان کے بچے ہلاک،انڈے اور گھونسلے تباہ
سوشل میڈیا پر ویڈیو کی سونامی،ہر طرف سے شدید تنقید اور برہمی

حیدرآباد: 03۔ستمبر
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

حالیہ دنوں میں ملک کی کئی ریاستوں میں شدید بارش کے باعث سیلابی کیفیت پیداہوگئی تھی۔جبکہ پڑوسی ملک پاکستان کےچندعلاقوں میں تاریخ میں پہلی مرتبہ شدید بارش اور پھر سیلاب نے ایسی تباہی مچائی کہ زائداز 1,300 انسانی جانیں تلف ہوگئیں ان میں بچوں کی بہت بڑی تعداد بھی شامل ہے۔وہیں لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

ستم ظریفی یہ کہ اب انہیں مختلف بیماریوں کے ساتھ ساتھ غذا اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ملک چاہے جو بھی ہو انسانی جانوں اور املاک کا نقصان بطور انسان ہر کسی کو غمگین اور دکھی کردیتا ہے۔انسانی درد کومحسوس کرنے کےلیے ایک نرم دل ہی کافی ہوتا ہے۔جس کے سامنے انسانوں کی جانب سے کھینچی گئیں سرحدوں کی لکیریں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔

وہیں چرند پرند کے بھی اپنے گھونسلے اور آشیانے ہوتے ہیں۔جن میں وہ بھی راتیں گزارتے ہیں،ان میں انڈے دیتے ہیں اور بچوں کو بھی جنم دیتے ہیں۔جب تک یہ بچےبڑے نہیں ہوجاتے اورچلنے یا اڑنے کے قابل نہیں ہوجاتے ان کی مائیں ان تک یہاں وہاں سے لالاکر غذا پہنچاتے ہیں اور ان کی پرورش بھی وہ انسانوں کی طرح ہی کرتے ہیں۔

انسانوں نے اپنی آسائش کے لیے بلند و بالا کنکریٹ کی عمارتوں کو بنانے کی غرض سے جہاں جنگلوں،ندیوں اور تالابوں کو نگل لیا وہیں اس نے قدرتی نظام میں مداخلت کرتے ہوئے جہاں ماحولیات کو برباد کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کی مزید تباہی کے سامان پیدا کیے۔وہیں جنگلی جانوروں اور پرندوں کی نسلوں کوبھی برباد کرنےکے پورے سامان پیدا کردئیے۔اب تک مختلف اقسام کے نایاب و نادر چرند اور پرند کی نسلیں حضرت انسان مفقود کرچکا ہے!

ترقی کے نام پرجنگلات کی بےدریغ کٹوائی موجودہ انسانی تاریخ بہت بڑا المیہ ہے،جنگلوں کی موجودگی سے ماحولیات کا توازن برقرار رہتا ہے۔اس سے بہتر بارش کے ساتھ زیر زمین ذخائر آب بھی انسانی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔

جنگلوں،درختوں،ندیوں،نالوں،تالابوں،پہاڑوں اور مٹی کے تودوں کی تباہی نےسارے قدرتی نظام کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے۔جس کی وجہ سے موسم تبدیل ہوتے جارہے ہیں،موسم گرما میں گرمی شدت میں ہر سال اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ماہرین ماحولیات کے انتباہ کے باجود بھی انسان اس جانب دھیان دینے تیار نہیں ہے۔

ایسے میں سوشل میڈیا کےمختلف پلیٹ فارمز پر ایک انتہائی دل شکن ویڈیووائرل ہواہے۔جس میں دیکھاجاسکتا ہےکہ سرکاری حکام اورکنٹراکٹرس کی سنگدلی اور غیرمنصوبہ بندی کے ساتھ ایک ہرے بھرے درخت کو آن واحد میں جے سی بی مشین کی مدد سے گرائے جانے کے بعد اس درخت پراڑان بھرنے کے قابل موجود پرندے جہاں اپنے آشیانوں سے محروم ہوگئے۔وہیں اس درخت پر موجود پرندوں کے کئی گھونسلے،ان گھونسلوں میں موجود ان کے سینکڑوں نوزائید بچے اور انڈے سڑک پر گرگر ہلاک اور تباہ ہوگئے۔

پرندوں کے گھونسلوں کی تباہی پر نامور شاعر راجیش ریڈی نے کبھی کہا تھا کہ؎

یوں دیکھیے تو آندھی میں بس اک شجر گیا 

لیکن نہ جانے کتنے پرندوں کا گھر گیا 

یہ المناک واقعہ کیرالہ کے ملاپورم ضلع کاہے جہاں قومی شاہراہ کی توسیع کی غرض سے ایک ہرے بھرے درخت کو کاٹ کرآن واحد میں جے سی بی مشین کے ذریعہ گرادیا گیا۔

اس افسوسناک واقعہ کا 44 سیکنڈ پرمشتمل ویڈیو انڈین فاریسٹ سروس IFS کےعہدیداروں پروین کسوان اورسوسنتا نندانے جمعہ 2 ستمبر کو ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔جس کے بعد یہ ویڈیوسوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگیا۔اس واقعہ پرسوشل میڈیا صارفین شدید غم وغصہ کا اظہار کررہے ہیں۔

آئی ایف ایس عہدیدار پروین کاسوان Parveen Kaswan IFS@نے اس ویڈیو کے ساتھ اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”ہر ایک کو گھر چاہئے،ہم کتنے ظالم بن سکتے ہیں۔”ان کے اس ویڈیو کو اب تک 1.8 ملین ٹوئٹر صارفین نے دیکھا ہے۔جبکہ اس ویڈیو کو16,100 صارفین نے ری۔ٹوئٹ کیا ہے۔اور 2,526نے اس پر مختلف کمنٹس کیے ہیں۔

ایک مخصوص طبقہ اس دل شکن اقدام کےباعث پرندوں کےبے گھر ہونے،ان کے آشیانے برباد ہونے اور ان کے بچوں کے ہلاک اور گھونسلوں میں موجود انڈوں کے تباہ ہونے پر حکومت کیرالا پر شدید تنقید کر رہا ہے۔وہیں ٹوئٹر صارفین کا ایک اور گروپ نے لکھ رہا ہے کہ "نیشنل ہائی ویز کی توسیع،سڑکوں کو بچھانے اور ان کے راستوں میں آنے والے درختوں،عمارتوں اور دیگر چیزوں کو ہٹانے کا کام نیشنل ہائی وے اتھارٹیز کے عہدیدار کرتے ہیں۔اس میں ریاستی حکومتوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

ٹوئٹر پر اس ویڈیو پرکمنٹ کرتے ہوئےایک صارف نےلکھا ہے کہ”ناقابل قبول،ہم اپنے ماحولیاتی نظام کے اس حصہ کا احترام کرناکب سیکھیں گے۔؟اس کی منصوبہ بندی بہت زیادہ حساس طریقے سے کی جا سکتی تھی۔” جبکہ ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ”چونکا دینےوالا ویڈیو،درختوں کے بغیرمستقبل خوفناک ہے۔غریب پرندے بے گھر ہو گئے۔”

وہیں آئی ایف ایس عہدیدار سوسانتا نندا Susanta Nanda IFS@کی جانب سے اس ویڈیوٹوئٹ کےساتھ لکھاہے کہ”ہم ہمارےگھروں کوجلدی پہنچنے کے لیے،ہم اپنےہم وطنوں کے گھروں کومستقل طور پر تباہ کر دیتے ہیں”۔ان کے اس ویڈیو کوٹوئٹر پر 52,400 صارفین نے دیکھا ہے۔

جو بھی ہو اور غلطی کسی کی بھی ہو یہ واقعہ انتہائی قابل مذمت ماناجارہا ہے اور سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ اس درخت کو اس طرح اچانک گرانے سے قبل کیوں ان پرندوں کی منتقلی کا بندوبست نہیں کیا گیا؟ اور اس کام کے لیے کیوں باقاعدہ ایک منصوبہ تیار نہیں کیا گیا؟ جس کے ذریعہ محکمہ جنگلات کے عہدیداروں اور ملازمین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ان معصوم پرندوں کو دوسرے مقام پر منتقل کرتے ہوئے انہیں بچایا جاسکتا تھا۔