فارورڈنگ اور پوسٹنگ کی لت میں مبتلاءسوشل میڈیا صارفین ہوشیار
پی ڈی ایکٹ کے خلاف راجہ سنگھ کے عدالت سے رجوع ہونے والی اطلاع غلط
حیدرآباد پولیس نے عظیم الدین محسن کو اس کے فیس بک پوسٹ پر گرفتار کرلیا
پولیس کی جانب سے وارننگ اور ملزم کے حلفیہ بیان پرمشتمل ویڈیو جاری
حیدرآباد:03۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ اور فیس بک پر ہر شعبہ کے ماہرین اورمفکرین کی ایک خودساختہ کھیپ جنگلی پودوں کی طرح پیدا ہوجاتی رہی ہے! ہر معاملہ میں قیاسی آرائیوں اور الٹے سیدھے سوالات،قوانین اور دیگر معاملات میں حکومت اور پولیس پر غیرضروری سوال اور انہیں نشانہ بنانا،بالخصوص قوم کو خوفزدہ اور پریشان کرنے والے پروپگنڈہ پرمشتمل پوسٹس لکھنا اور وائرل کرنا ان کی عادت بنتی جارہی ہے۔
قانون،سیاست اورسیاسی داؤپیج سےناواقف چندلوگوں نے اؤٹ پٹانگ،قیاس آرائیوں پرمشتمل غلط خبریں اور اپنی کوتاہ ذہنی پرمشتمل خیالات کو سوشل میڈیا پر لکھنے کو اظہار خیال کی آزادی مان لیا ہے۔
وہیں سوشل میڈیا پر ایک اور دوسری کھیپ بناء سوچے سمجھے ایسے غیر مستند پوسٹس کو خاص کر فیس بک سے لاکر سب سے زیادہ استعمال کیے جانے والے واٹس ایپ پر وائرل کرنا ثواب جاریہ مان کرخوب وائرل کرتی ہے۔جبکہ بارہا مرتبہ یہ انتباہ دیا جاتارہا ہےکہ سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی ذمہ داری کے ساتھ کریں۔کسی بھی واقعہ کو پڑھنے اور سننے کے بعد اس کی چھان بین کرلیں۔
کیونکہ سوشل میڈیا پرحکومتی مشنریوں،پولیس اور انٹلی جنس کی گہری نظر ہے۔پھربھی غیر ذمہ داری کے باعث ایسے لوگ گرفتار ہوتے جارہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں حیدرآباد پولیس نے اکسانے والے مواد کو پھیلانے کے الزام میں 11 بلاگرس کو گرفتار کیا ہے!
راجہ سنگھ کے معاملہ میں چند مسلم خواتین اور نوجوانوں کے ویڈیوز بھی فیس بک اور واٹس ایپ پر وائرل ہوتے ہوتے نیشنل میڈیا تک پہنچ گئے۔جہاں کئی دنوں تک ایک ہتھیار کے طور پر ان کے خلاف ڈیبیٹ چلائی گئیں۔ان کا سوال تھا”سر تن سے جدا” کا نعرہ کیا ہے۔کسی کے بھی خلاف آپ احتجاج اور مذمت ضرور کریں یہ سب کا جمہوری حق ہے۔لیکن احتجاج کا طریقہ مہذب اور شائستہ ہونا لازمی ہے۔گالی گلوچ اور دھمکیاں ناقابل قبول اور قابل گرفت ہوتی ہیں۔
وہیں آج حیدرآباد سٹی پولیس کے ٹوئٹر،فیس بک اور انسٹاگرام پر ایک شخص کا ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے انتباہ دیا گیا ہے کہ”اس سے پہلے کہ آپ یقین کریں ڈبل چیک کریں،یہ سچ ہے یا نہیں؟۔اس ویڈیو میں حیدرآباد سٹی پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ”راجہ سنگھ پر لگائے گئے پی ڈی ایکٹ کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں عرضی داخل کی گئی ہے۔اور جج پیر کو اس پر سماعت کریں گے جوکہ مکمل طور پر غلط ہے”۔
https://www.facebook.com/hyderabadpolice/videos/940955306703552
پولیس نے اس ویڈیو میں سوشل میڈیا صارفین کو انتباہ دیا ہے کہ اس قسم کی جعلی خبروں سے ہوشیار رہیں۔جعلی پوسٹ شیئر کرنے والےاور مسائل پیدا کرنے والوں کوسنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا”۔
اس ویڈیو میں فیس بک پر لکھا گیا ایک پوسٹ بھی پولیس نے دکھایا ہے جوکہ حیدرآباد کےعظیم الدین محسن کی جانب سے پوسٹ کیا گیا تھا تاہم اب یہ پوسٹ عظیم الدین محسن کی فیس بک ٹائم لائن پر موجود نہیں ہے۔
حیدرآناد سٹی پولیس کی جانب سے آج جاری کردہ اس ویڈیو کا آغازایک نوجوان سےہوتا ہے جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ”میرا نام محمدعظیم الدین محسن ہے،آج میں چار بجے ایک پوسٹ کرا تھا کہ راجہ سنگھ کے کیس میں مسلمانوں کے ساتھ کھیل کھیلا جارہا ہے،ٹی آر ایس ایس گورنمنٹ کا بولکے۔”محمدعظیم الدین محسن اس ویڈیو میں کہہ رہا ہے کہ میں غلطی سے وہ پوسٹ کردیا تھا۔میں وہ پوسٹ کے لیے اپولوجائز کررہا ہوں اور آئندہ ایسا نہیں کروں گا میں۔سوری یہ فیک نیوز تھی”۔
دوسری جانب حیدرآباد سٹی پولیس کی جانب سے جاری کردہ اور فیس بک پر وائرل ہونے والے اس ویڈیو پوسٹس کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ محمدعظیم الدین محسن کا تعلق رین بازار،یاقوت پورہ سے ہے۔جنہیں گزشتہ رات ٹاسک فورس(ساوتھ زون) نے اپنی تحویل میں لیتے ہوئے سائبر کرائم اسٹیشن (سی سی ایس ) کے حوالے کردیا۔


