بھوپال میں شدید بارش،کروز شپ جھیل میں غرق
1500 ملی میٹر بارش ریکارڈ،اسکولوں کو تعطیل،ریڈ الرٹ جاری
آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید ترین بارش کی پیش قیاسی
بھوپال:22۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ریاست مدھیہ پردیش میں شدید اور موسلا دھار بارش نے آج تباہی مچادی ہے۔ریاست میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز ہواؤں کے ساتھ 1500 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔دارالحکومت بھوپال میں کئی پیڑ جڑ سے اکھڑگئے اور ان پیڑوں کے گرنے سے کئی گاڑیاں بھی تباہ ہوگئی ہیں اور سڑکیں جھیلوں میں تبدیل ہوگئی ہیں اور نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔مرکزی محکمہ موسمیات کےمطابق بارش کاسلسلہ آئندہ 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا۔اورحالات کو دیکھتے ہوئےحکومت کی جانب سےبھوپال کے تمام تعلیمی اداروں کو تعطیل دے دی گئی ہے۔میڈیا اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ تیز ہواؤں کے باعث بھوپال شہر میں ہی زائداز 100 پیڑ جڑ سے اکھڑ کر گرگئے ہیں۔
ایسے حالات کے دؤران مرکزی محکمہ موسمیات نے آج بھوپال،اجین،جبل پور،رتلام،نیمچ اور مندسورسمیت ریاست مدھیہ پردیش کے 39 اضلاع میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دؤران مزید شدید ترین بارش کی پیش قیاسی جاری کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے۔جس سے عوام کی مصیبتیں مزیر بڑھ گئی ہیں۔
مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال شہرمیں آج پیر کی صبح تیز ہواؤں اور شدیدبارش کےباعث بالائی جھیل(بڑا تالاب) میں ایک کروزشپ پانی میں غرق ہوگئی۔اس جھیل کی لہریں 20 فٹ بلند ہوتی ہوئی دیکھی گئیں۔یہ شہر کاسیاحتی مقام ہے۔شدید بارش کےباعث بھوپال کی سڑکیں زیر آب آگئیں اور عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔
مدھیہ پردیش کے وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان نے عہدیداروں اور عوام کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صورتحال قابو میں ہے۔اور مدھیہ پردیش میں گزشتہ دو دنوں سےمسلسل شدید اور موسلادھار بارش جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ بھوپال،گنا،رائسین،ساگر،جبل پور سمیت کئی اضلاع میں لگاتار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔اور ریاست کے تمام ضلع انتظامیہ کو بارش کے پیش نظر الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے ریاست کےعوام سے اپیل کی ہے وہ ان حالات میں حکومت اورضلع انتظامیہ سے تعاون کریں اور شدیدبارش کےدوران چوکس رہیں۔انہوں نےکہاکہ عوام ایسی جگہوں پر نہ جائیں جہاں پانی جمع ہونےکی صورتحال پیدا ہو۔دریاؤں،تالابوں، ڈیموں وغیرہ جیسی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔اضلاع میں انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پرعمل کریں اورانتظامیہ کےساتھ تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ” نرمدا،شپرا،بیتوا،سندھ اورشیونا سمیت کئی ندیاں خطرے کے نشان پر پہنچ گئی ہیں جب کہ سلائس گیٹ میں پانی کے ذخیرہ کو دیکھتے ہوئے اس ڈیم کے 25 دروازے کھول دئیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ضلع کلکٹرنے خبررساں ادارہ اے این آئی کو بتایا کہ نرمداپورم کا ضلع انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہےکیونکہ دریائے نرمدا تیز رفتاری سے بہہ رہی ہے جس سےنشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔پچھلے دو دنوں میں اس علاقہ میں شدید اورموسلادھاربارش کےبعد ندی کی سطح آب میں اضافہ ہوا ہے۔نرمداپورم میں پانی کی سطح بڑھنے اورخطرے کےنشان کو چھونے کےبعد انتظامیہ چوکس ہے۔کیونکہ اس کی سطح خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کے مزید بڑھنے اور سیلاب کی صورت حال پیدا ہونے کی صورت میں ہم صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔اور پہلے ہی اس علاقہ کے عوام کومحفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔


