کوویڈ کی چوتھی لہر جان لیوا اور تباہ کن نہیں ہوگی
عوام خوفزدہ نہ ہوں،حکومت حالات سے نمٹنے تیار
ڈائرکٹر محکمہ ہیلت تلنگانہ سرینواس راؤ کا بیان
بوسٹر ڈوز دئیے جانے کے معاملہ میں تلنگانہ سرفہرست
حیدرآباد: 24۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
جنوری/فروری 2020ءمیں چین کے شہر اوہان سےشروع ہونے والی کورونا وباء کی تین لہروں نے پوری دنیا کو دہلاکر رکھ دیاتھا۔پہلی اور دوسری لہر میں لاکھوں امواتیں ہوئیں،اور کروڑوں لوگ صحتیاب بھی ہوئے۔گزشتہ سال کوونا وبامیں کمی کےبعد عام زندگی دو،ڈھائی سال کے بعد بحال ہوئی۔
اسی دؤران جاریہ سال 2022ءکے اختتام کے قریب چین میں کورونا وائرس کی ایک اورشکل اومی کرون بی ایف۔7سے لاکھوں کروڑوں عوام کے متاثر ہونے،ہسپتالوں اور ادویات کی قلت کی اطلاعات میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔چین کےساتھ ساتھ جاپان اور دیگر ممالک سے بھی کوویڈ وبا کے تیزی کے ساتھ پھیلنے کی اطلاعات زیر گشت ہیں۔جس سے عوام میں پھر ایک بار خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔
چین اور دیگر چند ممالک سے ایسی اطلاعات کے بعد مرکزی حکومت نے ریاستوں کو احتیاطی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
وزیراعظم نریندرمودی نے دو دن قبل ہی اس سلسلہ میں ایک جائزہ اجلاس منعقد کیاتھا۔تاہم مرکزی یاریاستی حکومتوں کی جانب سے کوویڈ قواعد پر عمل آوری کے لیے سختی کے ساتھ گائڈ لائن جاری نہیں کی گئی ہے۔!
تاہم آج بروز ہفتہ مرکزی وزیرصحت من سکھ مانڈویا نے اعلان کیا ہے کہ چین اور جاپان کے ساتھ ساتھ ہانگ کانگ ،تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا سے ہندوستان پہنچنے والے مسافرین کا ہوائی اڈوں پر ہی لازمی طور پر آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کیا جائے گا۔اور اگرکسی بھی مسافر میں ایسی کوئی علامات پائی جائیں تو انہیں کورنٹین (الگ تھلگ) رکھا جائے گا۔
وہیں دوسری جانب سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ پر ایسے ویڈیوز وائرل ہیں جن میں نظرآنے والے ہندوستانی نوجوانوں کی جانب سےکہا جا رہا ہے کہ چین میں کوویڈ کی جو خبریں ہندوستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں ویسے تباہ کن حالات چین میں نہیں ہیں۔ان ویڈیوز میں کہا جارہا ہے کہ کوویڈ کی وباء اب چین میں عام ہے لوگ متاثر ہورہے ہیں اور اپنے مکانات میں ہی صحتیاب بھی ہورہے ہیں اس لیے عوام کو خوفزدہ ہونے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (سحر نیوزکے پاس یہ ویڈیوز موجود ہیں تاہم ان ویڈیوز کی تصدیق سے ہم قاصر ہیں)
اسی دؤران ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ و فیملی حکومت تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے آج ریاست کے عوام کومشورہ دیا ہے کہ وہ کوویڈ کی چوتھی لہر کی اطلاعات سے ہرگز خوفزدہ یا پریشان نہ ہوں۔
یادادری مندر میں خصوصی پوجا کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ و فیملی حکومت تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤنے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں کوویڈ کی تینوں لہروں سے بہتر انداز میں نمٹا گیا تھا،اموات شرح بھی دیگر ریاستوں کے مقابلہ میں کم ہی رہیں تھی۔انہوں نے کہ کورونا کی چوتھی لہر کے امکانات کے بعد سے ریاستی حکومت اور محکمہ صحت مکمل طور پر تیار ہیں۔
ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ و فیملی حکومت تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے بتایا کہ ریاستی وزیرصحت ٹی۔ہریش راؤ کے ساتھ اس سلسلہ میں ایک جائزہ اجلاس منعقد کیاجاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوویڈ کی چوتھی لہر سے نمٹنے کے لیے ہر ممکنہ اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔
ساتھ ہی ڈائرکٹرمحکمہ ہیلتھ و فیملی ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے کہاکہ کوروناوباء کی چوتھی لہر بہت زیادہ تباہ کن یا جان لیوا نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس سے انسانی صحت پر کوئی خاص اثرات بھی مرتب نہیں ہوں گے۔
ڈائرکٹر محکمہ ہیلت و فیملی جی۔سرینواس راؤ نےعوام کو مشورہ دیا کہ وہ اس معاملہ میں ہرگز خوفزدہ یا پریشان نہ ہوں بلکہ حسب معمول اطمینان و سکون کے ساتھ اپنی روزمرہ کی مصروفیات جاری رکھیں۔

دوسری جانب وزیرصحت و فینانس حکومت تلنگانہ ٹی۔ہریش راؤ نے آج رات ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹ میں کوویڈ ویکسین اور بوسٹر ڈوز دئیےجانے کے اعداد وشمار پرمشتمل چارٹ پیش کرتے ہوئےلکھا ہے کہ”بوسٹر ڈوز دئیے جانے کے معاملہ میں ریاست تلنگانہ اول نمبر پر ہے جو کہ انتہائی خوشی کی بات ہے۔اور یہ وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ کی دور اندیشی کے باعث ہی ممکن ہوپایا ہے۔”اور اس کے لیے شعور بیداری پروگرام محکمہ صحت کی خدمات بھی لائق ستائش ہیں”۔
اپنے ایک اور ٹوئٹ میں وزیرصحت تلنگانہ ٹی۔ہریش راؤ نے لکھا ہے کہ چین سمیت دیگر ممالک میں کوویڈ کے نئے ویرینٹ کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے لازمی ہوگیاہے کہ تمام اہل (18 سال مکمل کرچکے افراد) بوسٹر ڈوز لیں۔انہوں نےلکھاہےکہ اس سےقبل ہی مرکزی حکومت سے نمائندگی کی جاچکی ہےکہ ریاست تلنگانہ کےلیے بوسٹر ڈوز جاری کی جائیں۔امید ہے کہ جلد ہی حسب ضرورت بوسٹر ڈوز فراہم کیے جائیں گے۔ "

ملک بھر میں بوسٹر ڈوز کی بات کی جائےتواب تک 23.8 فیصد آبادی کو بوسٹر ڈوز دئیےجاچکے ہیں۔اس فہرست میں تلنگانہ ریاست نے اول مقام حاصل کیا ہے،جہاں 47.6 فیصد آبادی کو بوسٹر ڈوز دیا جاچکا ہے۔اس معاملہ میں آندھراپردیش دوسرےمقام پرہے جہاں 46.3 فیصد افراد کوبوسٹر ڈوز دیاگیاہے۔اس کےبعد ہماچل پردیش میں 41.7 فیصد،اڑیسہ میں 40.6 فیصد،گجرات میں 36.9 فیصد،چھتیس گڑھ میں 38.3 فیصد،اترپردیش میں 30.4 فیصد،اتراکھنڈ میں 27.4 فیصد،مدھیہ پردیش میں 24.8 فیصد اور دہلی میں 22.3 فیصد آبادی کو بوسٹر ڈوز دئیے جاچکےہیں۔تلنگانہ اور آندھراپردیش کے بعد یہ ریاستیں تیسرے تا دسویں مقام پر ہیں۔

