تلنگانہ : جگتیال کا نوجوان ڈرائیورکروڑ پتی بن گیا، دبئی میں 30 کروڑ روپئے کی لاٹری

کبھی میں اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے نہیں اُلجھا
مجھے معلوم ہےقسمت کا لکھا بھی بدلتا ہے

تلنگانہ:جگتیال کا نوجوان ڈرائیورکروڑ پتی بن گیا
دبئی میں 30 کروڑ روپئے کی لاٹری

حیدرآباد: 23۔ڈسمبر (سحرنیوزڈاٹ کام)

قسمت کب،کس پر اور کہاں مہربان ہوجائے یہ کسی کو پتہ نہیں ہوتا۔کئی ایسے بھی لوگ ہمارے آس پاس موجود ہوتے ہیں جوکبھی وقت کے رئیس ہواکرتےتھے اور جن کی حویلیوں میں سینکڑوں ملازم کام کرتے تھے،لیکن قسمت اور تقدیر کا کھیل کہ آج وہ خود ملازمتوں پرنظر آتے ہیں۔زیادہ تر کی سوچ ہےکہ محنت اور ایمانداری کے ساتھ دولت کمانا اب مشکل کام بن کر رہ گیا ہے لیکن یہ آج بھی ناممکن نہیں ہے۔کسی بھی شعبہ کولےلیں بے ایمانی،جھوٹ اور دھوکہ دہی عام نظر آتی ہے۔اور اس کے لیے ایسے لوگ بھی موجود ہیں انہیں غلط طریقہ نہیں مانتے۔!

ایسے میں دبئی سے ایک ایسی خبر آئی ہے کہ جہاں ایمانداری اور محنت کے ساتھ اپنے ماں باپ،بہن بھائیوں،گھر بار،اور ملک کوچھوڑکر روزی روٹی کمانے کے لیے دبئی گیا ہوا ایک نوجوان جو کہ پیشہ سے ڈرائیور ہے اچانک کروڑ پتی بن گیا۔جہاں لکی ڈرا میں اس کے نام پر 30 کروڑ روپئے کی لاٹری لگ گئی۔

تفصیلات کے مطابق ریاست تلنگانہ کےضلع جگتیال کے بیر پور منڈل کےموضع تنگور کے ساکن اوگولا دیو راجیم اور پریملا کا نوجوان بیٹا اوگولا اجئے چار سال قبل روزگار کےحصول کے لیے دبئی روانہ ہوا تھا۔اطلاعات کے مطابق اجئے دبئی کے ایک جیولری ادارہ میں بحیثیت ڈرائیور خدمات انجام دے رہا ہے۔اور اس کی ماہانہ تنخواہ 3،200 درہم ہے۔

اسی دؤران اوگولا اجئے نے چند دنوں قبل 30 درہم ادا کرکےقسمت آزمائی کرتے ہوئے دبئی میں سرکاری اجازت سے چلائی جانے والی ایمریٹس لکی ڈرا کے دو ٹکٹ خرید لیے۔قسمت اجئے پر مہربان ہوگئی اور ان میں سے ایک ٹکٹ پر اوگولا اجئے کو ایک کروڑ 50 لاکھ درہم کی لاٹری لگ گئی۔جس کی جملہ مالیت ہندوستانی روپیوں میں 30 کروڑ روپئے ہوتی ہے۔

لکی ڈرا کے منتظمین نے انعام یافتہ اجئے کو یہ رقم ادا کی۔جس کے بعد خوشی اور مسرت سے دوچار اجئے نے جگتیال ضلع کے موضع تنگور میں موجود اپنے والدین اور رشتہ داروں کو اس انعام کی رقم کی اطلاع دی۔جس کی بعد ان کے چہرے بھی کھل اٹھے کہ چلو اب غربت کی زندگی ختم ہونے کو ہے۔اوگولا اجئے کولاٹری میں 30 کروڑ روپئے حاصل ہونے کی اطلاع پر اس کے تمام دوست احباب اور رشتہ داروں کے علاوہ پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دؤڑ گئی ہے۔اور سوشل میڈیا پر یہ اطلاع زیر گشت بھی ہے۔

وضاحت /التماس 

زیادہ تر معزز قارئین کو شکایت ہے کہ سحرنیوز پر صرف چنندہ اور اہم خبروں کا ہی کیوں احاطہ کیا جاتا ہے؟ کیوں ہر واقعہ کو کور نہیں کیا جاتا؟

تو ہمارا خیال ہےکہ ویب پورٹل کی اپنی ایک اہمیت و افادیت ہے۔جس کے ذریعہ ملک و قوم کو جوڑے رکھنے کا کام کیا کیا جائے۔ادارہ سنسنی خیز سرخیوں کے ساتھ مختصر و مبہم خبروں کو قارئین کے حق میں بہتر نہیں سمجھتا جو کسی اخبار کے ایک کالم میں بھی شائع ہونے کے قابل نہیں ہوتیں۔!!

ہمارے اپنے ریکارڈ کے مطابق 98 فیصد ٹریفک موبائل فون کے ذریعہ آتی ہے۔اور الحمد للہ معزز قارئین کی ہمت افزائی کے باعث ہی سحرنیوز نے انتہائی کم عرصہ میں بشمول گوگل ہر پلیٹ فارم پر بہترین رینکنگ حاصل کی ہے۔قارئین خود گوگل اور دیگر ویب سائٹس کا ریکارڈ جمع کرنے والے پلیٹ فارمز/ویب سائٹس پر دیکھ سکتے ہیں۔

سحرنیوز ڈاٹ کام کا کسی سے بھی کوئی مقابلہ نہیں ہے۔اور نہ ہی ہم کسی اور ویب سائٹ سے تقابل کو بہتر مانتے ہیں۔کیونکہ سب کا خبروں کے انتخاب اور پیشکش کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے۔

یہاں ہم یہ بھی واضح کر دیں کہ جرائم، حادثات،عصمت ریزی، قتل اور خودکشی کےواقعات کو سحرنیوز پر نہ کہ برابر جگہ دی جاتی ہے۔کیونکہ ہر کسی کے اعصاب مضبوط نہیں ہوتے۔

وہیں ماہرین کے مطابق کوویڈ کی وبا کے بعد سے اور موجودہ حالات میں ہر تیسرا شخص مختلف ذہنی پریشانیوں اور انتشار کا شکار ہے۔اب دوبارہ کوویڈ وباء کے پھیلاؤ کی خبروں سے عوام خوفزدہ ہیں۔

ایسے مواقع پر ذمہ دار صحافت کا فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کو اس خوف کے ماحول میں حوصلہ دیں،انہیں غیر ضروری مزید اندیشوں کا شکار نہ بنائیں۔ایسے میں ہم بھی اگر ایسی ہی خبریں ان کے موبائل تک پہنچارہے ہیں تو یہ صحافت نہیں بلکہ صرف اپنے کاروبار کی فکر ہے۔!؟کیونکہ پتہ نہیں کونسا قاری کس موڈ اور کونسی پریشانی کا شکار ہو۔؟

دوسری جانب صبح سے رات تک ہر دس منٹ میں ایک لنک شیئرکرنا گروپس کی اہمیت کو گھٹاکر اسے ڈمپنگ یارڈ بنانے کےمماثل ہے۔یہ عمل زیادہ تر واٹس ایپ اور فیس گروپ کے ارکان کو ناگوار گزرتا ہے۔چند ایک گروپ میں اس کا اظہار بھی کیاجاتا ہے،بعض خاموش رہنے کو ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ہمارا مشاہدہ ہے کہ زیادہ قارئین اب حد سے زیادہ سیاسی اور دیگر غیر ضروری خبروں کو ترجیح دینا چھوڑ چکے ہیں۔!!

 ہمارا مقصد معاشرہ میں مثبت سوچ پیدا کرنا،مختلف تفریحی اور سبق آموز فیچرس اور نیوز اسٹوریز کے ذریعہ معزز قارئین کی ذہنی پریشانیوں کو کم کرنا ہے ناکہ ان میں اضافہ کرنا۔

سحر نیوز ڈاٹ کام کے ذریعہ منافع کمانا یا اس کو بزنس کا ایک ذریعہ بنانا ہمارا مقصد ہرگز نہیں ہے،صرف کوشش یہی ہے کہ ایک معیاری اور غیر جانبدار اردو ویب سائٹ قارئین کے درمیان اپنی منفرد شناخت قائم رکھے تاکہ آپ کا تعاون ہمیشہ ہمارےساتھ رہے۔

قارئین کی پذیرائی اورحوصلہ افزائی کے لیے ادارہ ان تمام بہی خواہان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔امید کہ آپ کا تعاون جاری رہے گا۔