کیا دہشت گردوں سے ملاقات کے لیے مسکان خان بیرون ملک گئی ہیں؟ چند کنڑا نیوز چینلوں کا مذموم پروپگنڈہ

کیا دہشت گردوں سے ملاقات کے لیے مسکان خان بیرون ملک گئی ہیں؟
 چند کنڑا نیوز چینلوں کا مذموم،قابل اعتراض اور نفرت انگیز پروپگنڈہ

بنگلورو: 12۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

کرناٹک کے مانڈیا کی ساکن”حجاب گرل مسکان خان”کے خلاف ان دنوں چند کنڑا نیوز چینلوں اور چند ویب سائٹس کی جانب سے مذموم،قابل اعتراض اور نفرت انگیز مہم چلائی جارہی ہے۔

ان کنڑا چینلوں کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ”مسکان خان بیرون ملک چلی گئی ہیں۔اس منافرتی میڈیاکے ایک گوشہ نےسوالیہ نشان کے ساتھ سوال کیاہے کہ” شاید وہ دہشت گردوں” سے ملنے گئی ہوں گی؟۔

فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمدزبیر Mohammed Zubair@ نے اس سلسلہ میں ان کنڑا نیوز چینلز کے اسکرین شاٹس کے ساتھ گزشتہ رات 20-11 بجے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”ابھی ان سے بات ہوئی،وہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئی ہوئی ہیں اور اس وقت وہ مدینہ منورہ میں ہیں”۔

اس سلسلہ میں محمدزبیر نے مسکان خان کے ساتھ واٹس ایپ پر کی گئی چیاٹ کا اسکرین شاٹ بھی ٹوئٹ کیا ہے۔جس میں انہوں نے کنڑا چینل کے ایک لنک کو ان کے ساتھ شیئر کیا ہے۔جس کے جواب میں مسکان خان نے لکھا ہے کہ”میں مدینہ میں ہوں،ہاں مجھے معلوم ہوا،ہمارے ایس پی صاحب نے اس معاملہ میں بات کی ہے اور انہوں نے بیان بھی جاری کیا ہے”۔ 

اپنے اس ٹوئٹ میں محمدزبیر نے”مانڈیا پولیس” اور”ڈی جی پی کرناٹک” کو ٹیاگ کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ”کیا لڑکی کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ چلانے والے ان کنڑا نیوز چینلوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی؟یہ خبریں اب”دائیں بازو”کے فیس بک پیجز کے ذریعہ شیئر کی گئی ہیں۔ساتھ ہی اس ٹوئٹ میں محمدزبیر نے Hate Watch Karnataka@ کوبھی ٹیاگ کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کیا ان نیوز چینلوں کے خلاف مقدمہ درج ہوسکتا ہے؟

آلٹ نیوز کے محمدزبیر نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں ان تینوں کنڑا نیوز چینلوں کو بھی ٹیاگ کیا ہے جو مسکان خان کے خلاف جھوٹا اور نفرت انگیز پروپگنڈہ چلارہے ہیں۔جن میں btvnewslive – @powertvnews@ اور publictvnews@ شامل ہیں۔

غیرجانبدار اور آزاد میڈیا ادارہ Kroordarshak@ نے محمدزبیر کے اس ٹوئٹ پر مسکان خان کی کعبتہ اللہ شریف میں لی گئی تصویر کو اپنے کمنٹ میں شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”ان نیوز چینلوں کا”آئی کیو”(عقل و ذہانت) ایک آدمی کے پوچھے گئے سوال سے کم ہے کہ” آپ آم کیسے کھاتے ہیں”؟ کم ازکم گوگل کو آزمائیں”۔وہیں 

وہیں Hate Watch Karnataka@نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ” مانڈیا ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ یتیش اے این نے کہا ہے کہ مسکان کو کسی بھی ملک کا دورہ کرنے کے لیے پولیس سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی شکایت درج کروائی گئی ہے”۔

محمد زبیر نے اس معاملہ میں اپنے ایک اور ٹوئٹ میں”قومی مینارٹی کمیشن”،کمیشن کے چیئرمین اقبال سنگھ لال پورہ اور مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کو بھی ٹیاگ ان سے پوچھا ہے کہ”کنڑا نیوز چینل کرناٹک کی ایک مسلم لڑکی کے خلاف خطرناک پروپگنڈہ چلا رہے ہیں۔کیا ہم ایسے نفرت انگیز چینلوں کے خلاف کسی کارروائی کی توقع کرسکتے ہیں؟

 

" 8 فروری کومانڈیا کے ایک کالج میں مسکان خان کے خلاف پیش آئے واقعہ کا ویڈیو اور تفصیلات اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہیں"

کرناٹک کے کالج میں حجاب مخالف لڑکوں کا جئے شری رام کے نعروں کے ساتھ تعاقب، تنہا برقعہ پوش طالبہ مسکان خان نے لگایا اللہ اکبر کا نعرہ