تاج محل کے 22 کمرے کھولنے کی درخواست پرالہ آباد ہائی کورٹ کے کئی دلچسپ ریمارک، اپیل کے حق کو مذاق نہ بنائیں

تاج محل کے 22 کمرے کھولنے کی درخواست مسترد
الہ آباد ہائی کورٹ کے کئی دلچسپ ریمارک،اپیل کے حق کو مذاق نہ بنائیں
تحقیق کرنے،یونیورسٹی جانے اور پی ایچ ڈی کرنے کا مشورہ
کل کہیں گے کہ ججس کے چیمبرس میں جانے کی اجازت دی جائے

الہ آباد: 12۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے آج جمعرات کو ایک عرضی کو مسترد کر دیا جس میں تاج محل کے کچھ کمروں کو کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ یادگار کی "مبینہ تاریخ” کو باقی رکھا جا سکے۔جب یہ معاملہ معزز جسٹس دیونیدر کمار اپادھیائے اور سبھاش ودیارتھی کی دو رکنی بنچ کے سامنے آیا تو درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ "اطلاع کی آزادی” کی روشنی میں تاج محل کے 22 کمروں کو کھولنے کی اجازت دی جائے۔

معزز ججس کی دو رکنی بنچ نے اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ” کل آپ آئیں گے اور معزز ججوں کے چیمبرز میں جانے کے لیے کی اجازت طلب کریں گے؟ساتھ ہی ججس نے کہا کہ براہ کرم،عدالتوں میں داخل کی جانے والی درخواستوں کے نظم کا مذاق نہ اڑائیں۔”اور اس درخواست کو مسترد کردیا۔

درخواست ایک ڈاکٹر رجنیش سنگھ نے دائر کی تھی،جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ایودھیا یونٹ کا میڈیا انچارج ہے۔اس درخواست میں حکومت کوحقائق تلاش کرنے والی کمیٹی تشکیل دینے اور”اہم تاریخی شواہد کی تلاش” کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تھی،جیسے کہ تاج محل کے ان مقفل کمروں میں مورتیاں اور نوشتہ جات جو مغل بادشاہ شاہ جہاں کے حکم پر تاج محل کے اندر چھپے ہوئے سمجھے جاتے ہیں۔

سماعت کے دوران بنچ نے درخواست گزار سے کہا کہ اس طرح کی بحثیں غیر رسمی ماحول میں خوش آئند ہیں،لیکن عدالت میں نہیں۔معزز جج نے ریمارک کیا کہ”میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں کہ میرے ساتھ ڈرائنگ روم میں بحث کریں نہ کہ عدالت میں”۔

درخواست گزار نے دلیل دی کہ ایک سچائی ہے کہ ملک کے شہریوں کو تاج محل کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔اور میں نے بہت سی آر ٹی آئیز بھی دائر کی ہیں۔مجھے تاج محل کے بہت سے کمروں کے بارے میں معلوم ہوا جن پر قفل لگے ہوئے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ وہ کمرے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بند ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اس بات پر نہیں ہوں کہ زمین بھگوان شیو یا اللہ اکبر کی ہے،‘‘

عدالت نے اس درخواست پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا،”کیا یہ مسائل عدالت میں زیر بحث ہیں؟ کیا ہم ججز تربیت یافتہ اور ایسی چیزوں سے لیس ہیں؟”ججوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی حق کی خلاف ورزی ہو  تب ہی حکم نامے کی رٹ جاری کی جا سکتی ہے،جیسا کہ استدعا کی گئی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے معزز جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے درخواست گزار سے کہا کہ "جاؤ اورتحقیق کرو،ایم اے کرو،پی ایچ ڈی کرو،پھر ایسے موضوع کا انتخاب کرو اور اگر کوئی ادارہ تمہیں ایسے موضوع پر تحقیق کرنے سے منع کرتا ہے تو ہمارے پاس آؤ،براہ کرم ایم اے میں داخلہ لے لو،پھر NET، JRF کے لیے جاؤ اور اگر کوئی یونیورسٹی انکار کرتی ہے۔آپ ایسے موضوع پر تحقیق کریں پھر ہمارے پاس آئیں۔”

ایڈوکیٹ رودر وکرم سنگھ کے ذریعہ دائر کی گئی ڈاکٹر رجنیش سنگھ کی درخواست میں دلیل دی گئی کہ بہت سے ہندو گروپ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ تاج محل ایک پرانا شیو مندر ہے جسے تیجو مہالیہ کے نام سے جانا جاتا تھا،ایک نظریہ جس کی تائید کئی مورخین نے بھی کی تھی۔درخواست میں کہا گیا کہ یہ دعوے ایسی صورتحال کا باعث بنے ہیں جہاں ہندو اورمسلمان آپس میں لڑرہے ہیں اور اس لیے اس تنازعہ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ایڈوکیٹ ردرو وکرم سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ تاج محل کی چار منزلہ عمارت کے اوپری اور نچلے حصے میں 22 کمرے ہیں جومستقل طور پر بند ہیں اور پی این اوک جیسے تاریخ داں اور بہت سے ہندو عبادت گزاروں کا ماننا ہے کہ ان کمروں میں شیو مندر ہے۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ” تیجو مہالیہ "کے حوالے سے اس طرح کے دعوے عدالتوں کے سامنے آئے ہیں۔آگرہ میں 6 وکلاء کی جانب سے دائر ایک مقدمہ کے جواب میں جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تاج محل تیجو محلایا مندرمحل ہے،مرکزی حکومت نے 2017 میں کہا تھا کہ یہ دعویٰ ” من گھڑت” اور "خود ساختہ” ہے۔

 

” الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنئو بنچ کے اس فیصلہ پر بے باک صحافی”اجیت انجم” کا یہ 13 منٹ کا ویڈیو ضرور دیکھیں”

https://www.facebook.com/AnjumAjit/videos/573131767383859/

 

 

نوٹ : ” اس نیوز رپورٹ کی تیاری میں شکریہ کے ساتھ ” بار اینڈ بنچ ” Bar & Bench "سے مدد لی گئی ہے”