منگلور بس اسٹانڈ میں سنگترے فروخت کرنے والے مسلم شخص کو پدم شری ایوارڈ
ناخواندہ "حاجبا” نے گاؤں کے بچوں کے لیے اسکول قائم کرکے مثال قائم کی
منگلور/نئی دہلی:09۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
جنوبی کرناٹک کے منگلور ضلع کے 66 سالہ مسلم شخص ہری کلا حاجبا کو ان کی خاموش اور ناقابل فراموش خدمات پر پیر کے دن راشٹر پتی بھون دہلی میں منعقدہ پرُوقار تقریب میں صدرجمہوریہ ہند مسٹر رام ناتھ کووند کے ہاتھوں ملک کے دوسرے اعلیٰ شہری اعزاز پدماشری ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
ہری کلا حاجبا جنہیں ” اکشرا سانٹا AksharaSanta# ” (لفظوں کے ولی) کہا جاتا ہے،قومی اور بین الاقوامی سطح پر حاجبا کی خدمات کی جم کر سراہنا کی جارہی ہے۔
ہری کلا حاجبا کی ناخواندگی اور ان کی سادہ مزاجی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ یوم جمہوریہ سے چند دن قبل انہیں دہلی سے کسی عہدیدار کا اس وقت فون آیا جب وہ سرکاری راشن کی دُکان پر راشن حاصل کرنے کی غرض سے قطار میں کھڑے ہوئے تھے۔
دہلی سے آنے والے فون پر ہندی میں بات کی جارہی تھی تو ہری کلا حاجبا پریشان ہوگئے اور ہندی سے ناواقف حاجبا نے فوری اپنا فون وہاں موجود آٹو رکشا ڈرائیور عباس کو دے دیا جنہوں نے اس عہدیدار سے ہندی میں بات کی۔
بعدازاں عباس نے انہیں بتایا کہ انہیں حکومت ہند کی جانب سے "پدماشری ایوارڈ "کے لیے منتخب کیاگیاہے۔جس کی تصدیق کے لیے حاجبا نے بنگلور کا سفر کیا اور وہاں ایک جرنلسٹ کو یہ واقعہ سناتے ہوئے دہلی سے آئے فون کا نمبر انہیں دیا تو اس جرنلسٹ نے فون پر دہلی کے اس عہدیدار سے بات کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کیں اور تصدیق کی کہ حاجبا کو اس سال پدم شری ایوارڈ دیا جارہا ہے۔
ہری کلا حاجبا کون ہیں؟اور انہوں نے ایسی کونسی خدمات انجام دی ہیں جنہیں پدماشری اعزاز سے نوازا گیا ہے؟
تو اس کا جواب یہ ہے ہری کلا حاجبا جن کا مسلم گھرانے سے تعلق ہے جنوبی کرناٹک کے منگلور شہر کے بس اسٹانڈ اور اس کے اطراف 1977 سے سنگترے فروخت ہیں غربت کی وجہ سے بچپن میں وہ کبھی اسکول نہیں گئے،ناخواندہ ہیں۔” لفظوں کے ولی” کے طور پر مشہور سنگترہ فروش ہری کلا حاجبا کو یہ پدماشری ایوارڈ منگلور کے ہری کلا نیوپا ڈپو گاؤں میں ایک اسکول کی تعمیر کرکے دیہی تعلیم میں انقلاب لانے پر دیا گیا ہے۔اس اسکول میں اس وقت گاؤں کے 175 پسماندہ طلبہ زیرتعلیم ہیں۔
” پدماشری ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے منگلور سے بذریعہ ہوائی جہاز دہلی کے سفر کے لیے روانہ ہورہے حاجبا ”
حاجبا کنڑا زبان کے علاوہ اور کوئی دوسری زبان سے واقف نہیں ہیں تاہم وہ نماز اور روزہ کے پابند سادگی کے ساتھ زندگی بسرکرتے ہیں۔
اپنی ناخواندگی سے پریشان حاجبا کو 1978 میں اس وقت شدید پشیمانی کاسامنا کرنا پڑا جب ایک غیر ملکی انگریز جوڑے نے یہ پوچھ کر ان کا مذاق اڑایا کہ سنگترے کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں؟
اسی وقت حاجبا نے طئے کرلیا کہ وہ اپنے پاس جمع رقم سے ہریکلا-نیوپاڈپو گاؤں کے بچوں کے لیے اسکول قائم کرکے ہی رہیں گے۔پھر گاؤں کے ذمہ داران سے مشورہ کرنے کے بعد انہوں نےمسجد کے قریب موجود عربی مدرسہ میں ہی بچوں کو پرائمری اسکول کی طرز پر تعلیم کے آغاز کے لیے انہوں نے گاؤں والوں اور دیگر افراد سے چندہ جمع کیا اکٹھا کیا۔

اس کے بعد ہری کلا حاجبا کا روز کا معمول بن گیا کہ وہ دوپہر تک بس اسٹانڈ پر سنگترے فروخت کرتے اور بقیہ وقت اس اسکول کے لیے چندہ جمع کرنے اور اسکول کے کاموں کے لیے وقف کردیتے۔مدرسہ میں پرائمری اسکول قائم کرنے کے بعدانہوں نے اپنی کوششوں سے اسے سرکاری پرائمری اسکول کادرجہ حاصل کیا۔
حاجبا نے سرکاری عہدیداروں،عوامی نمائندوں اور دیگر افراد کی مدد سے اس پرائمری اسکول کو ترقی دی۔ہری کلا حاجبا کی زندگی اور ان کی خدمات یقیناً ناقابل فراموش اور دیگر کے لیے ایک مشعل راہ ہیں۔
پدماشری ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد پدماشری ہری کلا حاجبا نے خبررساں ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ”چونکہ میں غیرملکیوں کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکتا تھا،مجھے برا لگا اور میں نے گاؤں میں ایک اسکول بنانے کا فیصلہ کرلیا”۔

اسی دؤران انکشاف ہوا کہ انہیں ایک میڈیا ادارے کی جانب سے رئیل ہیرو کا خطاب عطا کرتے ہوئے ان کی خدمات پر پانچ لاکھ روپئے نقد انعام دیا گیا جس سے انہوں نے دیڑھ ایکڑ اراضی خریدتے ہوئے اسکول کی عمارت تعمیر کروائی اور پھر اس پرائمری اسکول کو ہائی اسکول تک ترقی دی۔اب حاجبا کا خواب ہے کہ وہ کالج قائم کریں۔ہری کلا حاجبا کی ان خدمات پر انہیں کئی ایوارڈس حاصل ہوچکے ہیں۔
جب سے ہری کلا حاجبا کو پدماشری ایوارڈ حاصل ہوا ہے تب سے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمس پر ان کی خدمات اور ان کے جذبہ کی ستائش کرتے ہوئے تعریفوں کے پھول برسائے جارہے ہیں۔

ان کی مختلف تصاویر اور ویڈیوس سوشل میڈیا پر ایک ہیرو کی طرح وائرل بھی ہورہی ہیں اور ہونی بھی چاہئے کیونکہ اس ملک کے مستحق اور غریب بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنا جن کی ذمہ داری ہے وہ کسی اور کام میں لگے ہوئے ہیں!!
All Video Links And Photos Courtesy: @Instagrams Verious Accounts

