کپتان ویراٹ کوہلی کی دس ماہ کی بیٹی کے ریپ کی دھمکی دینے والے رام نگیش کوممبئی پولیس نے حیدر آباد سے گرفتار کرلیا

کپتان ویراٹ کوہلی کی دس ماہ کی بیٹی کے ریپ کی دھمکی دینے والے
رام نگیش الی باتھینی کوممبئی پولیس نے حیدرآباد سے گرفتار کرلیا

حیدرآباد: 10۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

ٹوئٹر پر ایک فیک آئی ڈی کے ذریعہ ٹیم انڈیا کے کپتان ویراٹ کوہلی کی دس ماہ کی بیٹی کی عصمت ریزی کی دھمکی دینے والے ایک حیدرآبادی نوجوان کو ممبئی سائبر کرائم پولیس نے تحقیقات کے بعد آج حیدرآباد سے گرفتار کرتے ہوئے ممبئی منتقل کیا ہے۔

اس نوجوان کی شناخت رام نگیش الی باتھینی 23 سالہ کے طور پر ہوئی ہے۔جعلی آئی ڈی کے ذریعہ ویراٹ کوہلی کو اتنی سنگین دھمکی دینے کے ملزم رام نگیش کی حیدرآباد سے گرفتاری نےسنسنی پیدا کردی ہے اور اس سے تلنگانہ اور حیدرآباد کی بدنامی ہوئی ہے۔حکومت اور حیدرآباد سٹی پولیس سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے اور دھمکیاں دینے والے ایسے مزید چہروں کی فوری شناخت کی جائے۔

اس آئی ڈی سے کپتان ویراٹ کوہلی کی اہلیہ و فلم اداکارہ انوشکا شرما کو باقاعدہ ٹیاگ کرتے ہوئے ان کی دس ماہ کی معصوم بیٹی کے "ریپ” کی دھمکی دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ ٹی۔20 ورلڈ کپ کے میچ میں ہندوستانی ٹیم کی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں شکست کے بعد ہندوستانی بالرمحمدشامی کو سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر انتہائی گھٹیا انداز میں ٹرول کیا گیا تھا۔محمد شامی کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹ پر باقاعدہ ان کے خلاف کمنٹ کرتے ہوئے انتہائی فحش لفظوں میں انہیں دھمکیاں دی گئی تھیں۔

جس کے بعد ٹیم انڈیا کے کپتان ویراٹ کوہلی نے دوبئی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مذہب کی بنیاد پر محمد شامی کو ٹرولنگ کیے جانے کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ٹیم انڈیاکی 200 فیصد تائید محمد شامی کو حاصل ہے اور محمد شامی کے خلاف گالی گلوچ کرنے والے، ان کی تذلیل کرنے والے اور انہیں پاکستانی قرار دینے والے ذہنی دیوالیہ پن کے شکار ہیں۔

ویراٹ کوہلی کی دس ماہ کی بیٹی کی عصمت ریزی کی دھمکی دینے والے رام نگیش کی حیدرآباد سے گرفتاری کے بعد رکن راجیہ سبھا شیوسینا پرینکا چترویدی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” پاکستان سے نہیں لیکن حیدرآباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔”

اس بیان کے بعد ٹیم انڈیا کے کپتان ویراٹ کوہلی کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا آغاز کردیا گیا ان کے خلاف بھی انتہائی درجہ کے گھٹیا کمنٹس اور دھمکیاں دی گئیں اور باقاعدہ دو تین دن تک یہ مہم ہزاروں میں ٹرینڈ کرتی رہی۔ 

اسی دؤران آمینہ نامی ایک فیک ٹوئٹر آئی ڈی سے ٹوئٹ کیا گیا تھا کہ "ویراٹ کوہلی کی دس ماہ کی بیٹی وامیکا کی تصویر کا انتظار ہے اس کی عصمت ریزی کرنے کے لیے!

جس کے بعد کئی اہم شخصیتوں اور ٹوئٹر صارفین نے اس ٹوئٹ کی شدید مذمت کی وہیں دہلی مہیلا کمیشن نے بھی اس دھمکی کا سخت نوٹ لیتے ہوئے ممبئی پولیس کو ایک نوٹس ارسال کیا اور ہدایت دی کہ فوری اس ٹوئٹ کرنے والے کے خلاف کارروائی کی جائے اس کو گرفتار کرتے ہوئے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

جب اس ٹوئٹ کی بہت زیادہ مذمت شروع ہوئی تو فوری طورپر اس ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کردیا گیاتھا تاہم اس کے اسکرین شاٹس وائرل ہوگئے تھے۔اس وقت سوشل میڈیا پر موجود ایک مخصوص ذہنیت کی ٹرول آرمی جن کا کام ہی صبح سے رات تک اور رات سے صبح تک نفرت اور جھوٹ پھیلانا ہے نے یہ پروپگنڈہ شروع کردیا کہ " آمینہ نام کی آئی ڈی پاکستانی ہے "۔ تاکہ اس معاملہ کو سرد کیا جاسکے!!

جس پر فیاکٹ چیکنگ ماہرین کی ٹیم پرمشتمل ” آلٹ نیوز ” نے اپنی تیکنیکی صلاحیتوں کے ذریعہ یہ واضح کردیا کہ آمینہ نام کی یہ فیک آئی ڈی پاکستان سے نہیں بلکہ ہندوستان سے ہی چلائی جاتی ہے اور یہ فیک نام سے چلائی جانے والی آئی ڈی ٹوئٹر پر منافرت پھیلانے میں مصروف ہے۔

اسی دؤران ” آلٹ نیوز ” AltNews# کے معاون فاؤنڈر محمدزبیر نے اپنے ایک ٹوئٹ کے ذریعہ انکشاف کیا ہے کہ آج گرفتار کیا گیا رام نگیش اپنی اس ٹوئٹر آئی ڈی کو مختلف نام دیا کرتا تھا جس کا تعلق رائٹ وِنگ سے ہے!! 

وہیں ایک اور فیاکٹ چیکنگ ویب سائٹ ” بوم ” نے انکشاف کیا تھا کہ آمینہ نام کی ٹوئٹر آئی ڈی تلنگانہ کے حیدرآباد سے چلائی جارہی ہے۔ممبئی پولیس کی جانب سے گرفتار کیا گیا حیدرآباد کا ساکن رام نگیش الی باتھینی پیشہ سے سافٹ ویئر انجنیئر اور بیروزگار بتایا گیا ہے۔

” محمد شامی کی تائید میں دیا گیا کپتان ویراٹ کوہلی کا ویڈیو اور بیان "سحر نیوز ” کی اس لنک کو کلک کرکے دیکھا جاسکتا ہے "

مذہب کے نام پر کسی پر حملہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے: کپتان ویراٹ کوہلی نےمحمد شامی کا دفاع کیا