مذہب کے نام پر کسی پر حملہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے: کپتان ویراٹ کوہلی نےمحمد شامی کا دفاع کیا

مذہب کے نام پر کسی پر حملہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے
سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر محمد شامی پر فرقہ وارانہ بدسلوکی کی مذمت 
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی نےمحمد شامی کا دفاع کیا

دوبئی/نئی دہلی :30۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی نے اتوار کو دوبئی میں ٹی۔20 ورلڈ کپ میچ میں پاکستان کے ہاتھوں ٹیم کی 10 وکٹوں سے شکست کے بعد سوشل میڈیا پر ٹیم انڈیا کے تیز گیند باز محمد شامی کو نشانہ بنانے والے ٹرولز پر جوابی حملہ کرتے ہوئے اپنے ساتھی کرکٹر کا دفاع کیا ہے۔

کپتان ویراٹ کوہلی نے ہندوستان کی شکست کے بعد سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر 31 سالہ باؤلرمحمد شامی پر فرقہ وارانہ بدسلوکی کی مذمت کی ہے۔

این ڈی ٹی وی نے آج رات خبررساں ایجنسی اے این آئی کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے کہ ویراٹ کوہلی نے کہا ہے کہ کسی انسان کو اس کے مذہب کی وجہ سے ہدف بنانے والے بڑی قابل رحم حالت کے لوگ ہوتے ہیں جو کہ بہت مقدس اور ذاتی چیز ہے۔لوگ اپنی مایوسی کو دور کرتے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کی کوئی سمجھ نہیں ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں۔

ویراٹ کوہلی نے نیوزی لینڈ کے خلاف سوپر 12 مقابلے کے موقع پر ہفتہ کو پری میچ پریس کانفرنس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔

ویراٹ کوہلی نے سخت لفظوں میں کہا کہ ہم میدان پر کھیل رہے ہیں،ہم سوشل میڈیا پر ریڑھ کی ہڈی سے محروم لوگوں کا گروپ نہیں ہیں۔

یہ کچھ لوگوں کے لیے تفریح کا ذریعہ بن گیا ہے جو کہ بہت افسوسناک ہے۔ویراٹ کوہلی نے مزید کہا کہ باہر سے بنایا گیا یہ تمام ڈرامہ لوگوں کی مایوسی پر مبنی ہے۔

ویراٹ کوہلی نے کہا کہ ” ہم محمدشامی کے ساتھ 200 فیصد کھڑے ہیں،ٹیم میں ہمارا بھائی چارہ متزلزل نہیں ہوسکتا”۔

اسی دؤران” انسٹاگرام ” پر ” انڈین کرکٹ ٹیم ” کے مصدقہ اکاؤنٹ پر ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی کا ایک منٹ 23 سیکنڈ کا ایک ویڈیو پوسٹ کیا گیا ہے۔جسے اس خبر کے لکھے جانے تک 3,63,890 انسٹاگرام صارفین نے لائیک کیا ہے جب کہ ویراٹ کوہلی کے اس ویڈیو کو 8,94,823 نے انسٹاگرام پر دیکھا اور سنا ہے۔

(ویڈیو یہاں دیکھا اور سنا جاسکتا ہے)

اس ویڈیو میں ویراٹ کوہلی نے کہہ رہے ہیں کہ میرے حساب سے اگر ورلڈ کپ جیتنا ہے تو ہر میچ جیتنا آپ کی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔آپ یہ نہیں سوچتے کہ کس کے خلاف جیتنا ہے اور کس کے خلاف ہلکا کھیلنا ہے۔ایسا ہم لوگ نہیں کھیلتے،کبھی نہ کھیلے ہیں اور نہ آگے کھیلیں گے۔

اس ویڈیو میں ویراٹ کوہلی کہہ رہے ہیں کہ لوگ باہر کیا بولتے ہیں کیا نہیں بولتے ہیں اس سے ہمیں کچھ مطلب نہیں ہے۔ہمارے بہت حمایتی پرستار ہیں جو ہماری سچویشن کو سمجھتے ہیں۔

ہم لوگوں کو ابھی کرکٹ کھیلنی ہے جن لوگوں میں صبر نہیں ہوتا وہ لوگ ہمیشہ خوفزدہ ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ سب ختم ہوگیا۔لیکن ہم لوگ ایسا نہیں سوچتے ہیں۔اگر ہم لوگ باہر کے لوگوں کی طرح سوچنے لگیں تو ہم لوگ دنیا کی بہترین ٹیم نہیں رہیں گے۔

ہم نے بار بار واپسی کی ہے۔ہمیں کسی کو ثبوت دینے  کی ضرورت نہیں ہے۔ویراٹ کوہلی نے اس ویڈیو میں کہا ہے کہ باہر کیا چل رہا ہے لوگ کیا بول رہے ہیں اور ملک میں کیا ماحول چل رہا ہے ہماری ٹیم کو لے کر اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے۔

لوگ کچھ بھی بولیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں پتہ ہے ہمیں کیا کرنا ہے اور اس ٹورنمنٹ میں ٹیم کو آگے جانا ہے۔