کمشنر سٹی پولیس حیدرآباد انجنی کمار کو قانونی نوٹس، تلاشی مہم کے دؤران موبائل فونس اور چیاٹنگ کی تلاشی کا پولیس کو اختیار نہیں

کمشنر سٹی پولیس حیدرآباد انجنی کمار کو قانونی نوٹس
تلاشی مہم کے دؤران موبائل فونس اور چیاٹنگ کی تلاشی کا پولیس کو اختیار نہیں!!

حیدرآباد: 31۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

کمشنر سٹی پولیس حیدرآباد انجنی کمار کو ایک قانونی نوٹس جاری کی گئی ہے۔منشیات کی تلاشی مہم کے دؤران پولیس کی جانب سے عوام کے موبائل فونس پر واٹس ایپ چاٹنگ کی تنقیح پر شدید احتراض کرتے ہوئے حیدرآباد کے خانگی پرائیویسی ریسرچرسرینواس کوڈالی نے انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کی مدد سے یہ قانونی نوٹس کمشنر پولیس حیدرآباد انجنی کمار کو روانہ کیا ہے۔

اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ منشیات کی تلاشی مہم کے دؤران فون چیاٹنگ کی تنقیح درست نہیں ہے اور اس قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بناء کسی وجہ پولیس کی جانب سے اس طرح موبائل فونس اور ان میں موجود چیاٹنگ کی تنقیح شہریوں کو حاصل آزادی کی صریح خلاف ورزی اوراپنے عہدہ کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔

تین دن قبل سوشل میڈیا اور میڈیا پر ایسے ویڈیوس وائرل ہوئے تھے جس میں با آسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ تلاشی مہم کے دؤران پولیس عہدیدار عوام سے ان کے موبائل فونس لے کر جانچ کررہے ہیں۔

سرینواس کوڈالی نے 27 اکتوبر کو اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے باقاعدہ حیدرآباد سٹی پولیس کو ٹیاگ کرکے لکھا تھا کہ ” اسٹاپ الرٹ پولیسنگ کے نئے طریقے ،پولیس گانجہ جیسے الفاظ کے لیے فون چیاٹ تلاش کررہی ہے، اس وقت تک انتظار کریں جب تک یہ الفاظ این آرسی، مودی اوربی جے پی میں بدل نہیں جاتے "۔

ان ویڈیوس کے وائرل ہونے کے بعد سرینواس کوڈالی نے کمشنر سٹی پولیس حیدرآباد انجنی کمار کو قانونی نوٹس روانہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 27 اکتوبر کو حیدرآباد کے منگل ہاٹ،دھول پیٹ،بھوئی گوڑہ کمان اور جمعرات بازار علاقوں میں پولیس کی جانب سے تلاشی مہم کے دؤران قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

اس نوٹس میں کمشنر پولیس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر ایسے پولیس عہدیداروں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

 

کمشنر سٹی پولیس حیدرآباد انجنی کمار کو روانہ کی گئی اس قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بناء کسی جائز وجوہات کے عام شہریوں کو روک کر فونس اور ان میں موجود پیغامات دکھانے کی ہدایت دینے کا اختیار کسی بھی پولیس عہدیدار کو حاصل نہیں ہے۔

قانونی نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کے تحت ایسے کوئی اختیارات نہیں دیئے گئے ہیں کہ عام شہریوں کو روکنے کے بعد ان کے موبائل فونس کو ان لاک کرنے کی ہدایت دیں اور ان کے پیغامات کے مواد کو تلاش کریں۔

اس قانونی نوٹس کے ساتھ سرینواس کوڈالی نے کمشنر سٹی پولیس حیدرآباد انجنی کمار کو میڈیا رپورٹس ، ویڈیوس کے ساتھ ایسے ہی ایک معاملہ میں ویریندر کھنہ بنام ریاست کرناٹک کی ہائی کورٹ کے فیصلہ کی نقل بھی منسلک کی ہے۔

اس نوٹس کے بعد کمشنرسٹی پولیس حیدرآبادانجنی کمار نے گانجہ کی تلاشی مہم کے دؤران موبائل فونس کی تنقیح کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشتبہ افراد پر شبہ کے بعد جائے مقام پر ہی تلاشی لی جاتی ہے۔اور مشتبہ افراد کے پاس موجود ان کے شناختی ثبوت کا مشاہدہ کیا جاتاہے۔

کمشنر پولیس نے کہا ہے کہ نارتھ زون کے حدود میں تلاشی مہم کے دؤران ایک مجرمانہ ریکارڈ کے حامل شخص نے ایک پولیس کانسٹیبل پر چاقو سے حملہ کرتے ہوئے زخمی کردیا تھا۔انہی وجوہات کے باعث مشتبہ افراد کی تمام طریقوں سے تلاشی لی گئی تھی۔کمشنر سٹی پولیس حیدرآباد نے دعویٰ کیا کہ گاڑیوں کی تلاشی مہم کے دؤران پولیس کی جانب سے قانونی طریقہ سے ہی تلاشی لی جاتی ہے۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ تلاشی مہم کے دؤران پولیس کی جانب سے عام شہریوں کے موبائل فونس اور ان میں موجود واٹس ایپ اور ایس ایم ایس چیاٹ کی جانچ کے بعد چند نیشنل میڈیا اور مختلف علاقائی زبانوں کے میڈیا میں بھی اس پر سوال اٹھائے گئے تھے!!