سنگاپور میں ہندوستانی نژاد ملیشیاء کے نوجوان کو دی جانے والی پھانسی کوویڈ سے متاثر ہونے کے باعث ایک دن قبل ملتوی کردی گئی

سنگاپور میں ہندوستانی نژاد ملیشیاء کے نوجوان کو دی جانے والی پھانسی
کوویڈ سے متاثر ہونے کے باعث ایک دن قبل ملتوی کردی گئی

سنگاپور: 09۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

کوویڈ وباء نے پوری دنیا میں لاکھوں افراد کو موت کی نیند سلادیا اور کروڑہا افراد کو مشکلات اور پریشانیوں کا شکار بناکر رکھ دیا۔کوویڈ کی پہلی اور دوسری لہر کے بعد بھی کوویڈ کا خوف ہنوز برقرار ہے۔

تاہم اسی کوویڈ وائرس نے ایک نوجوان کی سانسوں کو مزید چند دن کے لیے طویل کردیا ہے جسے کل 10 نومبر کو پھانسی پر لٹکایا جانا تھا۔لیکن آج منگل کے دن اس کے طبی معائنہ کے بعد انکشاف ہوا کہ یہ نوجوان کوویڈسے متاثر ہے۔جس کے بعد اس ہندوستانی نژاد ملیشیائی نوجوان کی پھانسی پر سنگاپور کی ایک عدالت نے روک لگا دی جسے منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں یہ سزا سنائی گئی تھی۔

سنگاپور میں پیش آئے اس واقعہ کی تفصیلات کےمطابق ہندوستانی نثراد ناگیندرن کے دھرمالنگم 33 سالہ جو کہ ملیشیائی شہری ہے کو2009 میں 42 گرام منشیات کی اسمگلنگ میں معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔تحقیقات کے بعد ناگیندرن پر اس الزام کے ثابت ہوجانے کے بعد سنگاپور کی اعلیٰ عدالت نے 2010 ء میں اسے پھانسی کا حکم صادر کیا تھا۔

جس پر ناگیندرن کئی مرتبہ پھانسی کی سزا کی منسوخی کے لیے عدالتوں سے رجوع ہوا تھا۔تاہم اس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے جس کے بعد ملیشیا کے وزیراعظم نے سنگاپور کے اپنے ہم منصب کو باقاعدہ ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اپنے شہری ناگیندرن کی پھانسی کی سزا کو روک دینے کی اپیل بھی کی تھی تاہم اس اپیل کو بھی نظر انداز کردیا گیا تھا۔اور عدالت نے اپنے فیصلہ میں 10 نومبر کوناگیندرن کو پھانسی دینے کا فیصلہ صادر کیا تھا۔

اب کوویڈ سے متاثر ہونے کے بعد سنگاپور کی ہائی کورٹ نے ناگیندرن کی طئے شدہ پھانسی کو اس وقت تک معطل کردیا جب تک کہ ایک آن لائن سماعت کے دوران اپیل کی دوبارہ سماعت نہیں ہو جاتی۔

نیوز ایشیا چینل کی خبر کے مطابق آج ناگیندرن دھرمالنگم جو 11 سال سے سزائے موت کے حکم کے بعد سے جیل میں ہے کو مختصر طور پر عدالت آف اپیل میں اس کی سزائے موت کے خلاف آخری اپیل کی سماعت کے لیے کٹہرے میں لایا گیا تھا۔تاہم ایک جج نے عدالت کو بتایا کہ ناگیندرن کوویڈ سے متاثر ہے تو اسے واپس لے جایا گیا۔

جسٹس اینڈریو فانگ جو اپنے ساتھی ججوں جوڈتھ پرکاش اور کنن رمیش کے ساتھ پیش ہوئے نے کہا کہ یہ غیر متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت کا خیال ہے کہ حالات کے پیش نظر آگے بڑھنا مناسب نہیں ہے۔

جسٹس اینڈریو فانگ نے کہا کہ ناگیندرن کی پھانسی کل مقرر ہے انہوں نے کہا اگر درخواست گزار کوویڈ سے متاثر ہوا ہے تو ہمارا یہ خیال ہے کہ پھانسی بہرحال نہیں ہوسکتی ہے۔

استغاثہ نے کہا کہ انہوں نے کوویڈ میں بہتری کے متعلق سنا ہے اور انہیں ہدایات پرعمل کرنے کی ضرورت ہے۔جس پر جسٹس اینڈریو فانگ نے کہا کہ” میرے خیال میں ایسے وقت میں یہاں ہمیں منطق،عقل اور انسانیت پر غور کرنا ہوگا"۔بعدازاں انہوں نے سماعت کو اگلی مقررہ تاریخ تک ملتوی کر دیا اور کارروائی مکمل ہونے تک ناگیندرن کی پھانسی پر روک لگا دی۔

ایم۔روی ایڈوکیٹ نے آج منگل کو طئے شدہ پھانسی سے گیارہ گھنٹے قبل ناگیندرن کا کیس اٹھایا تھا۔ جبکہ ناگیندرن کی مبینہ ذہنی معذوری کی بنیاد پر فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے داخل کردہ ان کی درخواست کو پیر کو عدالت نے خارج کر دیا تھا۔

لیکن آج منگل کے دن دوبارہ سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے ناگیندرن کی پھانسی کی سزا کو ملتوی کرنے کا فیصلہ صادر کیا۔چینل کے مطابق ناگیندرن کب کوویڈ سے متاثر ہوا اور کب اس کی تشخیص کی گئی اس کی کوئی اور تفصیلات نہیں دی گئیں۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق 2010 میں ناگیندرن دھرما لنگم کے پاس سے سنگاپور میں اس کی ران میں باندھی گئی پٹی سے 42.72 گرام ہیروئن درآمد کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔جس کے خلاف وہ 2011 میں سنگاپور ہائی کورٹ،2019 میں سپریم کورٹ اور سنگاپور کے صدر کو معافی کے لیے اپنی درخواست دی تھیں جس میں وہ ناکام رہا۔

دوسری جانب اس کیس نے اس وقت بین الاقوامی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی جب ناگیندرن کی پھانسی کی تاریخ قریب آ رہی تھی۔اس کی موت کی سزا کے خلاف ایک آن لائن پٹیشن پر منگل تک زائد از 70,000 دستخط کیے گئے ہیں اور بین الاقوامی میڈیا اس کی کوریج کررہا ہے۔اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ناگیندرن کی پھانسی کی سزا کی معافی کے لیے میدان میں ہیں۔وہیں عوامی سطح پر بھی مظاہروں کے ذریعہ ناگیندرن کی پھانسی کی سزا کو معاف کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

اب بالآخر ناگیندرن دھرمالنگم کو پھانسی سے عین ایک دن قبل کوویڈ وبا نے بچالیا۔اب اس کے بعد آئندہ سنگاپور حکومت اور سپریم کورٹ کا کیا موقف ہوتا ہے یہ دیکھنا ہوگا۔