اتراکھنڈ : ہلدوانی میں چار ہزار سے زائد مکانات، مساجد، منادر،اسکولز، ہسپتالوں کے انہدام کے ہائی کورٹ کے حکم پر کل سپریم کورٹ میں سماعت

اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں چار ہزار سے زائد مکانات،مساجد،منادر،اسکولوں اور ہسپتالوں کے انہدام
کے ہائی کورٹ کے حکم پر کل 5 جنوری کو سپریم کورٹ میں سماعت، مکین شدید پریشان

نئی دہلی/ہلدوانی: 04۔جنوری
(سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

اتر اکھنڈا ہائی کورٹ کی جانب سے ہلدوانی میں موجود 29 ایکڑ (ایک اور اطلاع میں 78 ایکڑ) ریلوے کی اراضی کوخالی/منہدم کروانے کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔جن کی سماعت کل 5 جنوری کوہوگی۔سماجی جہد کار و نامور وکیل پرشانت بھوشن کی جانب سےسپریم کورٹ میں باضابطہ ذکر کرنےکے بعد معزز چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ،جسٹس ایس اے نذیر اور پی ایس نرسمہا پرمشتمل بنچ نے کہا کہ اس معاملہ کی سماعت کل 5 جنوری، بروز جمعرات کو ہوگی۔

ریاستی ہائی کورٹ کےاس حکم کےبعد ملک کے دارلحکومت دہلی سے 296 کلومیٹر اور ہمالیائی ریاست اتر اکھنڈ کےدارالحکومت دہرہ دون سے274 کلومیٹر کےفاصلہ پرموجود ہلدوانی کے ریلوے اسٹیشن کے قریب بن بھول پورہ علاقہ کی غفور بستی،ڈھولک بستی اور اندرا نگر کی ان بستیوں میں بے بسی، لاچاری اور خوف نے گھر کرلیاہے۔یہاں کے مکین موم بتی ریالیوں اور دعائیہ اجتماعات،احتجاج کے ذریعہ ریاستی اور مرکزی حکومت سے مداخلت کرنے کی اپیل کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس اراضی پر 30 سال سےزائدعرصہ سے رہتے اور بستے آئے ہیں ان میں سے کئی خاندان بتاتے ہیں کہ وہ 70 سال سے اس مقام پرمقیم ہیں اور ان کے پاس اراضیات کے باقاعدہ دستاویزات موجود ہیں،بلدیہ اور برقی کے بلس بھی وہ ادا کرتے آئے ہیں،مکانات کے علاوہ،یہاں تک کہ اس علاقے میں چار سرکاری اسکول،11 خانگی اسکول،ایک بینک،دو اوور ہیڈ واٹر ٹینک،10 مساجد،چار مندر، دکانات کئی دہائیوں قبل تعمیر کی گئی ہیں۔

طویل مقدمہ بازی کے بعد 20 دسمبر کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ہلدوانی کی ان بستیوں کو ریلوے کی اراضی پر قبضہ قرار دیتے ہوئے وہاں موجود تعمیرات کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس شرد شرما اور آر سی کھلبے کی ڈویژن بنچ نے ہدایت دی تھی کہ آباد کاروں کو ایک ہفتہ کا نوٹس دیا جائے اس کے بعد ان تعمیرات کومنہدم کردیا جائے۔
عدالتی حکم پرعمل کرتے ہوئےضلعی انتظامیہ نے اخبارات میں ایک نوٹس جاری کی جس میں ان مقامات کےمکینوں سے کہا گیا کہ وہ 9 جنوری تک اپنا سامان لے جائیں اور علاقے خالی کردیں۔

ہائی کورٹ کے اس حکم کےبعد ہلدوانی میں سرکاری انتظامیہ کی جانب سے کی جانےوالی اس انہدامی کارروائی کی زد میں 4,365 عمارتیں آئیں گی جن میں مکانات،دکانات،مساجد،درگاہیں،منادر،سرکاری اسکول اور کالجوں کی عمارتوں کے ساتھ ساتھ سرکاری ہسپتال بھی شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق اس انہدامی کارروائی سے 50,000 سے زائد افراد بے گھر ہوجائیں گے۔

یاد رہے کہ ہلدوانی کے ان مسلم خاندانوں کے خلاف 2016ء میں ایک درخواست مفاد عامہ کےتحت روی شنکر جوشی نے دائر کی تھی۔جن کا تعلق آر ایس ایس سے بتایا گیا ہے۔!! یہاں کے مکینوں کا الزام ہے کہ محض انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے بے گھر کیا جانے والا ہے۔! جبکہ اس علاقہ میں غیرمسلم برادری بھی آباد ہے،لیکن ان کی تعدادبہت کم ہے۔ان علاقوں کےمکینوں کاسوال ہےکہ جب یہ بستیاں ناجائز تھیں تو کیوں پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت مکانات کی تعمیر کے لیے مالی مدد کی گئی،کیوں حکومت نے اس علاقہ میں ہسپتال،اسکول اور کالج تعمیر کروائے اور کیوں ان سے اتنے سال تک مختلف ٹیکس وصول کیے گئے۔؟مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس باقاعدہ آدھار کارڈ،ووٹر کارڈز بھی موجود ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان بستیوں کو منہدم کرنے کے لیے بلڈوزرس،7,000 پولیس ملازمین اور 15 نیم فوجی پلاٹونس کی خدمات حاصل کی جانے والی ہیں۔اور اس انہدامی کارروائی پر 23 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

اتر اکھنڈ ہائی کورٹ کےحکم کےبعد اب سپریم کورٹ پر ان علاقوں کے خوفزدہ مکینوں کےعلاوہ سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔مکینوں کویقین ہے کہ انہیں سپریم کورٹ سے انصاف اور راحت نصیب ہوں گے۔جہاں کل 5 جنوری کو اس معاملہ کی سماعت ہوگی۔

وہیں کانگریس کےسینئر لیڈر و سابق وزیراعلیٰ اتراکھنڈ ہریش راوت نے ریاستی دارالحکومت دہرادون میں اپنےگھر پر ایک گھنٹہ طویل مون ورت (خاموشی )احتجاج کیا۔انہوں نے کہاکہ اتراکھنڈ ایک روحانی ریاست ہے اگر 50,000 افراد بشمول بچے، حاملہ خواتین، بوڑھے اورعورتیں اپنے مکانات خالی کرکے سڑکوں پر نکل جانے کے لیے مجبورکیے جائیں،تو یہ انتہائی افسوسناک منظر ہوگا۔

صدر جن ادھیکار پارٹی و سابق رکن پارلیمان پپو یادو نے آج اپنے مصدقہ ہینڈل سےکیے گئے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”اتراکھنڈ کے نینی تال ضلع میں ہلدوانی واحد ایسا اسمبلی حلقہ ہے،جہاں بی جے پی جیت نہیں پارہی ہے۔اب ہلدوانی میں 5,000مکانات پر بلڈوز چلایاجائے گا۔”

دوسری جانب ہلدوانی کے اس مسئلہ کو لےکرجہاں 50,000 سے زائد مکین آنسو بہانے پر مجبور ہیں اور روتے بلکتے مرکزی حکومت سے مداخلت کی اپیل کررہے ہیں وہیں سوشل میڈیا پر ہمیشہ کی طرح ایک گروپ جشن منانے میں مصروف ہے۔باقاعدہ انہدام کی تائید پرمشتمل ہیش ٹیگ چلایاجارہا ہے اور اس پر برقعہ پوش خواتین،داڑھی کرتاوالے مردوں کی میمز اور تصاویرپھیلائی جارہی ہیں جن میں وقف اراضیات کاذکربھی ہے۔

زیادہ تر میڈیا ہلدوانی معاملہ میں مکمل طور پرخاموش ہے۔وہیں اسی مخصوص ذہنیت کے حامل میڈیانے ہلدوانی کےاس انہدام کےخلاف خاموش احتجاج،موم بتی مارچ اور دعائیہ اجتماع کو جہاد کا نام دے دیا ہے۔یہاں تک کہ اس کو دوسرا شاہین باغ اور زمینی جہاد کا نام دیا گیا ہے۔اور پریشان حال مکینوں کو جہادی گینگ اور حکومت مخالف کہا جا رہا ہے۔

ٹائمز ناؤ کا 10 منٹ کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے

https://www.youtube.com/watch?v=obCLI6phdwo

وہیں نامور صحافی رویش کمار نے اپنے آفیشل یوٹیوب چینل پر ہلدوانی انہدام معاملہ پر کہا ہے کہ جب اتنے ہزار لوگوں کو بے گھر کیا جارہا ہے تو اس کا ذکر نہیں کیاجارہا کہ انہیں کہاں بسایا جائے گا۔؟ ہلدوانی کی ان غریبوں کی بستیوں میں ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ امیروں کے علاقوں میں بھی ناجائز قبضہ جات ہیں لیکن انہدام کے لیے اتنی جلدی بہت کم دکھائی دیتی ہے۔رویش کمار نے اپنے اس ویڈیو میں کہا کہ کس کے مکان توڑے جائیں اور کس کے مکان نہ توڑے جائیں یہ سیاست طئے کرتی ہے۔!!

رویش کمار نے دہلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں غیر قانونی طریقہ سے بنائی گئی عمارتوں کو بعد ازاں باقاعدہ کردیا گیا۔انہوں نے مدھیہ پردیش کے کھرگون اور دہلی کے جہانگیر پوری انہدام کا بھی حوالہ دیا۔رویش کمار نے 2010کے سداما سنگھ کیس میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت عدالت نے انہدام کے لیے کونسے قواعد طئے کیے تھے۔کہ کسی بستی کو اجاڑنے کےقواعد کیا ہوں گے اور انہیں دوبارہ بسانا بھی ہوگا۔رویش کمار نے استفسار کیا کہ ایسا ہلدوانی کیوں نہیں ہوسکتا؟

رویش کمار نے 2019کے دہلی ہائی کورٹ کے اجئے ماکھن ۔بھارتیہ سنگھ فیصلہ کا بھی حوالہ دیاکہ متاثرین کی بات بھی سنی جائے۔رویش کمارنے کہا کہ دہلی میں 1,731 غیر قانونی کالونیوں کو جائز قرادینے کےلیے مرکزی حکومت نے 2019ءمیں لوک سبھا میں ایک قانون منظور کیا تھا۔اور کہا گیا تھا کہ ان تمام کو اراضیات کے پٹہ دئیے جائیں گے۔تو یہی معاملہ ہلدوانی کے مکینوں کے ساتھ کیوں نہیں برتا جارہا ہے۔؟

رویش کمار نےسوال کیا کہ انہدام کے بعد اتنے ہزار لوگ کہاں جائیں گے۔؟ انہوں نے کہا کہ یہ عام معاملہ نہیں ہےغریبوں کی زندگی بھر کی کمائی ہے جسے منہدم کیا جائے گا۔

رویش کمار کا 8 منٹ پرمشتمل ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

https://www.facebook.com/RavishKaPage/videos/528887032528892

رویش کمار نے اپنے اس ویڈیو میں گروگرام کے کھودی گاؤں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہاں 5,000 مکانات توڑے جانے تھے جوکہ جنگل کی اراضی پر بنائے گئے تھے۔انہیں سپریم کورٹ کی جانب سے انہدام کا حکم دیا گیاتھا لیکن ساتھ ہی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ان تمام کو کہیں اور بسایا جائے۔ان کے لیے مکانات بنائے جائیں یا مکانات کے کرائے ادا کیے جائیں۔اور سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں فرید آباد بلدیہ کو ہدایت دی تھی کہ یہ سارے کام کتنے دنوں میں مکمل کیے جائیں گے حلف نامہ داخل کرے۔

رویش کمار نے سوال اٹھایا کہ 2017 میں عدالت نے اسی ہلدوانی میں ریلوے کی اسی زمین پر بنے ان مکانات کو توڑنے کاحکم دیا تھا تو اس وقت اتر اکھنڈ حکومت سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی تھی تو تب سپریم کورٹ نے اترا کھنڈ ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگادی تھی۔انہوں نے سوال کیا کہ اب کیوں اتر اکھنڈ حکومت اس معاملہ میں سپریم کورٹ سے رجوع نہیں ہورہی۔؟ رویش کمار نے کہا کہ یہ معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے۔

اسی طرح نامور و سینئرصحافی اجیت انجم نے بھی ہلدوانی پہنچ کر ان مکینوں سے بات کرتے ہوئے ان کی مشکلات اور خوف کو حکومتوں اور عدالتوں تک پہنچایا۔

ہلدوانی میں اجیت انجم کا 32 منٹ پرمشتمل مکمل ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "