اتراکھنڈ : ہلدوانی کے 50 ہزار سے زائد مکینوں کو سپریم کورٹ نے دی راحت، چار ہزار مکانات کو منہدم کرنے کے ہائی کورٹ کے حکم پر روک

اتراکھنڈ : ہلدوانی کے 50 ہزار سے زائد مکینوں کو سپریم کورٹ نے دی راحت
چار ہزار مکانات کو منہدم کرنے کے ہائی کورٹ کے حکم پر روک

نئی دہلی : 05۔جنوری
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

بی جے پی اقتدار والی ریاست اتر اکھنڈ کے ہلدوانی کی تین بستیوں کےانہدام کے ریاستی ہائی کورٹ کےحکم سے شدید پریشان 50 ہزار سے زائد روتےبلکتے مکینوں کو آج سپریم کورٹ نے بہت بڑی راحت فراہم کرتے ہوئے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کی جانب سے 20 ڈسمبرکےاواخر میں ریلوے کی اراضی پرتعمیر ان بستیوں میں موجود چار ہزار سے زائد مکانات،دکانات،مساجد،منادر،اسکولوں، کالجوں اور ہسپتالوں کو منہدم کرنےکے حکم پر یہ کہتے ہوئے روک لگادی ہے کہ 50 ہزار افراد کو سات دنوں میں بے دخل نہیں کیا جاسکتا۔

سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ ہلدوانی میں ریلوے کی 29 ایکڑ اراضی سےتجاوزات ہٹانےکے اتر اکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی کئی عرضیوں کی سماعت کر رہی تھی۔ ریلوے کے مطابق اس اراضی پر 4,365 تجاوزات ہیں۔

ہائی کورٹ کے اس حکم کے بعد سے ان بستیوں میں برسوں سے مقیم 50 ہزار سے زائد مکین کرب اور خوف میں مبتلاہوکر پرامن احتجاج،موم بتی مارچ اور دعائیہ اجتماعات منعقد کرتے ہوئے ریاستی اور مرکزی حکومت سے فریاد کررہے تھے کہ انہیں بے گھر نہ کیا جائے۔

بالاخر ان بستیوں کے مکینوں کی تڑپ اور دعا آج اس وقت رنگ لائی جب ملک کی اعلیٰ عدالت نے اتر اکھنڈ ہائی کورٹ کےاس فیصلہ پرروک لگادی۔اس سلسلہ میں نامورسماجی جہد کار و سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کل ہی معزز چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ سے ان درخواستوں پر فوری سماعت کی اپیل کی تھی جس کےبعد آج ان درخواستوں پر معزز جسٹس ایس کے کول اور جسٹس اے ایس اوکھا پرمشتمل سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ہلدوانی کےعرضی گزاروں کی جانب سےسینئر وکلاء سلمان خورشید، پرشانت بھوشن اور حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل آف انڈیا محترمہ ایشوریہ بھٹ سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں۔

مکینوں نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ کو واقف کروایاتھا کہ ہائی کورٹ نے اس حقیقت سے آگاہ ہونے کے باوجود کہ درخواست گزاروں سمیت مکینوں کے ٹائٹل سے متعلق کارروائی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے روبرو زیر التوا ہونے کے باوجود یہ حکم جاری کیا ہے۔

اس معاملہ کے انسانی پہلو پر زور دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج جمعرات کو کہا کہ ہلدوانی کےبن بھول پورہ علاقے میں مبینہ طور پر ریلوے کی زمین سے بے دخلی کا سامنا کرنے والے لوگوں کو مدنظررکھتے ہوئے ایک حل نکالنے کی ضرورت ہے۔معزز جسٹس ایس کے کول نے کہا کہ اس مسئلہ کا ایک انسانی زاویہ ہے،یہ لوگ انسان ہیں اور ان کے لیے کچھ کام کرناہوگا۔اور کسی نہ کسی طرح اس مسئلہ کاخاتمہ ہونا چاہئے۔

سپریم کورٹ کی اس دو رکنی بنچ نے کہا کہ ریلوے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے بحالی اور مختلف لوگوں کے حقوق پر کام کرنے کے لیے ایک منصوبہ کے تحت کام کرنا ہوگا۔معزز جسٹس ایس کے کول نے دؤران سماعت کہاکہ اس معاملہ کے دو پہلو ہیں۔ایک یہ کہ وہ لیز کادعویٰ کرتے ہیں۔دوسرا ان کا کہنا ہے کہ 1947 کے بعد لوگوں نے نقل مکانی کی اور زمینیں نیلام ہوئیں،لوگ اتنے سال وہاں رہے،ان کے لیے کچھ اقدامات تو کرنا ہوگا۔وہاں تعمیرات ہیں۔آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ سات دنوں میں انہیں صاف کر دیں؟جبکہ مکین کہہ رہے ہیں کہ وہ اس مقام پر 50 سال سے رہ رہے ہیں ان کو ہٹانے سے قبل ریاستی حکومت کی جانب سے انہیں بسانے کے انتظامات بھی کیے جائیں۔

معزز جسٹس ایس کے کول نےکہا کہ دوسری بات یہ ہےکہ لوگ وہاں 50-60 سال سے رہ رہے ہیں،ان کی کچھ بحالی کے انتظام کرنے ہوں گے،یہاں تک کہ یہ فرض کرتے ہوئے کہ یہ ریلوے کی زمین ہے لیکن اس کا ایک انسانی زاویہ بھی ہے۔

جبکہ اس دو رکنی بنچ کے معزز جسٹس اے ایس اوکا نے نشاندہی کی کہ ہائی کورٹ نے متاثرہ فریقوں کو سنے بغیر حکم جاری کیاہے۔انہوں نے کہا کہ” کوئی حل تلاش کریں،یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔”معززجسٹس اوکا کی حمایت کرتے ہوئے،معزز جسٹس کول نے کہا کہ انسانی مسئلہ طویل عرصہ کے قبضہ سے پیداہوتا ہے۔ہوسکتاہےکہ ان سب کو ایک ہی برش سے رنگ نہ کیا جاسکے۔ہوسکتاہےکہ مختلف زمرے ہوں،لیکن انفرادی کیسوں کی جانچ پڑتال کرنی ہوگی۔کسی کو دستاویزات کی تصدیق کرنی ہوگی۔

معزز جسٹس اے ایس اوکھا نے ہائی کورٹ کی ہدایت اور حکم سے استثنیٰ لیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نیم فوجی دستوں کو ان لوگوں کو ہٹانے کے لیے تعینات کیا جانا چاہئے جو دہائیوں سے وہاں رہ رہے ہیں۔

معززجسٹس ایس کے کول اور جسٹس ابھے ایس اوکا پرمشتمل بنچ نے اتر اکھنڈ حکومت اور ریلوے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔اور کہا کہ اس کے لیے ایک قابل عمل انتظام ضروری ہے،سپریم کورٹ نے اس معاملہ کی مزید سماعت 7 فروری تک ملتوی کر دی۔

ہلدوانی سے متعلق ویڈیوز،تفصیلی اور خصوصی رپورٹ سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک پر ” 

اتراکھنڈ : ہلدوانی میں چار ہزار سے زائد مکانات، مساجد، منادر،اسکولز، ہسپتالوں کے انہدام کے ہائی کورٹ کے حکم پر کل سپریم کورٹ میں سماعت

” نوٹ : اس تفصیلی رپورٹ کی تیاری میں قانونی ویب سائٹ ” لائیو لاء Live Law "سے بھی بشکریہ مدد لی گئی ہے۔ "