مدھیہ پردیش: اپنی جانوں کوخطرہ میں ڈال کر ندی عبور کرنے والی طالبات
کلاس روم کی ٹپکتی چھت کے نیچے چھتریاں لے کرتعلیم حاصل کرتے ہوئے طلبہ
پرینکا گاندھی نے ویڈیو پوسٹ کرکے لکھا کہ یہ منظر دل دہلا دینے والا ہے
بھوپال:30۔جولائی(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
زیادہ تر ریاستوں میں شکستہ حال عمارتیں،گندے ٹوائلٹ اور ٹیچرس کی کمی یہ سرکاری اسکولوں کی خاص نشانی مانی جاتی ہے۔
گزشتہ دنوں اترپردیش کےمتھرا کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔جس میں دیکھا گیا تھا کہ سیلابی پانی سے بھرے ہوئے ایک سرکاری اسکول میں داخل ہونے والی ایک ٹیچر کے لیے طلبہ قطارمیں پلاسٹک کی کرسیاں جمارہے ہیں اور خاتون ٹیچر ان کرسیوں پر چلتے ہوئے اسکول میں داخل ہوتی ہیں۔اس ویڈیوکےوائرل ہونے اور ہر طرف سے اس خاتون ٹیچر کی مذمت کیے جانےکے بعد محکمہ تعلیمات نے اس خاتون ٹیچر کو خدمات سے معطل کردیا تھا۔
” اس رپورٹ اور ویڈیو کو اس لنک پر کلک کرکے دیکھا جاسکتا ہے”۔
اب مدھیہ پردیش جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے کے دو الگ الگ اضلاع کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔
ایک ویڈیو جسے کانگریس کی لیڈر پرینکاگاندھی واڈرا نے فیس بک اور انسٹاگرام کےاپنے آفیشل پیج پر پوسٹ کیاہے۔اس ویڈیو کے ساتھ پرینکا گاندھی نےلکھا ہے کہ”یہ منظر دل دہلا دینے والا ہے۔ہردا،مدھیہ پردیش کی یہ طالبات اپنی جان کوجوکھم میں ڈال کراسکول جارہی ہیں۔بچے ملک کامستقبل ہوتے ہیں۔ان کی تعلیم سےلےکر ان کے تحفظ تک حکومت کی ذمہ داری ہے۔مدھیہ پردیش حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے اور ان بچوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا چاہئے”۔
https://www.facebook.com/watch/?ref=saved&v=1186735045205557
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا یہ ویڈیو مدھیہ پردیش کے ہردا ضلع کے ایک گاؤں کاہے۔یہاں خاص بات یہ ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر زراعت کمل پٹیل کا یہ آبائی شہر ہے۔
اس خوفناک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک درجن سے زائد طالبات اور لڑکے جو کہ اسکول ڈریس میں ملبوس ہیں ایک پل عبور کررہے ہیں جوسیلابی پانی سے ٹھاٹھیں ماررہا ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق مقامی ندی پر بنایا گیا یہ پل دوسرے کنارے تک پہنچنے کاواحد راستہ معلوم ہوتا ہے!!۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری موسلادھار بارش کی وجہ سے بھوپال سمیت ریاست کے تقریباً تمام حصوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ریاست کے کئی حصوں کے ساتھ ساتھ ہردا ضلع میں بھی گزشتہ چند دنوں میں شدید بارش ہوئی ہے اور کئی مقامات پر سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔اطلاعات کے مطابق چہارشنبہ کے دن اس ضلع میں 200 افراد کو سیلابی مقامات سے بحفاظت نکال کر انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ ضلع میں شدید بارش کی وجہ سے بھوپال اور بیتول کو جوڑنے والی سڑک پانی میں ڈوب گئی تھی۔بھوپال میں موجود کالیا سروت ڈیم میں سیلابی پانی کی آمد کو دیکھتے ہوئے اس ڈیم کے 9 دروازوں کو کھول کر پانی خارج کیا گیا تھا۔
مدھیہ پردیش کا ہی ایک اور ویڈیو این ڈی ٹی وی کے صحافی انوراگ دواری نے ٹوئٹ کیا۔افسوسناک حالت کو بیان کرنے والے اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک کلاس روم کے اندر کئی طلبہ فرش پر چھتریوں کے نیچے بیٹھ کرتعلیم حاصل کررہے ہیں۔تاکہ اس اسکول کے کلاس روم کی تباہ شدہ چھت سے بڑی مقدار میں گرنے والے بارش کے پانی سے محفوظ رہ سکیں۔اس کلاس روم میں نہ ٹیچر کے لیے کرسی اور ٹیبل ہے اور نہ ہی طلبہ کے ٹیبل ہیں۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق زیادہ تر سرکاری اسکولوں کی حالت یہی ہے۔اکثر بارش سے پناہ لینے کے لیے جانوربھی ان اسکولوں کے اندر اور کلاس روموں میں داخل ہوجاتے ہیں۔یہ ویڈیو مدھیہ پردیش کے سیونی ضلع کے خیری کلاں کے سرکاری اسکول کا ہے جس کی نہ صرف چھتیں بلکہ کلاس روم کی دیواریں بھی تباہ حال ہیں۔طلبہ کے سرپرستوں کا کہنا ہے کہ بارش کے موسم میں اسکول کی چھت ٹپکنے کی وجہ سے بہت سےطلبا اسکولوں کونہیں آتے۔اب جبکہ بارش کاموسم ہے توایسے شکستہ اورمخدوش اسکولوں کی عمارتیں طلبہ کےلیےخطرہ سے خالی نہیں ہیں!!


