کرناٹک گلبرگہ ضلع: چنچولی کے مواضعات میں آج دوبارہ 3.6 شدت کا زلزلہ کا جھٹکا ریکارڈ
تین دنوں سے لگاتار زلزلے جھٹکے،خوف وہراس کا شکارعوام مواضعات سے منتقلی پر مجبور
ایم ایل اے ڈاکٹر اویناش جادھو اور کمشنر گلبرگہ جیوتسنا کا متاثرہ مواضعات کا دؤرہ
بنگلورو/گلبرگہ؍وقارآباد: 12۔اکتوبر (سحرنیوز ڈاٹ کام)
تلنگانہ کی پڑوسی ریاست کرناٹک کے ضلع گلبرگہ (کلبرگی) میں موجود چنچولی تعلقہ کے مواضعات میں لگاتار زلزلہ کے جھٹکے جاری ہیں۔آج 12 اکتوبر کی صبح 8 بج کر 6 منٹ پر 3.6 شدت کا زلزلہ کا جھٹکا ریکارڈ کیا گیا ہے اور اس کی تصدیق زلزلوں کے جھٹکوں کا ریکارڈ رکھنے والی قومی مرکز برائے زلزلہ سائنس National Center for Seismology کی جانب سے بھی کی گئی ہے کہ گلبرگہ ضلع کے ان مواضعات میں زلزلہ کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.6 ریکارڈ کی گئی ہے۔
جبکہ اتوار 10 اکتوبر کی صبح 6 بج کر 5 منٹ پر بھی کرناٹک کے گلبرگہ (کلبرگی) ضلع میں موجود چنچولی تعلقہ کے موضع گڑھی کیشور کے علاوہ اس کے اطراف دس کلومیٹر تک کے مواضعات میں زلزلہ کا شدید جھٹکا محسوس کیا گیا تھا اس وقت بھی قومی مرکز برائے زلزلہ سائنس National Center for Seismology کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ کرناٹک کے اس علاقہ میں زلزلہ کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.4 ریکارڈ کی گئی ہے۔
پھر کل 11 اکتوبر بروز پیر کی رات 9:54 بجے بھی 4.1 شدت کے زلزلہ کی تصدیق کی گئی تھی۔اس طرح اتوار،پیر اور آج منگل تک اس علاقہ میں تین زلزلوں کے جھٹکوں کی تصدیق کی گئی اور یہ زلزلہ کے جھٹکے ریکٹر اسکیل پر ریکارڈ بھی ہوئے ہیں۔

اسی دؤران ان مواضعات کے ذمہ داران نے آج بتایا کہ صبح سے مزید تین زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔تاہم قومی مرکز برائے زلزلہ سائنس National Center for Seismology کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
چنچولی تعلقہ کے موضع گڑھی کیشور کے علاوہ مواضعات ہل چیر،کوڑلی،ہوسلی،کوروی،بیرنلی، تیگل چٹی کے بشمول دیگر کئی قریبی مواضعات میں بھی زلزلہ کے یہ جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
قومی مرکز برائے زلزلہ سائنس National Center for Seismology کے مطابق یہ زلزلے کے جھٹکے مرکز کے نیچے 5 کلومیٹر کی گہرائی میں ریکارڈ ہوئے ہیں۔زلزلہ سے متاثرہ کئی مواضعات کے خوفزدہ عوام ان مواضعات سے دوسرے مقامات کو منتقل ہورہے ہیں۔
جب سے یہ اطلاع عام ہوئی ہے کہ گڑھی کیشور ہی زلزلہ کا مبدا ہے تو اب تک اس موضع کی نصف آبادی سے نقل مقامی پر مجبور ہوئے ہے اور دور دراز کے اپنے رشتہ داروں کے پاس روانہ ہونے پر مجبور ہیں دیگر مواضعات کے عوام کا بھی یہی حال ہے۔
” چنچولی تعلقہ کے گڑھی کیشور اور دیگر مواضعات کے خوفزدہ عوام رات اپنے مکانات کے باہر گزارتے ہوئے اور زلزلہ سے خوفزدہ ایک خاندان موضع سے روانہ ہوتے ہوئے۔” (ویڈیو)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ چنچولی تعلقہ اور اس کے زلزلہ سے متاثرہ یہ مواضعات ریاست تلنگانہ کے سرحدی علاقے ہیں جن کا فاصلہ ریاست تلنگانہ کی سرحد سے 30 تا 50 کلومیٹر اور کرناٹک کے گلبرگہ ضلع سے 65 کلومیٹر ہے۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق شمالی کرناٹک کے اضلاع گلبرگہ (کلبرگی) اور بیدر کے درمیان موجود ان علاقوں میں یکم اکتوبر سے آج تک 6 زلزلہ کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
یکم تا 5 اکتوبر بسواکلیان میں زلزلہ کے دو جھٹکے اور گلبرگہ ضلع کے ان مقامات پر 9 اکتوبر، 11 اکتوبر اور آج 12 اکتوبر تک جملہ 4 زلزلہ کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ہل چیر موضع کے ساکن محمدمحمود نے نمائندہ سحرنیوز ڈاٹ کام کو فون پر بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے ہلکے اور شدید زلزلہ کے جھٹکوں سے ان مواضعات کے عوام خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔بارش اور سرد موسم کے باؤجود عوام اپنے گھروں میں جانے سے خوفزدہ ہیں اور کھلے مقامات پر زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آج صبح سے سہء پہر تک جملہ تین زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
اسی دؤران آج رکن اسمبلی چنچولی ڈاکٹر اویناش جادھو نے چنچولی تعلقہ کے زلزلہ سے متاثرہ مواضعات گڑھی کیشور، ہوسلی،ہل چیرا،تیگل تپی،راجہ پور،کوڈادور،وزیر گاؤں،کڈالی،کوروی،کوروی تانڈہ کا دؤرہ کیا جبکہ ان کے ساتھ ڈپٹی کمشنر ضلع گلبرگہ محترمہ وی وی جیوتسنا (آئی اے ایس) نے ہوسلی اور گڑھی کیشور کا دؤرہ کرتے ہوئے وقفہ وقفہ سے زلزلہ کے جھٹکوں اور زمین سے عجیب و غریب آوازاں کے باعث خوف و ہراس کے شکار عوام سے ملاقات کی اور انہیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پریشان نہ ہوں لیکن چوکس رہیں۔

ساتھ ہی رکن اسمبلی چنچولی اور ڈپٹی کمشنر گلبرگہ نے ان مواضعات کے عوام کو تیقن دیا کہ ضلع انتظامیہ تمام حالات پر نظر رکھے ہوئے مستعد ہے۔
ڈپٹی کمشنر ضلع گلبرگہ محترمہ وی وی جیوتسنا نے ان مواضعات کے عوام سے کہا کہ جلد ہی ان مواضعات کو پی ڈبلیو ڈی کے عہدیداروں کی ٹیمیں روانہ کی جائیں گی جو کچے اور بوسیدہ مکانات کی نشاندہی کریں گے بعد ازاں ایسے تمام مکان مالکین کو ٹین شیڈ اور ٹینٹ فراہم کیے جائیں گے۔
رکن اسمبلی چنچولی ڈاکٹر اویناش جادھو اور ڈپٹی کمشنر ضلع گلبرگہ محترمہ وی وی جیوتسنا نے بتایا کہ کل 13 اکتوبر کو بنگلور سے کرناٹک اسٹیٹ نیچرل ڈیزاسٹر مانیٹرنگ سینٹر کے عہدیداروں اور ارضیاتی ماہرین کی ٹیم چنچولی تعلقہ کے ان متاثرہ مواضعات کا دؤرہ کرتے ہوئے حالات کا جائزہ لے گی۔
دوسری جانب کرناٹک اسٹیٹ نیچرل ڈیزاسٹر مانیٹرنگ سینٹر کے عہدیداروں کے مطابق اتوار کی صبح 3.0 کی شدت کا زلزلہ کلبرگی کے گڑھی کیشور گاؤں کے قریب آیا اور کل پیر کی رات 9.55 بجے اسی مقام پر 4.0 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا۔
کمشنر کرناٹک اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی منوج راجن نے خبررساں ادارہ پی ٹی آئی کو بتایا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں ارضیاتی ماہرین کا ایک اجلاس طلب کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شمالی کرناٹک کے علاقے میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔انہیں کسی بڑے زلزلے کی صورت میں کیے جانے والے اقدمات کے سلسلہ میں آگاہ کردیا گیا ہے۔

کرناٹک اسٹیٹ نیچرل ڈیزاسٹر مانیٹرنگ سینٹر کے عہدیداروں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیر کی رات زلزلہ کی جو شدت دیکھی گئی وہ ” کم شدت سے تھوڑی زیادہ ” تھی۔
انہوں نے کہا کہ زلزلے کو 50 سے 60 کلومیٹر یا اس سے بھی زیادہ کے شعاعی فاصلے تک محسوس کیا جا سکتا ہے۔تاہم اس قسم کے زلزلوں سے مقامی طورپر کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا،حالانکہ مقامی ارضیات کی بنیاد پر 50 سے 60 کلومیٹر کے فاصلے تک زلزلہ کی ارتعاش محسوس ہوں گی۔
بتایا گیا ہے کہ ان زلزلوں کا اصل مبدا گڑھی کیشور، کوڈادور اور رام نگر تانڈہ ہے۔
زلزلہ کے ان جھٹکوں کو اس لیے بھی اہمیت حاصل ہے کیونکہ ان زلزلوں کا مرکز مہاراشٹر کے لاتور اور کلاری سے 200 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے جہاں ستمبر 1993 میں آئے زبردست زلزلہ میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
اور آج دؤرہ کررہے رکن اسمبلی چنچولی ڈاکٹر اویناش جادھو اور ڈپٹی کمشنر ضلع گلبرگہ محترمہ وی وی جیوتسنا سے بھی ان مواضعات کے عوام نے اسی خوف کا اظہار بھی کیا ہے!!
” اس زلزلہ کے جھٹکوں سے متعلق سحرنیوزڈاٹ کام کی کل 11 اکتوبر کی تفصیلی رپورٹ اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہے۔ "

