لال ٹِک والا فیک وائرل میسیج ،حکومت نہ آپ کے وہاٹس ایپ کال ریکارڈ کررہی ہے اور نہ پیغامات!

جی نہیں!حکومت نہ آپ کے وہاٹس ایپ کال ریکارڈ کررہی ہے اور نہ پیغامات!
دو سال سے گھوم رہا ہے یہ لال ٹِک والا فیک وائرل میسیج،صارف پریشان نہ ہوں

نئی دہلی:31۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)

گزشتہ چند دنوں سے وہاٹس ایپ پر ایک فیک میسیج بڑی تیزی کیساتھ وائرل کیا جارہا ہے جس سے وہاٹس ایپ استعمال کرنے والے عام صارف یا تو پریشان ہیں یا پھر وہاٹس اپ کے استعمال میں محتاط ہوگئے ہیں!

وہاٹس ایپ پر وائرل اس فیک میسیج کے ذریعہ صارفین کو یہ کہہ کر خوفزدہ کیا جارہا ہے کہ وہاٹس ایپ پر آپ کی ہرسرگرمی حتیٰ کہ میسیج، فوٹوز،وائس میل اور ویڈیو کالنگ تک پر بھی حکومت نے نظر رکھنا شروع کردیا ہے!

اب یہ انداز ہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اس طرح کا وہاٹس ایپ میسیج وائرل کرنے کا مقصد کیا اور کس کا ہوسکتا ہے؟ اور کیوں اس طرح عوام کو خوفزدہ کیا جارہا ہے؟ یعنی آپ حکومتوں اور سیاستدانوں کی ناکامیوں اور آپ کو درپیش مسائل سے متعلق وہاٹس ایپ پر نہ کچھ لکھیں اور نہ کچھ بولیں!!

دراصل وہاٹس ایپ پر انتہائی اہتمام کیساتھ تیار کیا گیا یہ فیک میسیج وائرل کردیا گیا ہے جس کے ذریعہ ہر دوسرے گروپ میں اور نجی طور پر اس کو فارورڈ کرتے ہوئے وہاٹس اپ پر احتیاط برتنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔

اس میسیج میں لکھا گیا ہے کہ ان تمام قواعد پر کل سے عمل ہوگا کہ وہاٹس ایپ پر آپ کی جانب سے بھیجے جانے والے میسیج پر دو بلیوٹِک اور ایک ریڈ ٹِک کا مطلب ہوگا کہ حکومت آپ کے خلاف کارروائی کرے گی!

اور تین ریڈ ٹِک کا مطلب ہوگا کہ حکومت نے آپ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

یاد رہے کہ یہی میسیج 2019ء میں بھی وہاٹس ایپ پر وائرل کیا گیا تھا تب سے آج تک وہاٹس ایپ استعمال کرنے والوں نے دو سے زائد تیسرا بلیو ٹِک دیکھا ہے اور نہ کسی نے لال ٹِک ہی دیکھا ہے!!

اس میسیج میں مزید لکھا گیا ہے کہ :
٭٭ وہاٹس ایپ ، فیس بک، انسٹا گرام اور ٹوئٹر پر حکومت کی نگرانی ہوگی۔

٭٭ وہاٹس ایپ کے تمام کالس ریکارڈ ہونگے اور انہیں محفوظ کیا جائے گا۔

٭٭ آپ کا موبائل منسٹری سسٹم سے کنکٹ ہوجائے گا۔

٭٭ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اس پیغام میں لکھا گیا ہے کہ اپنے بچوں اوردوست احباب کو بھی چوکنا کردیں۔

٭٭ وزیراعظم کے خلاف یا موجودہ حالات اور سسٹم سے متعلق کوئی پوسٹ شیئر یا فارورڈ نہ کریں۔

٭٭ سیاست یا مذہب کے خلاف کوئی پوسٹ شیئر یا فارورڈ یا شیئر نہ کیا جائے جسے جرم قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا گیا ہے کہ بناء کسی وارنٹ کے گرفتار کیا جائے گا۔

اس فیک میسیج کا اسکرین شارٹ یہاں پیش ہے جو وہاٹس ایپ پر وائرل کیا جارہا ہے:

اس میسیج کے متعلق خود پریس انفارمیشن بیورو کے Fact Check نے بھی 7 اپریل 2020ء کو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ جھوٹا میسیج ہے اور حکومت ایسا کوئی اقدام نہیں کررہی ہے۔

 

اس سلسلہ میں سوشیل میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ وہاٹس ایپ اور حکومت کے درمیان نہیں ہوا ہے،اصل جنگ تو اسی پر جاری ہے کہ وہاٹس ایپ اپنے صارفین کا سارا ریکارڈ مخفی رکھنا چاہتا ہے جیسا کہ گزشتہ دنوں وہاٹس ایپ انتظامیہ نے عدالت میں حلف نامہ داخل کیا ہے کہ وہ صارفین کی سرگرمیوں کو افشاء نہیں کرسکتا یہ اسکے قواعد کے خلاف ہے۔

یاد رہے کہ ہر میسیج کے پہنچتے ہی دو بلیو ٹک اور ایک لال ٹِک والا مضحکہ خیز انتباہ وہاٹس ایپ انتظامیہ نے بھی جاری نہیں کیا ہے۔

وہاٹس ایپ صارفین ہرگز اس جھوٹے میسیج سے خوفزدہ نہ ہوں وہاٹس ایپ اختتام سے آخر تک آپ کا تمام ریکارڈ خفیہ رکھتا ہے،لہذا صرف بھیجنے والے اور وصول کنندہ ان میسج تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں جنہوں نےایک دوسرے سے تبادلہ کیاہے۔

آپ کے تمام چیٹس ، تصاویر ، ویڈیوز ،آڈیو پیغامات ، دستاویزات ، اسٹیٹس اپ ڈیٹ ، آپ کے وہاٹس ایپ ویڈیو اور آڈیو کالس صرف آپ یا وہ شخص جس سے آپ بات چیت کر رہے ہیں ان کے درمیان ہی رہیں گے۔

اس سلسلہ میں وہاٹس ایپ ہر میسیج باکس میں یہ لازمی طورپر لکھتا ہے کہ : 

  آپ چاہیں تو وہاٹس ایپ کے اس پیغام کو کلک کرکے مزید تفصیلات پڑھ سکتے ہیں : 

آپ وہاٹس ایپ کے اس پیغام کو اس طرح کلک کرنے کے بعد ” مزید جانیں ” LEARN MORE کے آپشن پر کلک کریں تو مکمل تفصیلات اس طرح واضح طور پر لکھی ہوئی پائیں گے:

دوسری جانب وہاٹس اپ استعمال کرنے والوں کیلئے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ بلاء تصدیق جھوٹے میسیج،ویڈیوس اور فوٹوز، مذہبی اشتعال انگیزی پر مشتمل مواد یا پھر کسی بھی شخصیت کی اہانت پر مشتمل مواد کو بالخصوص وہاٹس ایپ پر شیئر/فارورڈ کرنے سے گریز کریں۔