راہول گاندھی کے خلاف دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی

راہول گاندھی کے خلاف دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی

نئی دہلی:05۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام)

سابق صدر کل ہند کانگریس کمیٹی و رکن لوک سبھا راہول گاندھی کے خلاف ایک شکایت کے بعد دہلی پولیس نے ان پر ایک ایف آئی آر درج کرلی ہے۔
دہلی میں ایک 9 سالہ دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ کے بعد کل راہول گاندھی نے اس لڑکی کے والدین سے ملاقات کی تھی جس کے خلاف ونیت جندال ایڈوکیٹ نے دہلی پولیس میں راہول گاندھی کے خلاف شکایت درج کروائی تھی کہ انہوں نے اس طرح مقتولہ کے افراد خاندان کی شناخت کو عام کردیاہے۔

اور اس سے پوسکو ایکٹ  اور جوانئیل جسٹس ایکٹ کے قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ونیت جندال ایڈوکیٹ کی اس شکایت پر دہلی پولیس نے راہول گاندھی کے خلاف ایف آئی آردرج کی ہے۔

دہلی میں 9 سالہ دلت لڑکی کی عصمت ریزی ، قتل اور والدین کو اطلاع دئیے بناء آخری رسومات کی ادائیگی کے واقعہ کے بعد کل صبح راہول گاندھی متاثرہ لڑکی کے مکان پہنچ کر اس کے والدین سے ملاقات کی تھی اور بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا تھا کہ وہ انصاف ملنے تک متاثرہ خاندان کے ساتھ رہیں گے۔

اس موقع پر لی گئیں تصاویر کو راہول گاندھی کے ٹوئٹر ہینڈل پر پوسٹ بھی کی گئی تھیں جس کے بعد ایک تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔

بی جے پی ترجمان سمبت پاترا نے اعتراض کرتے ہوئے کل الزام عائد کیا تھا کہ عصمت ریزی اور قتل کی شکار لڑکی اور اس کے افراد خاندان کی شناخت ظاہر کرکے راہول گاندھی نے پوسکو ایکٹ اور جوانئیل جسٹس ایکٹ کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔

سمبت پاترا نے بچوں کے حقوق کمیشن سے مطالبہ بھی کیا تھا کہ وہ راہول گاندھی کے خلاف کارروائی کرے۔اور انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ راہول گاندھی اس واقعہ سے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ادھر نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) نے بھی راہول گاندھی کے خلاف متاثرہ لڑکی اور اس کے افراد خاندان کی شناخت کو ظاہر کیے جانے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے اور کمیشن نے ٹوئٹر انڈیاکے خلاف بھی ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ راہول گاندھی کے ٹوئٹر ہینڈل کے خلاف کارروائی کی جائے ساتھ ہی اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کیا جائے۔

ساؤتھ ویسٹ دہلی کے قدیم ننگل علاقہ کی متاثرہ 9 سالہ لڑکی کے والدین کا الزام ہے کہ شمشان گھاٹ کے تین ملازمین اور پروہت کی جانب سے ان کی لڑکی کی عصمت ریزی کی گئی اور قتل کرکے آخری رسومات ادا کردی گئیں۔

اس سلسلہ میں متاثرہ لڑکی کی ماں کی شکایت پر دہلی پولیس نے تین افراد کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف قانون کی دفعات 302،376 اور502کے تحت کیس درج رجسٹر کرلیا ہے اور ساتھ ہی ملزمین کے خلاف پوسکو ایکٹ اور ایس سی ،ایس ٹی اٹرسٹی ایکٹ کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں۔
اس معاملہ میں پورے ملک میں احتجاج کیا جارہا ہے۔