مجسٹریٹ نے محمد زبیر کو سات دن کے لیے پولیس ریمانڈ کی درخواست کو مسترد کردیا
ایک دن کی پولیس ریمانڈ، کل عدالت میں پیش کرنے کا حکم
بیرسڑاسدالدین اویسی،راہول گاندھی،رویش کمار اور دیگر نے گرفتاری کی مذمت کی
نئی دہلی :27۔جون
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیاڈیسک )
دہلی پولیس نے آج شام مشہور فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز AltNews# کے معاون فاؤنڈر نوجوان صحافی محمد زبیر کو ایک کیس کے سلسلہ میں پوچھ تاچھ کی غرض سے طلب کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 153 (فساد پھیلانے کی غرض سے اکسانا) اور دفعہ 295A (مذہب کی توہین)کےالزامات کےتحت گرفتارکرلیا۔
آلٹ نیوز کے فاؤنڈر پرتیک سنہا نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”میں حیران ہوں کہ دہلی پولیس اس وقت زبیر کو دوارکا سے براری میں ڈیوٹی مجسٹریٹ کی رہائش گاہ تک لانے میں اتنی جلدی کیوں کررہی ہے؟ کیوں نہ اسے کل باقاعدہ عدالت میں 24 گھنٹے ختم ہونے سے پہلے پیش کیا جائے جو کل دوپہر تک نہیں ہے؟
رات 12 بجے کیےگئے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں پرتیک سنہا نےلکھا ہے کہ”زبیر کی جانب سے وکلاء سوتک بنرجی اورکول پریت کور پیش ہوئے پولیس نے 7 دن کی پولیس ریمانڈ مانگی تھی۔ڈیوٹی مجسٹریٹ نےطویل حراست دینے سے انکار کردیااور صرف ایک دن کی پولیس تحویل کی اجازت دی۔وکیل کو آدھے گھنٹے کی ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔ ++
اپنے ایک اور ٹوئٹ میں پرتیک سنہا نے لکھا ہے کہ”پولیس کو کل متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے”۔
محمد زبیر کی گرفتاری کے فوری بعد سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز بالخصوص ٹوئٹر جہاں محمدزبیر 5 لاکھ 53 ہزار 600 فالوورس ہیں پر اس گرفتاری کی مذمت کی سونامی آئی ہوئی ہے۔محمد زبیر بالخصوص ٹوئٹر پر بہت فعال رہتے ہوئے زیادہ تر جھوٹی خبروں اور نفرت انگیز مواد سے صارفین کو واقف کروانے میں ماہر مانے جاتے ہیں۔
آج شام محمدزبیر کی گرفتاری کے بعد کانگریسی لیڈر و رکن پارلیمان راہول گاندھی نے #ڈرومت کے ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”بی جے پی کی نفرت،تعصب اور جھوٹ کو بے نقاب کرنے والا ہرشخص ان کے لیے خطرہ ہے۔حق کی ایک آواز کو گرفتار کرنے سے ہزاروں مزید آوازیں اٹھیں گی۔ظلم پر ہمیشہ سچائی کی فتح ہوتی ہے۔DaroMat#
محمدزبیر کی گرفتاری کے فوری بعد ٹوئٹر کے علاوہ فیس بک اورانسٹاگرام پرIStandWithZubair# کا ہیش ٹیگ ٹرینڈچل رہا ہے۔جو کہ دنیا بھر میں ٹاپ پر چل رہا ہے۔

صدر کل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نےاپنے ٹوئٹ میں محمد زبیر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” محمد زبیر کی گرفتاری انتہائی قابل مذمت ہے،انہیں بغیر کسی نوٹس اورکسی نامعلوم ایف آئی آر میں گرفتار کیاگیا ہے۔مناسب عمل کی مکمل خلاف ورزی۔DelhiPolice@مسلم مخالف نسل کشی کے نعروں کے بارے میں کچھ نہیں کرتی۔لیکن نفرت انگیز تقریر کی اطلاع دینے اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کے "جرم” کے خلاف تیزی سے کارروائی کرتی ہے”
ملک کے نامور و میگاسیسے ایوارڈ یافتہ بیباک صحافی "رویش کمار” نے دو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”وہ جھوٹ کو بے نقاب کررہا تھا،تب اسی سے خطرہ ہوگیا۔دھرم کے نام پر نفرت کے کھیل کو بے نقاب کیا تو اسی سے نفرت ہوگئی،،پھر اسے دھمکیاں ملیں،جھوٹ کے نظام کا ساتھ دینے والوں کو جذبات مجروح کرنے کے اس کھیل میں کوئی خطرہ نہیں۔خطرہ جھوٹ کو بے نقاب کرنے والوں سے ہے۔زبیر جیل میں ہے۔
مشہور صحافی رویش کمار نے اپنے دوسرے ٹوئٹ میں لکھا کہ”امریکہ میں ہندوستان کے چیف جسٹس آف انڈیا نےکہا ہے کہ شہریوں کو آزادی جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے انتھک محنت کرنی چاہئے۔جسٹس چندر چوڑ نے کہاہے کہ حکومت کے جھوٹ کو بے نقاب کیا جانا چاہئے۔ دونوں کاموں کی وجہ سے زبیر جیل میں ہے۔کچھ مذمت کر رہے ہیں،کچھ جشن منا رہے ہیں۔
ایک ٹوئٹر صارف Meghnad@ جن کے ایک لاکھ 55 ہزار 700 فالوورس ہیں نے ٹوئٹرکے ایک اسکرین شاٹ کے ساتھ لکھا ہے کہ” زبیر کو دہلی پولیس نے ایک گمنام اکاؤنٹ سے شکایت پر گرفتار کیاہے۔جس میں صرف ایک ٹوئٹ تھا…شکایت۔بزدل شکایت درج کروانے کے لیے اپنا نام بھی استعمال نہیں کرسکتا”۔

یہاں قابل غور بات اور دہلی پولیس کی مستعدی کا کمال یہ نظر آرہا ہے کہ محمد زبیر کے خلاف جس ٹوئٹر ہینڈل سے اسکرین شاٹ ٹوئٹ کرتے ہوئے دہلی پولیس کو ٹیاگ کرکےشکایت کی تھی اس کا نام ” Hanuman Bhakt@ "ہے۔جس کو صرف اور صرف ایک شخص فالو کرتا ہے۔جسے اکتوبر 2021ء میں بنایا گیا تھا۔
Meghnad@ نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں خلاصہ کیا ہے کہ "محمد زبیر نے جو اسکرین شاٹ شیئر کیا تھا وہ 1983 میں بنی ایک ہندی فلم میں دکھائے گئے ایک "سائن بورڈ” کا ہے”۔
ٹوئٹر پر جاری ہیش ٹیگ ٹرینڈ کو اس لنک پر دیکھا جاسکتا ہے۔
https://twitter.com/search?q=%23IStandWithZubair&src=trend_click&vertical=trends

