فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر و نامور نوجوان صحافی محمد زبیر کو دہلی پولیس نے دفعات 153اور 295کے تحت گرفتار کرلیا

میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر ونامور نوجوان صحافی محمد زبیر کو
دہلی پولیس نے دفعات 153 اور 295 کے تحت گرفتار کرلیا

نئی دہلی: 27۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

سوشل میڈیا اور نیوز چینلوں پر پیش کیے جانے والی بناوٹی اور جھوٹی خبروں کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے اسے درست یا غلط یا پھر قدیم قرار دینے کے لیے مشہور فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز AltNews# کے معاون فاؤنڈر نامور و نوجوان صحافی محمد زبیرMohammed Zubair@ کو آج بالآخر دہلی پولیس نے گرفتارکرلیا ہے۔جیساکہ ان کے خلاف چنددنوں سے ایک مخصوص گروپ مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کی  مہم چلارہا تھا۔اور باقاعدہ محمد زبیر کے خلاف ٹوئٹر کے علاوہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ArrestMohammedZubair# کا ہیش ٹیاگ مسلسل چلایا جارہا تھا۔

میڈیا اطلاعات کےمطابق دہلی پولیس نے محمدزبیر کے خلاف درج ایف آئی آر کے سلسلہ میں آج انہیں پوچھ تاچھ کی غرض سے طلب کیا تھا دہلی پولیس کے اسپیشل سیل پولیس اسٹیشن پہنچنے کے بعد انہیں باقاعدہ انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 153(فساد پھیلانے کی غرض سے اکسانا) اور دفعہ 295A (مذہب کی توہین)کےالزامات کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔انہیں مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا جانے والا ہے تاکہ تفتیش کی غرض سے انہیں پولیس ریمانڈ حاصل کیا جا سکے۔

محمد زبیر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک قابل اعتراض تصویر ٹویٹ کی تھی جس کا مقصد جان بوجھ کر ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے مذہبی جذبات کی توہین کرنا تھا۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ محمد زبیر اس وقت سے ایک مخصوص گروپ کے راڈار پر آگئے تھے جب انہوں نے 26 مئی کو انگریزی نیوز چینل ٹائمز ناؤ پر لائیو ڈیبیٹ کے دؤران بی جے پی کی قومی ترجمان نوپورشرما کے اس حصہ کا ایک ویڈیو ٹوئٹ کیا تھا۔جس میں وہ پیغمبر اسلام ﷺ ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور واقعہ معراج ؐ کی شان میں گستا خانہ کلمات ادا کیے تھے۔جس کے بعد ٹائمز ناؤ چینل نے اس 33 منٹ پر مشتمل مکمل ڈیبیٹ کے ویڈیو کو یوٹیوب سے ہٹالیا تھا اور اس کی جانب سے مختلف سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے اس ڈیبیٹ کے ویڈیوز کو بھی ڈیلیٹ کردیا گیا تھا۔

اس ٹوئٹ کے ساتھ محمد زبیر نے لکھا تھا کہ” ہندوستان میں پرائم ٹائم کے ڈیبیٹ دوسرے مذہب کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے ایک پلیٹ فارم بن گئے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ٹائمز ناؤ اور اس کی ایڈیٹر اور اس پروگرام کی اینکر نویکا کمار نفرت پھیلانے والوں کو موقع فراہم کررہی ہیں،انہوں نے ٹائمز ناؤ کے مالک ونیت جین کو بھی اپنے ٹوئٹ میں ٹیاگ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ شرم آنی چاہئے آپ کو”۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد اس معاملہ سے ساری دنیا میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا۔زائد از 15اسلامی ممالک نے اس پرہندوستانی حکومت سے شدید احتجاج درج کرواتے ہوئے مذمت کی تھی۔

وہیں سارے ملک میں مسلمانوں نے زبردست احتجاج بھی کیا۔اور نوپور شرما کے خلاف ممبئی اور کولکاتہ میں ایف آئی آر درج کروائی گئی ہیں لیکن وہ پولیس سے چھپتی پھر رہی ہیں۔اسی دؤران 5 جون کو بی جے پی نے نوپورشرما کو 6 سال کے لیے پارٹی سے معطل کردیا اوراسی معاملہ میں ٹوئٹ کرنے پر اپنے ایک اور ترجمان نوین جندال کو بی جے پی سے خارج کردیا تھا۔

فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر وبیباک صحافی محمد زبیر کے خلاف حال ہی میں ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی۔ ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے ٹوئٹر پر مہنت بجرنگ منی،سوامی ا یتی نرسنگھا نند اور سوامی آنند سوروپ کو”نفرت پھیلانے والے” کہہ کرہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچایا ہے۔یہ ایف آئی آر اترپردیش کےسیتا پورضلع کےخیر آباد تھانہ میں ایک ہندوتنظیم کے سربراہ نے درج کروائی ہے اور پولیس اس کیس کی تحقیقات میں مصروف ہے۔

بیباک اور نوجوان صحافی محمد زبیر پر گزشتہ چند سال کے دؤران نصف درجن کے قریب ایف آئی آر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں درج کروائے گئے ہیں۔

آلٹ نیوز کے ایک اور معاون فاؤنڈر پرتیک سنہا Pratik Sinha@ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ محمد زبیر کو دہلی پولیس 2020 کے ایک کیس کے سلسلہ میں پوچھ تاچھ کی غرض سے طلب کیا تھا۔جبکہ اس کیس میں ہائی کورٹ نے پہلے ہی گرفتار نہ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ لیکن آج کسی اور کیس کے سلسلہ میں محمد زبیر کو آج شام 45-6 بجے دہلی پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔اور لازمی نوٹس بھی نہیں دی گئی  انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”بارہا درخواست کے باوجود ہمیں ایف آئی آر کی کاپی نہیں دی جارہی ہے۔”

محمد زبیر کی گرفتاری کی کئی اہم سیاسی،صحافتی،سماجی نمائندے شدید مذمت کر رہے ہیں۔

ایک گھنٹہ قبل کیے گئے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں پرتیک سنہا نے لکھا ہے کہ”طبی معائنے کے بعد زبیر کو نامعلوم مقام پر لے جایا جا رہا ہے۔نہ ہی زبیر کے وکلاء کو بتایا جارہا ہے اور نہ ہی مجھے بتایا جارہا ہے کہ کہاں ہیں۔ہم اس کے ساتھ پولیس وین میں ہیں۔کسی بھی پولیس عہدیدار نے اپنے نام کا ٹیگ نہیں لگایا ہے”۔

آلٹ کے فاؤنڈر پرتیک سنہا نے آج رات 20-10بجے کیےگئے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”زبیر کے کیس میں ایف آئی آر کی کاپی یا ریمانڈ کی درخواست سمیت کوئی بھی معلومات فراہم کیے بغیر،ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اسے "براری”میں ان کی رہائش گاہ پر ڈیوٹی مجسٹریٹ کےسامنےپیش کیا جانا ہے۔اسے فی الحال براری میں پولیس کی ایک بس کے اندر ایک گھنٹے سے زائد عرصے تک حراست میں رکھا گیا ہے۔