ڈی ایس سی میں کامیاب وقارآباد کی دو بہنوں نکہت اور شاہین کو سرکاری ملازمت، وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے ہاتھوں تقرر نامے حاصل

واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سے
وہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سے

ڈی ایس سی میں کامیاب وقارآباد کی دو بہنوں نکہت اور شاہین کو سرکاری ملازمت
وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے ہاتھوں تقرر نامے حاصل،سخت محنت اور جستجو رنگ لائی

حیدرآباد/وقارآباد : 9۔اکتوبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

فہیم جوگاپوری نے کبھی کہا تھا کہ

واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سے
وہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سے

اس شعر کو ریاست تلنگانہ کے وقارآباد ضلع مستقر کےساکن محمد صابر کی دو ہونہار دختران نکہت النساء اور شاہین النساء نےسچ ثابت کر دکھایا ہے۔اپنی جستجو، سخت لگن اور کچھ حاصل کرنے کے جنون نے ان بہنوں کو سرکاری ملازمت تک پہنچا دیا۔جنہوں نے ڈی ایس سی 2024ء میں پہلی مرتبہ شرکت کی اور کامیابی نے انکے قدم چوم لیے۔

دوسری جانب زیادہ تر مسلم طبقہ کے ذہنوں میں یہ غلط فہمی پیوست ہوگئی ہے کہ لڑکیوں کو زیادہ پڑھا کر کیا کرنا ہے؟ سرکاری ملازمت تو ہمیں ملے گی نہیں؟دیگر سرکاری اور خانگی اداروں میں ہمارے ساتھ امتیاز برتا جارہا ہے اس سوچ کو غلط ہی کہا جاسکتا ہے۔!!جبکہ موجودہ حالات میں بھی محنت،لگن اور کچھ حاصل کرنے کے جنون کی مثال یو پی ایس سی اور دیگر مرکزی اور ریاستی ادارہ جات کےمسابقتی امتحانات کے نتائج ہیں جہاں مسلم بچے بھی پردہ اور اسلامی حدود کی پابندی کیساتھ دیگر اقوام کےساتھ شانہ بہ شانہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

اسی طرح کارپوریٹ اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں بھی مسلم لڑکے لڑکیاں اہم عہدوں پر ملازمتیں حاصل کرنےمیں کامیاب ہورہے ہیں وہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔! اکثرسوشل میڈیا پر تنقید کی جاتی ہے کہ زیادہ تر لڑکے یا تو محنت اور جستجو نہیں کرتے یا پھر احساس کمتری کا شکار ہوکر کسی بڑی ملازمت کا انتظار کرتے ہوئے چبوترے آباد کرنے میں مصروف ہیں!۔ اور یہ بات قوم کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ ایسے لڑکوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔! ضروری ہے کہ بڑے پیمانے پر مختلف تنظیموں کو سامنے آنا چاہئے اور ایسے نوجوانوں کی ذہن سازی کی جائے تاکہ وہ بھی اپنے والدین کا معاشی بوجھ کم کرسکیں۔

دؤر حاضر میں ماحول کی خرابی کو دیکھتے ہوئے زیادہ تر خداداد صلاحیتوں کی مالک اور کچھ کر دکھانے کا عزم رکھنے والی لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم سے دور رکھنامسلم معاشرہ میں عام ہوتا جارہا ہے۔والدین آئےدن بگڑتےہوئے معاشرہ کی مثال پیش کرتےہوئے بالخصوص جماعت دہم یاانٹرمیڈیٹ کے بعد لڑکیوں کو مزید تعلیم سے دور رکھنا ہی بہتر سمجھتے ہیں،جبکہ ایک تعلیمیافتہ لڑکی آنے والی نسلوں کی معمار اور انکی رہنماء ہوتی ہے۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اگر ان لڑکیوں اور لڑکوں کی بہترین گھریلو تربیت اور دینی ماحول درست ہو تو وہ کسی بھی شعبہ میں اپنی کامیابی کے جھنڈے لہرا سکتے ہیں۔ایسی کئی مثالیں بھی ہیں کہ جرات مند والدین اپنی لڑکیوں پرمکمل اعتماد کرتے ہوئے نہ صرف انہیں اعلیٰ تعلیمیافتہ بنا رہے ہیں بلکہ انہیں باوقار عہدوں پر فائز ہونے کے مواقع سے استفادہ کی اجازت بھی دے رہے ہیں۔

ایسی ہی ایک مثال وقار آبادضلع مستقر کی ایل آئی جی کالونی سے تعلق رکھنے والے محمد صابر کی دو دختران کی نکہت النساء اور شاہین النساء کی ہے جنہوں نے اپنی انتھک محنت و لگن سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے سال 2024 کے امتحان ڈی ایس سی میں سیکنڈری گریڈ ٹیچر (ایس جی ٹی) میں شاندار کامیابی حاصل کی۔محمد صابر کی دونوں دختران نکہت النساء اور شاہین النساء نے خانگی اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔

ان دونوں بہنوں نکہت اورشاہین کا کہنا ہے کہ والدین کی خواہش کے مطابق پیشہ ور کورس ڈی۔ایل۔ایڈ کی تعلیم حاصل کی اور پہلی مرتبہ ڈی ایس سی امتحان میں شرکت کرتےہوئے ایس جی ٹی کے عہدہ پر دونوں نے ہی کامیابی حاصل کی اور سرکاری ملازمت کو اپنے قبضہ میں کرلیا۔

نکہت النساء اور شاہین النساء کو 9؍اکتوبر کو ایل بی اسٹیڈیم حیدرآباد میں وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے تقرر نامے حوالے کیے۔دونوں بہنوں نے اپنی اس کامیابی پر مسرت کا اظہار کیا اور اللہ رب العزت کا شکرادا کرتےہوئے کہا کہ ان کے والدین کی ہمت و حوصلہ افزائی اوران پر بھر پور اعتماد کرتے ہوئے انہیں سرکاری ملازمت حاصل کرنے تک پہنچا دیا۔

ان دونوں بہنوں نے ان کے اساتذہ ، رشتہ داروں اور ان کی ہمیشہ رہنمائی و حوصلہ افزائی کرنے والوں کا بھی شکریہ اداکیا۔ نکہت اور شاہین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پیشہ تعلیم جیسے مقدس پیشہ کے ساتھ مکمل انصاف کریں گی۔ان دونوں بہنوں کی اس کامیابی پر ان کے رشتہ داروں اور دیگر نے مبارکباد دی ہے۔قوم کی ان ہونہار لڑکیوں کی اس کامیابی کی خبریں میڈیا اورسوشل میڈیا پر وائرل ہیں جہاں انکی سراہنا کی جا رہی ہے۔