وقارآبادضلع: داماگنڈم میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ہاتھوں نیوی راڈار اسٹیشن کے قیام کے لیے سنگ بنیاد
ملک کی سلامتی میں تعاون کی جانب تلنگانہ کا ایک اور قدم : چیف منسٹر ریونت ریڈی

حیدرآباد/وقارآباد: 15؍اکتوبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام)
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 15 اکتوبر بروز منگل چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی کے ساتھ مل کر وقارآباد ضلع کے پوڈور منڈل میں موجود داما گنڈم کے محفوظ جنگلاتی علاقہ کی 2,900 ایکڑ اراضی پر 3,200 کروڑ روپئے کی لاگت سے بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کو تقویت دینے کی غرض قائم کیے جانے والے ” انتہائی کم فریکوئنسی اسٹیشن (وی ایل ایف) ” Very Low Frequency ” کا سنگ بنیاد رکھا۔
اس تقریب میں اسپیکر تلنگانہ اسمبلی گڈم پرساد کمار،مملکتی وزیر داخلہ بنڈی سنجے کمار،ریاستی وزیر جنگلات و ماحولیات کونڈا سریکھا، رکن پارلیمان چیوڑلہ کونڈا وشویشور ریڈی، ایم ایل سی و چیف وہپ ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی، رکن اسمبلی پرگی ٹی۔رام موہن ریڈی، رکن اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی،بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی،مشرقی بحریہ کے کمانڈنگ ان چیف ایڈمرل راجیش پنڈھارکر کے علاوہ وزارت دفاع اور ریاستی حکومت کے دیگر اعلیٰ عہدیدار شریک تھے۔
سخت صیانتی انتظامات کے درمیان منعقدہ اس تقریب سے خطاب کرتےہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نےمیزائل میان و سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو ان کی یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئےکہاکہ ان کے یوم پیدائش پر اس وی ایل ایف اسٹیشن کا سنگ بنیاد باعث مسرت ہے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک کے دفاعی شعبے میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا کردار طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔جنہوں نے نہ صرف ملک کو جدید فوجی ٹیکنالوجی فراہم کی بلکہ سائنسدانوں اور انجینئروں کی ایک نسل کو بھی متاثر کیا۔
انہوں نے کہا کہ وی ایل ایف اسٹیشن کی سہولت بحری مفادات کے تحفظ کے لیے کمانڈ سینٹرز کے ساتھ بحری جہازوں اور آبدوزوں کے درمیان محفوظ اور حقیقی وقتی رابطے کو یقینی بنائے گا۔وزیر دفاع نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے لیے ایک مضبوط گہرے سمندری قوت بنے رہنے کے لیے جدید ترین پلیٹ فارم اور فول پروف مواصلاتی نظام ضروری ہے اور ہندوستانی بحریہ بحر ہند کے خطے میں امن کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ میرین ٹائم سیکورٹی ایک اجتماعی کوشش ہے اور ملک کے بحری خطے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام دوست ممالک کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ہندوستان تقسیم کےبجائے متحد ہونے پر یقین رکھتا ہے اس سے ایک ملک بھی دور رہ جائے توحفاظتی نظام ٹوٹ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کو مزیدمضبوط کرے گا اورمشکل سمندری ماحول میں موثر کمانڈ اور کنٹرول صلاحیتوں کو یقینی بنائے گی۔یہ اسٹیشن بحری مواصلاتی ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں ایک کلیدی کردار اداکرے گا اور طویل فاصلے تک قابل اعتماد اور محفوظ مواصلات کو ممکن بنائے گا۔
اس تقریب سے اپنے خطاب میں وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وی ایل ایف اسٹیشن ملک کی عسکری صلاحیتوں کو بڑھائے گا اور مسلح افواج کے لیے ایک نعمت ثابت ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ جدید وی ایل ایف اسٹیشن، جب فعال ہو جائے گا، صرف ایک فوجی ادارہ نہیں ہوگا بلکہ قومی اہمیت کا ایک اسٹریٹجک اثاثہ ہوگا۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنگ کے بدلتے ہوئے طریقوں کے پیش نظر انسانوں اور مشینوں کے درمیان موثر ہم آہنگی انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے یہ وی ایل ایف اسٹیشن ہمارے بحری مفادات کو محفوظ کرنے کے وژن کےتحت بنایا جا رہا ہے۔یہ ہمارے بحری جہازوں اور آبدوزوں کے درمیان اور مسلح افواج کے کمانڈ سینٹرز کے ساتھ محفوظ اور حقیقی وقت میں رابطے کو یقینی بنائے گا اور یہ ایک ناقابل تسخیر مواصلاتی نظام فتح اور شکست کے درمیان فیصلہ کن عنصر ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ حقیقی وقت کے رابطے کے بغیر مناسب ساز و سامان یا افرادی قوت ہونے کے باوجود ہم برتری حاصل نہیں کر سکتے۔
وزیر دفاع نے مضبوط مواصلاتی نظام کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہوئے اسے کسی بھی پیچیدہ آپریشن میں ہم آہنگی کے لیے کلیدی قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک واضح اور محفوظ مواصلاتی چینل نہ صرف بروقت اور موثر فیصلے کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ کمانڈ کے احکامات کو فیلڈ فارمیشنس تک پہنچانے اور ان سے فیڈ بیک حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے مزید کہاکہ اگر میدان جنگ یا آپریشنل ماحول میں فوجی مکمل طور پر باخبر ہوں تو ان کا حوصلہ اور یکجہتی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے،جس سےحفاظت اورحکمت عملی دونوں میں بہتری آتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بحران کے انتظام کےدوران ایک واضح مواصلاتی چینل کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔جب صورتحال متحرک ہو اور ردعمل کا وقت بہت کم ہو تو یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے اور یہ چیزیں تاریخ میں ثابت ہو چکی ہیں ہم ماضی سے سیکھ رہے ہیں اور مستقبل کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے کوشش کرنے میں مصروف ہیں۔
وزیر دفاع نے ملک کی بحریہ کومسلسل مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا خاص طور پر ملک ک سمندری خطے میں عالمی دلچسپی کےبڑھتےہوئے پس منظر میں انہوں نے کہاکہ ہماری دلچسپی انڈو-پیسفک خطے میں پھیلی ہوئی ہے۔ہم آئی او آر میں سب سےپہلے ردعمل کا اظہار کرنے والے اور ایک پسندیدہ سکیورٹی پارٹنر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ آج کئی ممالک نے اس علاقے میں سمندری وسائل کی جانب اپنی توجہ منتقل کر دی ہے۔اگر ملک کو اپنے تجارتی اور سکیورٹی مفادات کی حفاظت کرنی ہے اور ایک مضبوط گہرے سمندر کی طاقت بنے رہنا ہے تو جدید ترین پلیٹ فارم، سامان اور ایک مضبوط مواصلاتی نظام کا ہونا ضروری ہے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اچھی بحریہ جنگ کی تحریک نہیں بلکہ امن کی ضمانت ہوتی ہے۔انہوں نے ملک کی بحریہ کو پورے آئی او آر بشمول خلیج بنگال میں امن کی سب سے بڑی ضمانت قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ جن ممالک کے ساتھ ملک کی سمندری سرحدیں ہیں انہیں سمجھنا چاہئے کہ سمندری سکیورٹی ایک اجتماعی کوشش ہے۔بیرونی قوتوں کو اپنے دروازے پر بلانا اس کوشش کو نقصان پہنچاتا ہے۔ خلیج بنگال اور آئی او آر میں امن اور نظم و نسق برقرار رکھنا ہم سب کی ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کوشش میں ملک کو تمام دوستانہ ممالک کی حمایت کی ضرورت ہے انہوں نے کہا ہندوستان جوڑنے میں یقین رکھتا ہے نہ کہ توڑنے میں۔
تلنگانہ کے وقارآباد ضلع میں وی ایل ایف راڈار اسٹیشن کے قیام سے ماحولیاتی اثرات کےمتعلق عوامی خدشات کو دور کرتےہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ تمام ماحولیاتی شرائط کا خیال رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو تعمیر کے دوران متاثرہ لوگوں کی بحالی کے انتظامات کیے جائیں گے۔انہوں نے پائیدار ترقی کو حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ اس وی ایل ایف اسٹیشن میں نئی ٹیکنالوجی کا ماحول پر منفی اثر نہ ہو۔
راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ وی ایل ایف اسٹیشن مقامی آبادی کے لیے روزگار اور اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس کی تعمیر کے دوران آس پاس کے علاقے کے ہنر مند اور غیر ہنر مند ملازمین کو روزگار حاصل ہوگا۔ اس کے بعد جب اسٹیشن کام
شروع کرے گا تو لوگوں کے لیے روزگار کے کافی مواقع پیدا ہوں گے۔یہ اسٹیشن نہ صرف روزگار میں اضافہ کرےگا بلکہ ترقی کا ایک مرکز بھی بنے گا جو آس پاس کے علاقوں میں اقتصادی ترقی کو مزید فروغ دے گا۔وزیر دفاع نے اس منصوبے سے جڑے تمام شراکت دارو ں خاص طور پر مقامی طبقات کا اس کی حمایت کے لئے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب بات ملک کی سلامتی اور خود مختاری کی ہوتی ہے تو سب لوگ نظریات، مذاہب اور فرقوں سے بالاتر ہو کر ایک ہو جاتے ہیں۔
چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی نے اس تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ وقارآباد ضلع کے داماگنڈم وی ایل ایف راڈار اسٹیشن کا قیام ملک کی سلامتی میں ریاست تلنگانہ کے تعاون میں ایک اور قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاعی نظام کے لیے حیدرآباد ایک اہم مقام بن گیا ہے اور ملک کے سمندری نظام کے سفر کے لیے وقارآباد ضلع میں وی ایل ایف استیشن کا قیام خوش آئند ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ وقارآباد میں ملک کے دوسرے وی ایل ایف اسٹیشن کے قیام کو لے کر افواہوں کے ذریعہ عوام کو خوفزدہ کیا جارہا ہے اور تلنگانہ کےعوام اس کو ملک کی سلامتی کے طور پر دیکھیں۔وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے اپنے خطاب میں انکشاف کیا کہ 2017ء میں ہی داما گنڈم میں وی ایل ایف اسٹیشن کے قیام کے لیے بی آر ایس دورحکومت میں اراضی کی تبدیلی عمل میں لائی گئی تھی۔بعدازاں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے اراضی کی منظوری کی خواہش پر انہوں نے تمام عہدیداروں سے مشورہ کے بعد اراضی مختص کی ہے۔
چیف منسٹرنے داماگنڈم میں وی ایل ایف راڈار اسٹیشن کی مخالفت کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی کے اس معاملہ کو سیاست سے دور رکھا جائے۔چیف منسٹر نے کہا کہ داماگنڈم میں موجود مندر کے تحفظ اور درشن کے لئے آنے والوں کو کوئی تکلیف نہ ہو اس کے لیے انہوں نے وزیر دفاع سے موثر نمائندگی بھی کی ہے۔

اس تقریب سے اپنے خطاب میں بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی نے کہاکہ یہ منصوبہ ملکی بحریہ کی مواصلاتی صلاحیتوں میں ایک نئے باب کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے جو سمندروں کے پار محفوظ،مضبوط، جوابدہ اور قابل اعتماد کمانڈ، کنٹرول اور مواصلات کے نیٹ ورک کو یقینی بنائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سہولت جب مکمل ہو جائے گی توتمل ناڈو کے تروینیلی میں آئی این ایس کٹابومن کے موجودہ وی ایل ایف اسٹیشن کی تکمیل کرے گی اور یہ وی ایل ایف اسٹیشن محفوظ عالمی مواصلات کو یقینی بنانےمیں ایک اہم کردار ادا کرے گا خاص طور پر ہماری ڈائیوڈ آبدوزوں کے ساتھ جس سے ان کی پوشیدگی اور بڑھتی ہوئی تاثیر کو یقینی بنایا جا سکے گا۔


