ترجمہ شدہ تیلگو ناول”جب زندگی شروع ہوگی” کا رسمِ اجراء

ترجمہ شدہ تیلگو ناول ” جب زندگی شروع ہوگی ” کا رسمِ اجراء

تروپتی۔16۔ستمبر (سحرنیوزڈاٹ کام)

سری وینکٹیشورا یونیورسٹی،تروپتی میں ابو یحییٰ کے ناول”جب زندگی شروع ہوگی”کے تیلگو ترجمہ بنام”جیویتم اِپّوڈے مودلائیندی”کا رسمِ اجراء سری وینکٹیشورا یونیورسٹی،تروپتی کے وائس چانسلر پروفیسر راجا ریڈی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

اس موقع پر وائس چانسلر نے ناول کے اس ترجمہ پر کہا کہ ڈاکٹر حسینہ بیگم قابلِ مبارکباد ہیں اور اردو ادب کے تخلیقی شاہکاروں کا تیلگو زبان میں ترجمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔جس سے اردو ادب کے باثروت ذخیرے کے بارے میں اہلِ تیلگو کو واقفیت حاصل ہوگی۔

یونیورسٹی کی ریکٹار پروفیسر سندرولّی نے کہا کہ ڈاکٹر حسینہ بیگم اور ان کے شوہر شعبۂ فلسفہ کے پروفیسر عبد الستار قابلِ مبارکباد ہیں کیونکہ اردو زبان و ادب کے لیے وہ ہمیشہ ذاتی دلچسپی سے اپنا وقت صرف کرتے رہتے ہیں۔

چیرمین بورڈ آف اسٹڈیز اور شعبۂ اردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد نثار احمد نے اس موقع پر کہا کہ ڈاکٹر حسینہ بیگم نے قبل ازیں دو اردو ناولوں کا تیلگو میں ترجمہ کیا ہے۔انہوں نے ڈاکٹر صادقہ نواب سحر کے ناول "کہانی کوئی سناؤ متاشا” (نی کتھا وِنپینچو متاشا”) کے نام سے اور راسانی کے ناول” مدرا ” کا ترجمہ” مہر” کے نام سے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اردو ادب کے تیلگو تراجم کا یہ سلسلہ قابلِ ستائش ہے اور ڈاکٹر حسینہ بیگم کے قلم سے مستقبل میں مزید تراجم کا انتظار رہے گا۔

اس موقع پر ڈاکٹر محمد امین اللہ،صدرِ شعبۂ اردو، ایس۔وی۔ یونیورسٹی،تروپتی نے کہا کہ تیلگو میں اردو ادب کے شائقین کے ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ترجمہ شدہ اردو ادب کو تیلگو میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔

ترجمہ شدہ ناول کے رسمِ اجراء پر شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالرس، طلبہ و طالبات نے مترجمہ کو مبارکباد پیش کی۔ڈاکٹر وصی بختیاری،دیگر متعلقین اور محبانِ اردو نے بھی ڈاکٹر حسینہ بیگم کو مبارکباد پیش کی۔