ہندوستان میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی ضرورت،مرکزی حکومت اقدامات کرے: دہلی ہائیکورٹ

ہندوستان میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی ضرورت

ایک طلاق  کے معاملہ میں دہلی ہائیکورٹ کی مرکزی حکومت کو ہدایت

نئی دہلی: 09۔جولائی (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

جسٹس دہلی ہائیکورٹ محترمہ پرتھیبا ایم سنگھ نے ایک طلاق کے معاملہ میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ہندوستانی معاشرہ ” آہستہ آہستہ یکساں ہوتا جارہا ہے ، مذہب ، برادری اور ذات پات کی روایتی رکاوٹیں آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہیں اور یوں یکساں سول کوڈ کو صرف امیدکے طورپر نہیں رکھنا چاہئے”۔

جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ نے یکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ) کے تعارف کے حق میں کہا ہے کہ شادی اور طلاق کے سلسلے میں مختلف ذاتی قوانین میں تنازعات کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاملات سے ملک کے نوجوانوں کو جدوجہد کرنے پر مجبور ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے "ہندوستان کے نوجوانوں کو مختلف برادریوں ، قبائل ، ذاتوں یا مذاہب سے تعلق رکھنے والے جو اپنی شادیوں کو سنجیدہ سمجھتے ہیں ، انہیں مختلف ذاتی قوانین ، خاص طور پر شادی اور طلاق کے سلسلے میں تنازعات کے سبب پیدا ہونے والے معاملات سے لڑنے پر مجبور نہیں ہونا چاہئے۔

ہائی کورٹ نے 1985 کے تاریخی شاہ بانو کیس سمیت یکساں سول کوڈ کی ضرورت سے متعلق سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ "آئین کے آرٹیکل 44 میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ریاست اپنے شہریوں کے لئے یکساں تحفظ فراہم کرے گی۔سول کوڈ کو محض ایک امیدکی حد تک نہیں رہنا چاہئے۔”

دراصل جسٹس دہلی ہائی کورٹ ک پرتھیبا ایم سنگھ نے طلاق کے ایک معاملہ میں یہ باتیں کہیں۔عدالت کے سامنے یہ سوال پیدا ہواتھا کہ آیا طلاق کا فیصلہ ہندو میرج ایکٹ کے مطابق ہونا چاہئے یا پھر ” مینا درج فہرست ذات "کے ایکٹ کے مطابق! کیونکہ شوہر ہندو میرج ایکٹ کے مطابق طلاق چاہتا تھا، جبکہ بیوی نے کہا کہ وہ مینا قبیلے سے ہیں لہٰذا ہندو میرج ایکٹ ان پر نافذنہیں ہوتا ہے۔اسی وجہ سے اس کے شوہر کی طرف سے دائر فیملی عدالت میں طلاق کی درخواست کو خارج کیا جانا چاہئے۔

شوہر نے بیوی کی اسی دلیل کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ہائی کورٹ نے شوہر کی اپیل کو تسلیم کرتے ہوئے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یکساں سول کوڈقومی یکجہتی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔

دہلی ہائیکورٹ نے مشاہدہ کیا کہ یکساں سول کوڈ کی ضرورت کو وقتا فوقتا سپریم کورٹ نے دہراتے ہوئے کہا "تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اس سلسلے میں آج تک کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

ہائیکورٹ نے ہدایت دی کہ اس حکم کی ایک کاپی مناسب سمجھی جانے والی ضروری کارروائی کے لیے سیکریٹری،وزارت قانون و انصاف،حکومت ہند کو روانہ کی جائے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس کے سامنے ایسا کچھ بھی نہیں رکھا گیا تھا تاکہ یہ ظاہر کیا جاسکے کہ مینا برادری ٹرائب کی ایک خصوصی عدالت ہے جو ان معاملات سے نمٹنے کے لئے مناسب طریقہ کار رکھتی ہے۔