- ہیلی کاپٹر حادثہ میں چیف ڈیفنس آف اسٹاف جنرل بپن راوت اوران کی اہلیہ کی موت
صدر جمہوریہ، وزیراعظم نریندرمودی نے ٹوئٹر پر گہرے دکھ اور شدیدغم کا اظہار کیا
نئی دہلی: 08۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز )
تمل ناڈو کے کوئمبتور اور کولور کے درمیان "نیلگری”میں آج دوپہر انڈین آرمی کے ہیلی کاپٹر کے گرجانے اور اس میں سوار چیف ڈیفنس آف اسٹاف جنرل بپن راوت سمیت ان کی اہلیہ محترمہ مدھولیکا راوت کے متعلق اطلاعات کے انتظار،تجسس اور عوام کی بے چینی کے دؤران وزیراعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ کے ذریعہ ان دونوں کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں موت پر شدید دکھ اور گہرے غم کا اظہار کیا ہے۔
تھوڑی دیر قبل ہی اطلاع آئی تھی کہ اس حادثہ میں ہیلی کاپٹر میں سوار 14 مسافرین میں سے 13 کی موت واقع ہوئی ہے۔خبررساں ادارہ اے این آئی نے اپنے ٹوئٹ میں ذرائع سے دستیاب یہ اطلاع دی تھی۔
قبل ازیں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر حادثہ میں چیف ڈیفنس آف اسٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ محترمہ مدھولیکا راوت کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ تمل ناڈو میں آج بدقسمتی سے ایک ہیلی کاپٹر حادثہ میں چیف آف ڈیفنس آف اسٹاف جنرل بپن راوت،ان کی اہلیہ اورمسلح افواج کے دیگر 11 اہلکاروں کی اچانک موت سے گہرے غم کا باعث ہے۔ان کی بے وقت موت ہماری مسلح افواج اور ملک کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
بعدازاں ” انڈین ایرفورس” کے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعہ ٹوئٹ کرتے ہوئے بھی تصدیق کردی گئی کہ اس ہیلی کاپٹر حادثہ میں چیف ڈیفنس آف اسٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ محترمہ مدھولیکا راوت بھی دیگر 11 مسافرین کے ساتھ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
خبر رساں ادارہ اے این آئی کے مطابق کوئمبتور کے اوٹی سے قریب کونور میں حادثہ کے شکار اس ہیلی کاپٹر میں 14 افراد سوار تھے جن میں چیف ڈیفنس آف اسٹاف جنرل بپن راوت،ان کی اہلیہ محترمہ مدھولیکا راوت،بریگیڈر ایل ایس لڈر،لیفٹنٹ کرنل ہرجیندر سنگھ،این کے گرو سیوک سنگھ،این کے جتیندرا کے آر،لانس نائیک وویک کمار،بی۔سائی تیجا اور ایچ اے وی ست پال شامل ہیں۔
تاہم سرکاری سطح پرچیف ڈیفنس آف اسٹاف جنرل بپن راوت سمیت ان کی اہلیہ محترمہ مدھولیکا راوت کے متعلق کوئی اطلاع سرکاری طور پر نہیں دی گئی تھی۔
آج شام ساڑھے 6 بجے وزیراعظم نریندر مودی اور انڈین ایرفورس کے ان ٹوئٹس کے بعد چیف ڈیفنس آف اسٹاف جنرل بپن راوت سمیت ان کی اہلیہ محترمہ مدھولیکا راوت کی موت کی بھی تصدیق ہوگئی ہے۔
ہندوستان کی تاریخ کا یہ پہلا افسوسناک واقعہ ہے جس میں سابق چیف آف دی آرمی اسٹاف و موجودہ چیف ڈیفنس آف اسٹاف جنرل بپن راوت سمیت ان کی اہلیہ اور ہندوستانی فوج کے دیگر اعلیٰ عہدیدار اس طرح حادثہ کا شکار ہوئے ہیں۔
جبکہ انڈین ایرفورس کے ایک اور ٹوئٹ کے مطابق حادثہ کے شکار اس ہیلی کاپٹر میں سوار جی پی کیپٹن ورون سنگھ ایس سی، ڈی ایس ایس سی میں ڈائرکٹنگ اسٹاف شدید زخمی حالت میں فی الحال ملٹری ہسپتال،ویلنگٹن،تمل ناڈو میں زیر علاج ہیں۔اس طرح اب تک جملہ 13 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
63 سالہ چیف ڈیفنس آف اسٹاف جنرل بپن راوت 16 مارچ 1958ء کو اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال ضلع میں راوت راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد ایل ایس راوت فوج سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ریٹائرڈ ہوئے۔جنرل بپن راوت 16 ڈسمبر 1978 کو فوج میں شامل ہوئے تھے۔بعدازاں انہوں نے ترقی کی منازل طئے کیں۔
جنرل بپن راوت نے 31 ڈسمبر 2016 کو فوج کے سربراہ (چیف آف دی آرمی اسٹاف COAS) کے عہدہ کا جائزہ حاصل کیا تھا اور ڈسمبر 2019ء کے اواخر میں وہ اس عہدہ سے وظیفہ حسن خدمات پر سبکدوش ہوئے تھے۔
بعدازاں مرکزی حکومت نے ایک نیا عہدہ ” چیف ڈیفنس آف اسٹاف ” تشکیل دیتے ہوئے یکم جنوری 2020ء کو جنرل بپن راوت کو ملک کے پہلے چیف ڈیفنس اسٹاف بنایا تھا۔
ہیلی کاپٹر حادثہ میں چیف ڈیفنس آف اسٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ محترمہ مدھولیکا راوت کی موت پر صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کوونڈ جو کہ ہندوستان کی تینوں افواج کے سربراہ ہوتے ہیں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "میں جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ مدھولیکا جی کی بے وقت موت پر صدمہ میں اور غمزدہ ہوں۔قوم اپنا ایک بہادر بیٹا کھو چکی ہے۔مادر وطن کے لیے ان کی چار دہائیوں کی بے لوث خدمت غیر معمولی بہادری اور بہادری سے عبارت تھیں۔ان کے خاندان سے میری تعزیت”
ان کے علاوہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ،مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ،مرکزی و ریاستی وزراء،مختلف جماعتوں کے ارکان پارلیمان، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور ملک کی اہم شخصیتوں نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر تعزیت کا اظہار کیاہے۔

