میرا ملک،زمین کا عظیم ترین ملک بننے کی صلاحیت رکھتا ہےلیکن ……کرکٹر عرفان پٹھان کاٹوئٹ،امت مشرا کا جواب

میرا ملک،زمین کا عظیم ترین ملک بننے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ……
 کرکٹر عرفان پٹھان کاٹوئٹ،امت مشرا کاطنزیہ ٹوئٹ!!
مِلے سُر میرا تمہارا،جیسے قومی یکجہتی کو فروغ دینے والے گیت کہاں گئے؟
ٹی۔سیریز اور منوج باجپائی کا قومی یکجہتی پر مبنی خوبصورت ویڈیو وائرل

نئی دہلی:22۔اپریل(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

ٹیم انڈیا کے سابق کھلاڑی عرفان پٹھان نے آج ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے سب کو چونکادیا ہے۔اب ان کا یہ ٹوئٹ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا ہے۔

کرکٹر عرفان پٹھان Irfan Pathan@نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”میرا ملک،میرا خوبصورت ملک،زمین کاعظیم ترین ملک بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن….”۔ آج صبح 15-5 بجے کیے گئے ان کے اس ٹوئٹ کو اب تک 46.600 ٹوئٹر صارفین نے لائیک،5,239 نے ری۔ٹوئٹ اور اس ٹوئٹ پر 5,387 صارفین نے مختلف کمنٹس کیے ہیں۔اگرچہ کرکٹر عرفان پٹھان نے اپنے اس ٹوئٹ میں سیاق و سباق کی وضاحت نہیں کی۔لیکن مانا جارہا ہے کہ وہ موجودہ سماجی و سیاسی واقعات پر تبصرہ کررہے ہیں!۔

عرفان پٹھان کے اس ٹوئٹ کے بعد ایک اور کرکٹر امِت مشرا Amit Mishra@نے سات گھنٹے قبل ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”میرا ملک،میرا خوبصورت ملک،زمین کاعظیم ترین ملک بننے کی صلاحیت رکھتا ہے….صرف اس صورت میں جب کچھ لوگوں کو یہ احساس ہو کہ ہمارا آئین پہلی کتاب ہے جس پر عمل کیا جائے گا”۔

ان کے اس ٹوئٹ کو اب تک 99,300 ٹوئٹر صارفین نے لائیک، 24,100نے ری۔ٹوئٹ کیے ہیں اور اس ٹوئٹ پر 4.196 مختلف کمنٹس کیے ہیں۔

مانا جارہا ہے کہ امِت مشرا کا اشارہ قرآن شریف اور دستور ہند کی جانب ہے؟ یہی وجہ ہے کہ امیت شرما کے اس ٹوئٹ کے ساتھ میمز بناکر عرفان پٹھان کے خلاف ٹرولنگ کی جارہی ہے۔

اس سلسلہ میں” زویا رسول Zoya Rasul@ امت شرما کے اس ٹوئٹ کو پوسٹ کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ”امت مشرا اور تقریباً تمام ہندوستانی کھلاڑیوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ امِت اپنا تعصب کھلے عام ظاہر کرتے ہیں!!۔

دوسری جانب ماضی کی طرف دیکھا جائے تو ایک وقت ایسا تھا کہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات عام ہوا کرتے تھے۔فسادات کی آڑ میں معصوم انسانوں کا قتل اور ان کی املاک کی بربادی ہر ماہ دو ماہ میں ایک مرتبہ لازمی مانی جاتی تھی۔اسی پس منظر میں کاملؔ بہزادی نے  کہا تھا کہ؎

اس قدر میں نے سلگتے ہوئے گھر د یکھے ہیں
اب تو چبھنے لگے آنکھوں میں اجالے مجھ کو

اُس وقت بالی ووڈ سمیت علاقائی فلم انڈسٹریز کے علاوہ تمام کھیلوں سے کھلاڑی جس کا تمام مذاہب سے تعلق ہوتا تھا ان فرقہ وارانہ فسادات پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے افسوس ظاہر کرتے اور دونوں طبقات کو پرامن رہنے کے پیغامات دیا کرتے تھے۔

بہت سے قارئین اور ناظرین کو یاد ہوگا کہ 1980-1990 کے دہے میں ایک وقت تھا جب دوردرشن پر انہی فلمی ستاروں،مختلف نامور کھلاڑیو کے ذریعہ قومی یکجہتی پر مبنی خصوصی گیت بھی لگاتار نشر کیے جاتے تھے۔تاکہ عوام فرقہ وارانہ فسادات سے دور رہیں۔کیونکہ اس وقت فلمی ستاروں کے شائقین جنونی حد تک ان کے مداح ہوا کرتے تھے۔اور فلم اداکاروں کی اپیل کا اثر بھی ہوا کرتا تھا۔

15 اگست 1988 میں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے”مِلے سُر میرا تمہارا” گیت ریلیز کیا گیاتھا۔اس وقت راجیو گاندھی وزیراعظم تھے۔اس قومی یکجہتی کو فروغ دینے والے خوبصورت گیت کو پیوش پانڈے نے لکھا تھا اور موسیقی بھمیش جوشی،اشوک پٹکی اور لوئیز بیانک نے دی تھی۔

اس وقت اس فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیغام پرمشتمل 6 منٹ 16 سیکنڈ طویل”مِلے سُر میرا تمہارا” کواردو اور ہندی زبانوں کے حسین امتزاج کے ساتھ کے ساتھ ملک کی علاقائی زبانوں بنگالی،مراٹھی،اڑیہ،آسامی،گجراتی،کشمیری،کنڑا،ملیالم، پنجابی،تلگو،تمل اور سندھی زبانوں میں ڈب کرتے ہوئے سارے ملک کے دوردشن کے علاقائی چینلوں پر بجایا جاتا تھا۔

” 1988 میں پہلی مرتبہ بنایا گیا گیت ” ملے سُر میرا تمہارا” 

بعدازاں اس گیت میں 2002 میں ترمیم کی گئی تھی۔اس گیت کو پنڈت بھیم سین جوشی،بالا مرکرشنا،لتا منگیشکر،کویتا کرشنا مورتی،شبھانگی بوس،شچترا مشرا،آر اے راما منی اور آنندا شنکر نے گایا تھا۔اس اصل گیت اور بعد میں ترمیم شدہ گیت میں فلم اداکار امیتابھ بچن،کمال حسن،جتیندر،متھن چکرورتی،شرمیلا ٹیگور، وحیدہ رحمٰن،شبانہ اعظمی،تنوجہ،ہیمامالینی،میناکشی شیشادری،ریوتی،اوم پوری،امریش پوری، دینا پاٹھک کے بشمول کرکٹ کھلاڑیوں ارون لال اور نریندر ہیروانی کے بشمول ہاکی،فٹبال،بیاڈمینٹن کے علاوہ اس وقت کےمشہور ڈانسرس نے اداکاری کی تھی۔

اسی گیت کو دوبارہ "پھر ملے سُر میرا تمہارا” کے نام سے 26 جنوری 2010 کو ترمیم کرتے ‘زوم ٹی وی کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔اس گیت کو 16 منٹ 17 سیکنڈ تک طوالت دی گئی۔اس گیت کے ڈائرکٹر بھی کیلاش سریندر ناتھ تھے جنہوں پہلے اس گیت کی ہدایت وی تھی۔”پھرملے سُر میرا تمہارا کو” نئی نسل کے لیے تیارکرتے ہوئے اس کی موسیقی اے آر رحمٰن،شنکر،احسان،لوئی،انوشکا شنکر، ذاکرحسین، بھوپین ہزاریکا،امجد علی خان،امان علی خان،ایان علی خان،لوئیز بینک،درشن دوشی نے دی تھی۔

قومی یکجہتی کے پیغام پرمشتمل اس گیت کو ایسوداس،شریہ گھوشل،گرداس مان،کویتا کرشنا مورتی،شان،سونو نگم،امیتابھ بچن اور دیگر نے اپنی آواز دی تھی۔اس گیت میں اداکار امیتابھ بچن،مموٹی،سلمان خان،شاہ رخ خان،عامرخان،وکرم،سوریہ،ایشوریہ رائےبچن،ابھیشیک بچن،مہیش بابو،جوہی چاؤلہ،شلپا شیٹی،پروسین جیت چٹرجی،ریتو پرنا سین گپتا،دیپیکا پدوکون، پریانکا چوپڑہ،شاہد کپور اور رنبیر کپور کے علاوہ سچن تینڈولکر اور دیگر نے حصہ لیا تھا۔ 

” 2010 میں ترمیم کے بعد دوبارہ بنایا گیت ” پھر مِلے سُر میرا تمہارا "

اب اس سلسلہ میں اداکارمنوج باجپائی کے ذریعہ نامورمیوزک کمپنی” ٹی۔سیریز "نے ایک ویڈیو کے ذریعہ بہت ہی لائق ستائش اقدام کیا ہے۔تاکہ موجودہ نفرت انگیز ماحول کم ہو۔

https://twitter.com/i/status/1517364111218450432

اُس زمانے میں نہ خانگی نیوز چینلوں کا وجود تھا اور نہ گودی میڈیا کی نفرتی کھیپ پیدا ہوئی تھی!جو اب ہر معاملہ میں روز رات کو پرائم ٹائم کے نام پر ہندو۔مسلم نفرت کو گہرا کرنے کا کام انتہائی ایمانداری کے ساتھ انجام دینے میں مصروف ہیں۔

انہی میں سے چند مذہبی جنونی جوخود کوصحافی بتاتے ہیں کو اس وقت اور بھی خوشی ہوتی ہے جب حکومتیں غریب طبقہ کے مکانات اور ان کے روزگار پر بلڈوزر چلاتی ہیں۔

16 اپریل کوہنومانان جینتی کی شوبھایاترا پر پتھراؤ کے الزامات کے بعد دہلی کے جہانگیر پوری میں مکانات اور دکانات کو غیرقانونی اورمقبوضہ قرار دیتے ہوئے 18 اپریل کی صبح آناً فاناً شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کی جانب بلڈورزس کی مدد سے انہدامی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے لوگوں کو بے گھر کردیا گیا اور ان کا روزگار اجاڑدیا گیا۔

جہانگیر پوری میں اس انہدامی کارروائی کے دؤران دنیانے ایک گودی میڈیا کی اینکر کا وہ مکروہ چہرہ بھی دیکھا جو کافی خوش نظر آتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ”مسجد بھی ٹوٹے گی اور جوس سنٹر بھی ٹوٹے گا”۔ اور وہ کسی کو نیک تمناؤں کا انگوٹھا بھی دکھار ہی تھیں۔

وہیں ٹائمز ناؤ کی گروپ ایڈیٹر نویکا کمار نے اس انہدامی کارروائی کے دؤران لافنگ ایموجیز استعمال کرتے ہوئے ٹوئٹ کیاتھا کہ”بلڈوزر کی مانگ میں ڈرامائی اضافہ۔کیا ہم مینوفیکچرنگ کے لیے ملکی استعداد بڑھا رہے ہیں یا ہمیں درآمدات پر انحصار کرنا پڑے گا؟#صرف پوچھ رہی ہوں. 😛😛😂😂 ۔ان کے اس ٹوئٹ پر شدید تنقید کی جارہی ہے کہ غریبوں کے گھر اجاڑے جارہے ہیں وہ اس کا مضحکہ اڑارہی ہیں۔!

نویکا کمار کے اس ٹوئٹ پر امریکہ میں مقیم گجراتی تاجر اور مشہور جہدکار اوی دانڈیا AviDandiya#جن کےفیس بک پر7,40,000  فالوورس ہیں نے اپنے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس پر ایک انتہائی غم و غصہ پرمشتمل ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے نویکا کمار کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔فیس بک پر ان کے اس ویڈیو کو کل سے اب تک 18,000 صارفین نے دیکھا ہےاور 5,600 شیئرس ہوئے ہیں جبکہ 1,400 فیس بک صارفین نے مختلف کمنٹس کیے ہیں۔

کل برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے اپنے دؤرہ گجرات کے موقع پر وڈودرا کے قریب صنعتی علاقہ میں ایک جے سی بی فیکٹری کا افتتاح کیا۔جہاں جے سی بی مشینیں اور بلڈوزرس کی قطار پہلے سے ہی موجود تھی۔اس موقع پر بورس جانسن نے ایک بلڈوزر پر سوار ہوکر اسے چلانے کی کوشش بھی کی۔

جس کے بعد زعفرانیوں کی جانب ان تصاویر کو بڑے پیمانے پر وائرل کرتے ہوئے مزاح کی آڑ میں نفرت انگیز پیغام اور دھمکایا جارہا ہے!!۔

اس سلسلہ میں آج ہی” بی بی سی اردو "نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ کو” بورس جانسن نے انڈیا میں بلڈوزر پر تصویر بنوانے کے لیے غلط وقت کا انتخاب کیا”۔سرخی دی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق”برطانوی وزیراعظم کی اس تصویر پر نہ صرف انڈیا میں بلکہ برطانیہ کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی بحث ہو رہی ہے”۔

” بی بی سی اردو کی تفصیلی رپورٹ کو اس لنک پر پڑھا جاسکتا ہے”۔
https://www.bbc.com/urdu/regional-61190679

وہیں اے بی پی نیوز چینل کی اینکر "روبیکا لیاقت Rubika Liyaquat@” نے کل رات "بچنا قبضہ کرنے والو لو میں آگیا”۔کے کیاپشن کے ساتھ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی یہ تصویر ٹوئٹ کی ہے۔!جسے اب تک 44,700 صارفین نے لائیک،6,022 نے ری۔ٹوئٹ کیے ہیں اور 4,273 نے کمنٹس کیے ہیں۔