کوویڈ سے فوت ماں باپ کو دفنانے کوئی نہیں آیا ، بیٹا اور بیٹیوں نے دفنایا
دسویں کا کھانے 150 لوگ آگئے،علاج کیلئے دئیے گئے قرض کی واپسی کا تقاضہ
پٹنہ: یکم؍جون(سحرنیوزڈاٹ کام)
کوروناوائرس کی وباء کے دؤران اپنوں کیساتھ اپنوں کا ہی برتاؤ اور پھر اس سے مرنے والوں کی نعشوں کی جس طرح بے حرمتی کی جارہی ہے یہ ساری دنیا پر آشکار ہے۔
خونی رشتے کوروناوائرس کے متاثرین اور اس سے مرنے والوں کیساتھ جو برتاؤ کررہے ہیں اسے دیکھ،سن اور پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے کہ ماں،باپ، بھائی ، بہن اور بچے کوروناوائرس کے خوف سے اتنے سنگ دل اور مطلبی ثابت ہورہے ہیں کہ اب شاید ہی کوئی خونی رشتوں پر دوبارہ اعتبار کرنے تیار جائے!
حد تو یہ ہیکہ مرنے والوں کی عزت کیساتھ آخری رسومات کی ادائیگی سے بھی زیادہ تر لوگ دور بھاگنے لگے ہیں خونی رشتوں کی اصلیت کوروناوائرس نے دکھادی ہے کہ تم جس مال ودؤلت،اونچی عمارتوں،رہن سہن ،اؤلاد اور رشتہ داروں کے بھرم پر جی رہے ہو وہ تب تک آپ کے ہیں جب تک آپ ان کی ضرورتوں کو پورا کررہے ہیں۔
اور اس وقت تک یہ آپ کو عزت دیں گے جب تک آپ کی سانس جاری ہے!جونہی کوروناوائرس سے متاثرہوئے بس یہ سب بھاگ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھنے لگ جائیں گے! ایسے ہزاروں واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے روز آرہے ہیں۔
شاید انہی حالات اور واقعات کو دیکھتے ہوئے مشہور فلم ڈائرکٹر رام گوپال ورما نے 30؍مئی کو ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
"کوویڈ کا شکریہ! ہم نے دیکھا ہے کہ کیسے لوگ مُردوں کو بھول جاتے ہیں،اسی لیے بہتر ہے کہ ہم دوسروں کو راغب کرنے کیلئے اپنی زندگی نہ گزاریں بلکہ صرف وہی زندگی بسر کریں جیسی ہم جینا چاہتے ہیں!"
ریاست بہار کے ارریہ ضلع میں ایک ایسا واقعہ رونماء ہوا ہے جس نے انسان اور انسانیت کو شرمندہ کرنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پٹنہ سے 350؍ کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود ارریہ ضلع کے بشن پور پنچایت میں پیش آئے اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق بریندر مہتہ 46 سالہ اورانکی بیوی پرینکا دیوی وارڈ نمبر 7 میں رہائش پذیر تھے۔
جنہیں دو بیٹیاں سونی 18؍سالہ ،چاندنی 12؍سالہ اور ایک بیٹا نتیش14؍سالہ ہیں۔اس وارڈ میں اس خاندان کے علاوہ 373؍دیگر خاندان بھی بستے ہیں۔
ماہ مئی کے اوائل میں اس علاقہ میں سات افراد کوروناوائرس سے متاثر ہوگئے تھے جن میں بریندرمہتہ ، انکی بیوی پرینکا دیوی کے علاوہ دیگر پانچ افراد شامل تھے۔

کوروناوائرس سے شدید متاثر ماں اور باپ کو ان تینوں بچوں نے ہسپتال میں شریک کروایا سونی نے میڈیا کو بتایا کہ انکے علاج کیلئے انہوں نے اپنی دونوں بکریاں 11,000؍روپئے میں اور ایک گائے 10,000؍روپئے میں فروخت کی تاہم والدین کے علاج کیلئے یہ رقم ناکافی تھی تو انہوں نے رشتہ داروں اور جان پہچان والوں سے ڈھائی لاکھ روپئے کا قرض بھی حاصل کیا۔سونی نے بتایا کہ پھر بھی ہم اپنے ماں باپ کو نہیں بچاسکے!
سونی نے بتایا کہ جب ماں اور باپ کے علاج کیلئے رقم کم پڑرہی تھی تو انہوں نے اپنی ماں کو ہسپتال سے ڈسچارج کرکے مکان منتقل کیا تاہم حالت نازک ہونے پر دوبارہ اسپتال لے جارہے تھے کہ دؤران سفر ماں کا انتقال ہوگیا۔
کورونا وائرس سے فوت ماں کی آخری رسومات میں مدد کرنے کیلئے جب ان تین بچوں نے گاؤں والوں سے رو روکر اپیل کی تو کوئی بھی آگے نہیں آیا جس پر مجبور ہوکر ان تینوں بچوں اور انکے ایک کزن نے اپنی ماں کو گاؤں کی سرحد کے قریب گڑھا کھوکر دفنادیا۔
ابھی ماں کی موت کا غم،رشتہ داروں اور گاؤں والوں کی غیر انسانی حرکت ان کے معصوم ذہنوں میں تازہ ہی تھی کہ چار دن بعد باپ بریندر مہتہ کی بھی موت واقع ہوگئی اس وقت بھی ان کی آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے رشتہ دار اور گاؤں والے آگے نہیں آئے جس پر سونی ،چاندنی اور نتیش نے مل کر اپنے باپ کی نعش کو بھی اپنی ماں کی قبر کے پہلو میں دفنادیا سونی نے بتایا کہ جب ماں اور باپ کی موت ہوگئی تو کسی نے بھی ایک وقت کا کھانا نہیں دیا۔
اب اس دؤر میں سسکتی اور بلکتی ہوئی انسانیت کی اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی پڑھیں کہ تینوں بچوں نے اپنے ماں باپ کی آتماؤں کو شانتی پہنچانے کی غرض سے ہندورسم و رواج کے تحت دسویں کی تقریب منعقد کی تو اس تقریب میں 150 لوگ کھانے کیلئے آگئے !یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے ان بچوں کے ماں باپ کی موت پران معصوموں کا سہارا بننا اور ان کی مدد کرنا تک گوارا نہیں کیا تھا اور نہ ہی ان کے سروں پر دستِ شفقت رکھتے ہوئے یہ حوصلہ دیا کہ ” ہم ہیں نہ ” !
سونی نے میڈیا کو بتایا کہ دسویں کے تقریب میں کھانا کھانے کے فوری بعد چند افراد جن میں رشتہ دار بھی شامل ہیں نے تقاضہ شروع کردیا کہ اپنے ماں باپ کے علاج کیلئے لیا گیا قرض واپس کیا جائے!
کیونکہ انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ بہار حکومت کوروناوائرس کی وجہ سے یتیم اور یسیر ہوجانے والے بچوں کو پرورش یوجناکے تحت چار لاکھ روپئے کا معاوضہ دے رہی ہے۔
اسی دؤران میڈیا اور سوشیل میڈیا پر اس واقعہ کی تفصیلات کے وائرل ہونے کے بعد کئی لوگوں نے ان بچوں کو اپنی جانب سے بڑی تعداد میں عطیات روانہ کیے اور یہ رقم بینک میں جمع ہوئی ہے۔
اب قرضداروں کی نظر حکومت کی امداد اور بینک میں جمع عطیات پر ہے کہ کسی طرح اپنا قرض واپس حاصل کرلیا جائے۔
ان بچوں کے باپ بریندر مہتہ ایک چھوٹی میڈیکل ہال چلایا کرتے تھے۔ماں اور باپ کی موت کے بعد سونی، چاندنی اور نتیش اس دنیا میں تنہا ہوگئے ہیں جنکے ماں باپ نے انکے مستقبل کیلئے کئی خواب دیکھے تھے۔

ماں باپ کی موت کے بعد سونی کی بہن چاندنی نے اپنی نم آنکھوں کیساتھ کہا کہ اب گھر سونا لگتا ہے،اتنے سال ماں باپ کیساتھ گزارے ہیں اب کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے!
وہیں حکومت کی امداد اور دردمندافراد کے عطیات کے سوال پر چاندنی کا کہنا ہے کہ کتنے بھی پیسے مل جائیں،مگر دوبارہ ماں باپ تو نہیں ملیں گے نہ!
اس واقعہ کے بعد ایک احساس شدید طور پر ہوتا ہے کہ کوروناوائرس کی وباء نے انسانیت ،انسانوں اور انسانی رشتوں کے کھوکھلا ہونے پر مہر لگادی ہے!!
موجودہ مایوس کُن حالات اور مفقود ہوتی انسانیت پر فنا نظامی کانپوری کا یہ شعر صادق آتا ہے:
دنیا پہ ایسا وقت پڑے گا کہ ایک دن انسان کی تلاش میں انسان جائے گا
بشکریہ : دی پرنٹ

