وقار آباد کے مختلف دیہاتوں میں چیتا کی گشت، جانوروں کا شکار
کسان پر حملہ کی کوشش، دیہاتوں میں خوف و دہشت کا ماحول
حیدرآباد/وقارآباد : 09۔نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)
ریاست تلنگانہ کےضلع وقارآباد میں موجود سیاحتی مقام اننت گیری ہلز پر7 نومبر کی شام انتخابی ڈیوٹی پرموجود فلائنگ اسکواڈ میں شامل تین عہدیدار بذریعہ کار اننت گیری ہلز سے وقار آباد لوٹ رہے تھے کہ اننت گیری ہلز پر موجود ہریتاریسارٹ کے سامنے سے گزر کر جونہی ان کی کار وقار آباد کی جانب دؤڑنے لگی تو ان عہدیداروں نے بالکل قریب سے ایک چیتا کو سڑک عبور کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
آج 9 نومبر کی صبح وقارآباد کےقریب منے گوڑہ اور گنگو پلی میں آم کے باغات میں ایک چیتا دیکھنے کی اطلاع کسانوں نے دی ہے۔چیتا کو دیکھنے والے ایک کسان انجلیا نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کھیت میں فصلوں کو پانی دینے کی غرض سے برقی موٹر چالو کرنے گیا تھا کہ قریب ہی موجود چیتا نے اس پر چھلانگ لگانے کی کوشش کی اور وہ چیتا کو دیکھ کر وہاں سے فرار ہوگیا۔
کسان انجلیا نے بتایا کہ چیتے کو دیکھنے کے بعد وہ خوفزدہ ہوگیا ہے اس کے بعد سے وہ بخار میں مبتلاء ہوگیا اور اس منظر کو یاد کرکے اس کے پیر کانپ رہے ہیں۔کسان انجلپا نے بتایاکہ چیتا انتہائی تندرست اور چست ہے۔اس واقعہ کی اطلاع کےفوری بعد محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کی ٹیم جائے مقام پر پہنچ گئی،کسان انجلپا سے تفصیلات حاصل کرنے کے بعد اس کی مدد سے اس علاقہ میں چیتا کو تلاش کیا گیا لیکن چیتا اس علاقہ میں موجود نہیں تھا۔
جبکہ ایک اور کسان نے بتایا کہ ایک ہفتہ قبل ایک چیتا نے اسی علاقہ کے پوڈور میں ایک گائے کے بچہ پر حملہ کرتے ہوئے اس کو اپنا شکار بنایا اور اس کا گوشت کھانے کے بعد اس کو اٹھا کر لے گیا۔آج گنگوپلی کے اس علاقہ میں چیتا دیکھنے کی کئی کسانوں نے تصدیق کی ہےکہ چیتا اسی علاقہ میں گھوم رہا ہے۔جس کے بعد محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے اس سارے علاقہ میں گشت کی۔
اسی دوران آج شام 30-4 بجےموضع اننت گیری ہلز کی دوسری جانب موجود موضع گودم گوڑہ میں بھی ایک چیتا کی جانب سےایک بکری کا شکار کر کے اپنے ساتھ لے جانے کی اطلاع ملی ہے۔بکریوں کے مالک شنکریا نے میڈیا کو بتایا کہ شام میں وہ جب اپنی 100 بکریوں کے ریورذ کو گھر واپس لا رہا تھا تو اسے کسی نے بتایا کہ اس کے ریوڑ میں سے ایک بکری کو چیتا پکڑ کر لے گیا ہے۔بکریوں کےمالک شنکرپانےبھی تصدیق کی کہ اس کی ایک بکری کم ہے اس نے اس بکری کی قیمت 20,000 روپئے بتائی۔تاہم اس نے چیتا کو نہیں دیکھا۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ایک چیتا صبح مواضعات گنگوار اور منے گوڑہ میں دیکھا گیا جو کہ وقارآباد سے 15 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہیں۔جبکہ آج شام ہی ایک چیتا اننت گیری ہلز کی دوسری جانب موجود موضع گودم گوڑہ میں ایک بکری کو شکار کر کے لے گیا ان مقامات کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ موجود ہے۔
یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ گنگو پلی،منے گوڑہ، پوڈور اور گودم گوڑہ میں گشت کرتےہوئے جانوروں کو اپنا شکار بنانے والا چیتا ہے یا تیندہ اور آیا یہ ایک ہی ہے یا الگ الگ ہیں۔؟ ان علاقوں میں چیتا کی گشت کی اطلاع کے بعد اننت گیری ہلز،گنگوپلی، منے گوڑہ، پوڈور اور گودم گوڑہ کے علاوہ دیگر دیہاتوں میں خوف وہراس کی لہردؤڑگئی ہے۔نوجوانوں کی بڑی تعداد نےمختلف مقامات پر اس چیتا کوتلاش کیا لیکن کہیں نظر نہیں آیا۔
چیتا کی موجودگی کی اطلاع سے ان علاقوں میں کسانوں اور کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور شدید پریشان ہیں اور محکمہ جنگلات کے عہدیداروں سے ان کا مطالبہ ہےکہ ان علاقوں میں گشت کرتےہوئے اس چیتا کو پکڑا جائے۔ان علاقوں کے کسان، مزدور عوام کھیتوں اور دیگر کاموں پر کو جانے سے خوفزدہ ہیں اور اپنے گھروں سے باہر نکلنے میں خوف محسوس کررہے ہیں۔موضع گودم گوڑہ میں آج شام دیر گئے ڈھنڈورہ پٹوایا گیا کہ شام ساڑھے پانچ بجے کے بعد کوئی بھی مکان سے باہر نہ نکلیں اور دن کے وقت چوکس رہیں۔
" یہ بھی پڑھیں "


