چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں: ممتاز ترقی پسند شاعر اور نامور گیت کارساحر لدھیانوی

"چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں"
ممتاز ترقی پسند شاعر اور نامور گیت کار ساحر لدھیانوی
41 ویں برسی کے موقع پر خراج عقیدت

ساحر لدھیانوی کا اصل نام عبد الحئی تھا وہ 8مارچ 1921ء کولدھیانہ میں پیدا ہوئے اسی لیے لدھیانوی کہلائے۔ان کے والدچودھری فضل محمد کا شمار شہر کے معروف اور معزز لوگوں میں ہوتا تھا۔انہوں نے اولاد نرینہ کی خواہش میں یکے بعد دیگرے گیارہ شادیاں کیں ساحر کی والدہ سرور بیگم سے ان کی شادی خفیہ تھی۔

اخفا کی وجہ یہ تھی کہ ساحر کی والدہ کو وہ خاندانی لحاظ سے اپنے ہم پلہ نہیں سمجھتے تھے اور اسے اپنے سماج و رتبے سے کم تر خیال کرتے تھے کہ ان کے علی الاعلان رشتہ ازدواج قائم کرلیں۔

ساحر کی پیدا ئش کے بعد ساحر کی والدہ نے اپنے اور بیٹے کے حقوق کے لیے جدوجہد کر نی شروع کردی بالآخر جب ان کی فریاد کی سنوائی کہیں نہ ہوئی تو وہ اپنی فریاد لے کر عدا لت کے دروازے پر جا پہنچیں۔بہر حال ساحر کے والدین کی مقدمہ بازی تقسیم ملک تک جاری رہی۔

اس دوران اپنے والد کی شفقت سے محروم تنہا والدہ کی سر پرستی میں ساحر کی پرورش ان کے ننیہال ہی میں ہوئی جب اسکول جانے کی عمر ہوئی تو ان کا داخلہ مالوہ خالصہ اسکول میں کروا دیا گیا جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اس زمانہ میں لدھیانہ اردو کا متحرک اور سرگرم مرکز تھا یہیں سے انہیں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور میٹرک میں پہنچتے پہنچتے وہ شعر کہنے لگے۔

1939ء میں اسکول پاس کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا اسی زمانہ میں ان کا سیاسی شعور بیدار ہونے لگا اور وہ کمیونسٹ تحریک کی طرف راغب ہو گئے۔ملک اور قوم کے حالات نے ان کے اندر سرکشی اور بغاوت پیدا کر دی تھی انہوں نے مالوہ خالصہ اسکول سے انٹرنس پاس کیا اور پھر گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں دا خلہ لیا۔اس سے پہلے ان کی سیاسی گر میوں کا آ غاز ہو چکا تھا۔

ساحر کے والد انگریزی حکومت کے وفادار تھے لیکن انگریزی حکومت ساحر کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی اسی وجہ سے وہ انٹر کے بعد اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور لدھیانہ سے لاہور منتقل ہوگئے۔فرقہ وارانہ فسادات میں ساحرؔ کی والدہ جنہوں نے انہیں بڑے لاڑ پیار سے پالا تھا کہیں گم ہوگئیں۔ساحر کے لیے یہ حا دثہ بہت الم ناک تھا بہر حال تلاش بسیار کے کافی عرصہ بعد مل گئیں۔

ساحر ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے اس طرح ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ پاکستان کے ماحول میں اپنے آپ کو موزوں نہیں پاتے اسی وجہ سے وہ راتوں رات ہندوستان واپس آگئے اور اپنی عمر کے آخر تک ہندوستان ہی میں رہے۔

بی اے کے آخری سال میں وہ اپنی ایک ہم جماعت ایشر کور پر عاشق ہوئے اور کالج سے نکالےگئے وہ کالج سے بی۔اے نہیں کر سکے لیکن اس کالج کی اسی رومانی فضا نے ان کو اک خوبصورت رومانی شاعر بنا دیا۔

ان کا پہلا مجموعہ "تلخیاں” 1944ء میں شائع ہوا اور ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔کالج چھوڑنے کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور دیال سنگھ کالج میں داخلہ لے لیا لیکن اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ وہاں سے بھی نکالے گئے پھر ان کا دل تعلیم کی طرف سے اچاٹ ہوگیا۔

وہ اس زمانہ کے معیاری ادبی رسالہ "ادب لطیف”کے ایڈیٹر بن گئے بعد میں انھوں نے سویرا اور اپنے ادبی رسالہ شاہکار کی بھی ادارت کی۔

ساحر نے بچپن اور جوانی میں بہت پر خطر اور کٹھن دن گزارے جس کی وجہ سے انکی شخصیت میں شدید تلخی گھل گئی تھی دنیا سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کی ایک لہر ان کی شخصیت میں رچ بس گئی تھی جس کا مظاہرہ وہ وقتا فوقتا کرتے رہتے تھے۔

ساحرکی شاعری معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف وہ پُکار اور توانا آواز تھی جسے ہر دِل نے اپنی کہانی سمجھا،عوامی جذبات کو جب لفظوں کی صورت میں ساحر نے ڈھالا تو ” تلخیاں”، ” پر چھائیاں "، ” آؤ کہ خواب بُنیں ” اور ” گاتا جائے بنجارہ ” کی صورت میں بے مثال شاعری سامنے آئی۔

تاج محل،چکلے، شہکار،کبھی کبھی اِن جیسی دیگر کئی نظمیں جو اُردو ادب میں کلاسک کا درجہ رکھتی ہیں” اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں،اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے، اپنی بے کار تمناؤں پہ شرمندہ ہوں،اپنی بے سود اُمیدوں پہ ندامت ہے مجھے،جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں” کے مصداق، آزادی، مساوات، انصاف اور انسانیت کے لیے ساحر لدھیانوی زندگی بھرلڑتا رہا آواز بلند کرتا رہا،وہ ہمیشہ مردِ مجاہد رہا،وہ ظلم کے خلاف لکھتا رہا۔

ساحر نے سماج کے اُن تاریک پہلوؤں کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا جو انسانیت کے چہرے پر بدنماداغ ہیں۔ساحر لدھیانوی کی شاعری محض خیالات کی ترسیل، عقائد کی تبلیغ اور سیاسی پروپیگنڈے کے لیے نہیں،بلکہ اُنہوں نے اپنے محسوسات اور جذبات کی صورت گری کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔

ساحر لدھیانوی نے تشبیہ، استعارہ اور کنائے کی زبان استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اظہار کرنے کے بیانیہ ا ور خطیبانہ پیرایوں سے بھی کام لیا اس کی روح ہمیشہ محبت کی پیاسی رہی ساحر لدھیانوی نے اس محرومی کو ختم کرنے کے لیے امرتا پریتم سے لیکر سدھا ملہوترا تک متعدد عشق کیے مگر مستقل روحانی سکون اُنہیں میسر نہ آ سکا۔

ساحر لدھیانوی نے جتنے تجربات شاعری میں کیے وہ دوسرے کسی بھی شاعر نے کم ہی کئے ہوں گے! انہوں نے سیاسی شاعری کی ہے،رومانی شاعری کی ہے،نفسیاتی شاعری کی ہے اور انقلابی شاعری کی ہے۔جس میں کسانوں اور مزدوروں کی بغاوت کا اعلان ہے۔

انہوں نے ایسی بھی شاعری کی ہے جو تخلیقی طور پر ساحری کے زمرہ میں آتی ہے انکی ادبی خدما ت کے اعتراف میں انہیں 1971ء میں پدم شری کے خطاب سے نوازا گیا۔

1972ء میں مہاراشٹرا حکومت نے انہیں ” جسٹس آف پیس” ایوارڈ دیا۔1973ء میں” آؤ کہ کوئی خواب بُنیں” کی کامیابی پر انہیں” سویت لینڈ نہرو ایوارڈ” اور مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ ملا۔ 1974ء میں مہاراشٹر حکومت نے انہیں ” اسپشل ایکزیکیوٹیو مجسٹریٹ نامزد کیا۔

ان کی نظموں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں 8 مارچ کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر محکمہ ڈاک نے 2013ء میں ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔ 25 اکتوبر 1980ء کو 59 سال کی عمر میں وہ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔

ساحر لدھیانوی نے اپنی زندگی میں بہت سے عروج و زوال دیکھے تھے۔ان کی شاعری انہی جذبات کی عکاس ہے اپنے شعری اثاثے میں انہوں نے تلخیاں، پر چھائیاں، آؤ کہ کوئی خواب بنیں اور گیتوں کا مجموعہ گاتا جائے بنجارہ جیسی شاعری چھوڑی ہے۔ 

آغاز ہی سے ساحرلدھیانوی کے فن میں سماج کی فرسودہ روایات کے خلاف بغاوت کا عنصر موجود تھا وہ اپنی شاعری میں سماجی کی تلخ حقیقتوں کو نئے نئے زاویوں سے پیش کرتے تھے۔مثلاً اپنے زمانہٴ طالب علمی ہی میں اُنہوں نے نظم ” تاج محل ” لکھ کر بزرگوں کی پوری نسل کو چونکا دیا تھا۔

اِس نظم میں ساحر نے شاہ جہاں کی عظمت کے گیت گانے کے بجائے اُن سینکڑوں گمنام کاریگروں اور مزدوروں کے حق میں بات کہی تھی جنہوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے اپنے شہنشاہ کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا تھا ساحر کی اس نظم کا آخری حصہ کچھ یوں ہے:- 

یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ، یہ محل
یہ منقش درو دیوار یہ محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے

تقسیم ہند سے پہلے کے برسوں میں اپنی انگریز دشمنی کی بناء پر ساحر کو لدھیانہ چھوڑ کر لاہور جانا پڑا جہاں اُنہوں نے اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لیا لاہور میں رہتے ہوئے اُن کے فن کو اور جلا ملی وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے اور اُن کا نام فیض،علی سردار جعفری، کیفی اعظمی اور مجاز جیسے نامور شعراء کے ساتھ لیا جانے لگا۔ 

نغمہ نگاری کے تحت شمار کی جانے والی ساحر کی غزلوں کے رموز و نکات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتاہے اس لیے تلخیاں کی تعداد سے دیکھا جائے تو ساحر  کی غزلیں خال خال ہی نظر آ ئیں گی۔مگر تینوں مجموعوں کی تعداد پر غور کیا جائے تو اتنی غز لیں تو بہر حال ہو ہی جاتی ہیں کہ ان کی غزلوں کے فن و شعور پر غور کیاجاسکے۔

ساحر لدھیانوی کے یہاں غزل اپنے تمام لوازم کے ساتھ غزل ہی رہتی ہے جس میں کلاسیکیت، رومانیت، تجربات و مشاہدات کی آمیزش، سیاسی و سماجی کشمکش اور ترک الفت کو پیش گیا ہے ان کی غزلوں کی تازگی، نغمگی، تغزل و تاثر آفرینی نے مجموعی طور پر تازگی اور نیا پن پیدا کیا ہے ساحر کی غزلیں مو ضوعات کے تنوع کے لحاظ سے محدود ہو کر بھی اشعار کی تازگی، سادگی، سنجیدگی و پر کاری کو برقرار رکھتی ہے۔

ساحر لدھیانوی کی شاعری کی ابتدا تو ان کی ذات سے ہوئی لیکن جلد ہی کائنات تک پہنچ گئی ان کی سیاسی و انقلابی نظموں کے ساتھ ان کے تحقیقی شعور میں بھی پختگی آ تی گئی اور اسلوب و آہنگ نکھرتا و سنورتا گیا اس کے علاوہ ساحرکے اسلوب کی ایک صفت نغمگی اور تغزل بھی ہے۔

نغمگی، موسیقیت اور تغزل کے امتزاج نے ان کی نظموں،غزلوں اور نغموں میں وہ تاثر کی شدت پیدا کردی ہے کہ قاری و سامع اس میں کھوکر رہ جاتا ہے۔بالخصوص غزل تو تغزل کے بغیر حسن بے نمک ہی ہوگی چنانچہ ساحر نے اگر ایک طرف غزل کو زندگی کی صدائے وقت سے دوچار کروایا تو دوسری طرف ایک نئے انداز کا تغزل بھی پیش کیا ہے۔

مختصر طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ساحر ان چند شعرا میں سے ہی ایک ایسے منفرد اور ترقی پسند شاعر ہیں جن کا نام انکی خوبصورت نغمگی کے لیے دنیائے فانی میں ہمیشہ مشہور باقی و زندہ رہے گا۔

https://youtu.be/Hts4cb2zzso

ساحر لدھیانوی کو فلمی دنیا سے بھی بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ان کئی مقبول گیت آج بھی اپنا جادو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ساحر لدھیانوی کو 1963میں فلم تاج محل کے لیے اور 1976 میں فلم کبھی کبھی کے لیے بہترین گیت کار کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل ہوا تھا۔25 اکتوبر کو ساحر لدھیانوی کی 41 ویں برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش ہے۔ 

ساحر لدھیانوی کے لکھے ہوئے چند مشہور گیت یہاں پیش ہیں۔

** کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے (فلم کبھی کبھی)

** میں پل دو پل کا شاعر ہوں (فلم کبھی کبھی) 

** جائیں تو جائیں کہاں ، سمجھے گا کون یہاں (فلم نوجوان)

** ساتھی ہاتھ بڑھانا (فلم نیادور)

** یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے (فلم پیاسا)

** تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا (فلم دھول کا پھول)

** میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا (فلم ہم دونوں)

** کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا (فلم ہم دونوں)

** ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں( ہم دونوں)

** چلو ایک بار بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں( فلم گمراہ)

** وقت سے دن اور رات (فلم وقت)

** ائے میری زہرہ جبیں ، تجھے معلوم نہیں(فلم وقت)

** تم اگر ساتھ دینے کا وعدہ کرو ( فلم ہمراز)

** یہ دل تم بن کہیں لگتا نہیں ہم کیا کریں ( فلم عزت)

** کیا ملئے ایسے لوگوں سے جن کی فطرت چھپی رہے (فلم عزت)

** بابل کی دعائیں لیتی جا (فلم نیل کمل)

** ایشور اللہ تیرو نام (فلم نیا راستہ)

** نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے ( فلم داستاں)

** میرے دل میں آج کیا ہے تو کہے تو میں بتادوں( فلم داغ)

** عورت نے جنم دیا مردوں کو ، مردوں نے اسے بازار دیا ( فلم سادھنا)

** جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا (فلم تاج محل)

** ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی (فلم آنکھیں)

** دل کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے مسکراکے چل دئیے (فلم دادا)

** جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کو پیار سے پیار ملا

** نہ منہ چھپاکے جیو اور نہ سرجھاکے جیو( فلم ہمراز)

** جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں(فلم پیاسا)

** برباد محبت کی دعا ساتھ لیے جا (فلم لیلیٰ مجنوں)

مضمون نگار: سید نوید جعفری
ترتیب و پیشکش: محمد یحییٰ خان