انسانی صحت کے لیے مضر کیمیکل سے آئسکریم کی تیاری اور فروخت کا پردہ فاش
ٹاسک فورس کے دھاوے، 29 لاکھ روپئے مالیتی کیمیکل، رنگ اور دیگر اشیاء ضبط
وقارآباد، تانڈور اور پرگی کی 6 آئسکریم فیکٹری مالکین کے خلاف کیس درج
ایس پی وقارآباد ضلع نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس کی پریس کانفرنس
وقارآباد: 19 / اپریل (سحرنیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)
وقارآباد ضلع ٹاسک فورس نے زہریلے کیمیکل کی مدد سے آئسکریم کی تیاری اور فروخت کرتےہوئے عوام کی صحت کےساتھ کھلواڑ کرنے والی آئس کریم فیکٹریوں کا پردہ فاش کیا ہے۔ایس پی وقارآبادضلع نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے انکشاف کیاکہ ایسی 6 آئس کریم فیکٹریز کے مالکین کے خلاف کیس درج کرلیے گئے ہیں جو قواعد کے خلاف آئسکریم میں انسانی صحت کے لیے مضر کیمیکل کی ملاوٹ کر رہے تھے۔
دفتر ایس پی وقارآباد میں گذشتہ شام پریس کانفرنس سےخطاب کرتےہوئےضلع ایس پی نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے بتایا کہ ضلع کے اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، تانڈور اور پرگی میں موسم گرماءکےدؤران آئس کریم کی فروخت میں اضافہ کے دؤران انچارج انسپکٹر ایم۔وینکٹیشم کو باوثوق ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی کہ وقارآباد ضلع کے وقارآباد، تانڈور اور پرگی کے چند آئس کریم فیکٹری مالکین کی جانب سے آئس کریم کی تیاری میں انسانی صحت کےلیے انتہائی مضر اور نقصاندہ کیمیکل کی ملاوٹ کی جارہی ہے۔اس پر سب انسپکٹر ٹاسک فورس پرشانت وردھن کی قیادت میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

ٹاسک فورس نے وقارآباد میں موجود منی کنٹھا آئس کریم فیکٹری،اینے پلی چوراہا پر موجود اے کے ایس آئس کریم فیکٹری،پرگی میں مہا آئس کریم ،شری درگا آئس کریم فیکٹری،تانڈور میں موجودسونو گیتا آئس کریم فیکٹری (مالک محمد افسر) اور رائل آئس کریم فیکٹری پر دھاوے منظم کیے گئے۔جہاں آئس کریم کی تیاری میں شیوم نامی کیمیکل کےعلاوہ مختلف کھانے کے رنگ اور دیگر اشیاء کے استعمال کا انکشاف ہوا۔جو انسانی صحت کےلیے انتہائی مضر ہیں۔ان دھاوؤں کےدوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ اے کے ایس آئس کریم اور مہا آئس کریم فیکٹری بناء اجازت چلائی جارہی تھیں۔اور ان آئس کریم فیکٹریوں میں سرکاری قواعد و ضوابط پرعمل نہیں کیا جارہا تھا۔
ایس پی وقارآباد ضلع نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان آئس کریم فیکٹریوں سے 29 لاکھ روپئے مالیتی کیمیکل،مختلف کھانے کے رنگ اور دیگر اشیاء ضبط کرلی گئیں،جنہیں آئس کریم کی تیاری میں استعمال کیا جارہا تھا۔
ضلع ایس پی نے بتایاکہ اس معاملہ میں وقارآباد کےمنی کنٹھا آئس کریم کے مالک اروا راما کرشنا،اےکےایس آئس کریم کےمالک اویس خان، مہا آئس کریم کےمالک کمرتی رمیش،شری درگا آئس کریم کے مالک کاولی شری کانت،سونا گیتا آئس کریم کےمالک محمد افسر اور رائل آئسکریم کے مالک محمد وحید کے خلاف کیس درج رجسٹر کرلیے گئے ہیں۔

اس پریس کانفرنس میں ایس پی ضلع وقارآباد نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے بیوپاریوں کو متنبہ کیا کہ جاری موسم گرما میں عوام کی ضرورتوں کے پیش نظر ان کی صحت اور دیگر طریقوں سے عوام کو نقصان پہنچایا گیا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ آئس کریم میں مضر صحت کیمیکل کی ملاوٹ قانونی طور پر جرم ہے۔
ساتھ ہی ضلع ایس پی نےعوام کومشورہ دیا کہ بالخصوص بچوں کے لیے خریدی جانے والی آئس کریم اور دیگر اشیاء کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیں۔ضلع ایس پی نندیالا کوٹی ریڈی نے عوام سے خواہش کی کہ ایسے ملاوٹی بیوپاریوں سے واقف ہوں تو اس کی اطلاع پولیس کو دیں۔


