کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف مسلم تنظیموں کا بند پُرامن اور کامیاب

کرناٹک کےاسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف
مسلم تنظیموں کابند پُرامن اور کامیاب 
 مختلف اضلاع میں سڑکیں سنسان،تجارتی علاقے ویران

بنگلورو/میسور/گلبرگہ:17۔مارچ
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ریاست کرناٹک میں جاری حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ میں پانچ درخواستوں کے ذریعہ حجاب پر حکومت کرناٹک کی جانب سےریاست کے تمام سرکاری اور خانگی اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی اور ڈریس کوڈ کے نفاذ کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا کہ مسلم طالبات کا حجاب پہننا مذہبی اور دستوری حق ہے۔

ان درخواستوں کی 11 روزہ سماعت کے بعد محفوظ کیے گئے عدالتی فیصلہ کو چیف جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ ریتوراج اوستھی،جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اورجسٹس زیب النسا محی الدین قاضی (جے ایم قاضی) پرمشتمل سہء رکنی بنچ نے 15 مارچ کو صادر کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ”حجاب مذہب کا جُز اور لازمی عمل لازمی نہیں ہے اور کرناٹک میں حجاب پر حکومت کی جانب سے عائد کی گئی پابندی جاری رہے گی”۔

کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف”امیر شریعت،امارت شرعیہ کرناٹک” مولانا صغیراحمد رشادی نے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو افسوسناک قراردیتے ہوئے کل 16 مارچ کو ریاست کے تمام علما کرام،تنظیموں،ملی و فلاحی اداروں،خواتین تنظیموں،ذمہ داران مساجد و عمائدین ملت اور وکلا سے آج 17 مارچ کو پوری ریاست کرناٹک میں مکمل ایک دن کے پرامن بند کا اعلان کیا تھا۔

اس بند کو جمعیتہ علماءکرناٹک،جماعت اسلامی ہند،جمعیت اہلحدیث،جماعت اہل سنت کرناٹک،جامعہ حضرت بلال اہل سنت والجماعت ،انجمن امامیہ،کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ،پاپولر فرنٹ آف انڈیا،آل انڈیا ملی کونسل،اڑپی ضلع مسلم و کوٹا،گرلز اسلامک آرگنائزیشن کرناٹک اور فارورڈ ٹرسٹ کی تائید بھی حاصل تھی۔

ساتھ ہی اپیل کی گئی تھی کہ تمام مسلمان ملازمین،تاجر،مزدور،طلبا،طالبات اور ہر ایک طبقہ اس بند میں شریک ہوکر اس کو کامیاب بنائیں۔اور اس بند کے ذریعہ ریاستی حکومت کو باور کروائے کہ ہمارے اس ملک میں مذہب پر عمل کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرنا ممکن ہے۔

"امیر شریعت،امارت شرعیہ کرناٹک”مولانا صغیراحمد رشادی نے تمام انصاف پسند برادران وطن سے بھی اس ایک روزہ بند میں شامل ہونے کی گزارش کی تھی۔امارت شرعیہ کرناٹک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ملت اسلامیہ کو مشورہ دیا گیا تھا کہ ازخود اپنے طور پر بند کا اہتمام کریں اور نوجوانوں سے گزارش کی گئی تھی کہ دکانیں اور کاروبار بند کروانے یا نعرہ بازی اور جلوس وغیرہ سے مکمل اجتناب کریں۔اور یہ بند نہایت پرامن،خاموش اور صرف اپنی ناراضگی کے اظہار کے لیے ہوگا۔

اس کرناٹک بند کی اپیل کے بعد آج 17 مارچ کو ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلوروسمیت تقریباً اضلاع،شہروں اور ٹاؤنس میں یہ بند مکمل طور پر کامیاب اور پرامن رہا۔

جن میں میسور، بھٹکل، منگلور،گلبرگہ ،کولار،رائچور،بیدر،ہبلی اور دھارواڑ کے علاوہ دیگر شہر اور اضلاع شامل ہیں۔جہاں کےمسلم اکثریتی علاقوں میں کاروباری اور تجارتی ادارے رضاکارانہ طور پر مکمل بند رکھے۔

اس بند کے دؤران کہیں سے بھی کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاعات نہیں ہیں۔اس بند کے دؤران پولیس کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

 

KarnatakaBandh #Hijab#

Photos Source: Twitter