کویت میں تین رکنی خاندان کے قتل کے آندھرائی ملزم نے جیل میں خودکشی کرلی
کڈپہ واپس ہونے والی متوفی کی بیوی نے اپنے شوہر کو بے قصور بتایا تھا!!
نئی دہلی/حیدرآباد: 17۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
کویت کے اردیہ علاقہ میں 25 فروری کی صبح 4 بجے ایک تین رکنی خاندان کے بے دردانہ قتل کے الزام میں کویت کی پولیس نے تحقیقات کے بعد ایک ہندوستانی شخص وینکٹیش کو گرفتار کرتے ہوئے جیل بھیج دیا تھا۔
وینکٹیش جس کا تعلق ریاست آندھراپردیش کے ضلع کڈپہ کے لکی ریڈی پالیم کےموضع دنے پاڑو کسپاسے تھا،نے کویت کی سنٹرل جیل میں پھانسی لگاکر خودکشی کرلی۔کویتی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق جیل میں محروس وینکٹیش نے کل شام جیل میں موجود پلنگ کی مدد سے پھانسی لگاکر خودکشی کی ہے۔
تین رکنی خاندان کے قتل کے واقعہ میں وینکٹیش کی گرفتاری کے بعد اس کی بیوی سواتی کو 10 مارچ کو ہندوستان واپس بھیج دیا گیا تھا۔سواتی نے 11 مارچ کو ضلع کلکٹر کڈپہ وجئے کمار راجو سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے فریاد کی تھی کہ کویت میں اس کے شوہر وینکٹیش کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔اور اسے اطلاع ملی ہے کہ تین چار دنوں میں اس کے شوہر کو پھانسی دی جانے والی ہے۔لہذا سرکاری سطح پر کویت حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے اس کے شوہر واپس ہندوستان لایا جائے۔
ساتھ ہی سواتی نے اس وقت میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس کا شوہر وینکٹیش بے قصور ہے اور اسے پھنسایا گیا ہے!وینکٹیش کی بیوی سواتی اس سلسلہ میں لکی ریڈی پالیم پولیس سے بھی رجوع ہوئی تھی۔انڈین ایمبیسی اس سلسلہ میں کویت پولیس سے ربط میں تھی کہ کل شام ملزم وینکٹیش نے کویت کی سنٹرل جیل میں پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔
خلیجی میڈیا اطلاعات کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے اردیا میں ہونے والے وحشیانہ قتل کے معاملہ میں پورے ملک میں سنسنی پھیلادی تھی۔مقتولین کی شناخت کویت کے شہری احمد 80 سالہ،ان کی اہلیہ خالدہ 62 سالہ اور ان کی بیٹی اسماء 18 سالہ کے طور پر ہوئی تھی۔
اس معاملہ میں مکمل تحقیقات کے بعد 7 مارچ کوہندوستانی تارک وطن وینکٹیش کو گرفتار کیا گیا تھا جو کہ سلیبیہ کے علاقے میں برقی کی ایک کمپنی میں ملازمت کرتاتھا۔جبکہ اس کی بیوی سواتی مقتولہ مکان کی گھریلو ملازمہ تھی۔
علاقائی میڈیا کے مطابق وینکٹیش 2018 میں تلاش معاش کے سلسلہ میں کویت روانہ ہوا تھا۔بعدازاں وینکٹیش نے اپنی بیوی سواتی کو بھی ملازمت کی غرض سے کویت بلالیا تھا۔یہ جوڑا اپنے دو بچوں جئے وردھن اور وشنو وردھن کو ان کے دادا اور دادی سری راملو اور رمنما کے پاس ضلع کڈپہ کے لکی ریڈی پالیم کےموضع دنے پاڑو کسپاسے میں چھوڑکر روزگار کی غرض سے کویت گیا ہوا تھا۔
کویت میں اس تین رکنی خاندان کے قتل کی تحقیقات کے لیے فروانیہ گورنریٹ میں ریسرچ اینڈ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے انچارج ڈائریکٹر کرنل خلف ال این سی نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم مقرر کی تھی۔حکام نے قریبی مکانات کے سی سی کیمروں کے فوٹیج بھی حاصل کیے تھے جبکہ قتل کے واقعہ کے وقت اس مکان کی برقی سربراہی بند کردی گئی تھی۔ایک شخص کو قتل والے دن رات 9 بجے اس مکان سے لنگڑاتے ہوئے نکلتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا تھا۔
اس کے بعد اس مکان کے ملازمین سے کویت پولیس نے پوچھ تاچھ کی۔اس وقت ان میں سے ایک خاتون ملازمہ سواتی سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے اعتراف کیا کہ وہ اس کا شوہر وینکٹیش ہے اور وہ سلیبیہ کے علاقے میں بجلی کی ایک کمپنی میں کام کرتا تھا۔بعدازاں کویت کے میڈیا نے اس قتل کے واقعہ کے بعد اطلاع دی تھی کہ وہاں کی پولیس نے ملزم وینکٹیش کے مکان سے 1,600 دینار مالیت کے زیورات فروخت کیے جانے کی رسیدیں برآمد کیں۔اور 300 دینار نقد برآمد ہوئے۔اور ساتھ ہی قتل میں استعمال شدہ چاقو بھی برآمد کی گئی تھی۔
اس وقت کویت کے میڈیا ذرائع نے پولیس کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ ملزم نے اس جرم کااعتراف کرلیا ہے!!۔وینکٹیش کا بیان درج کرکے اسے منصوبہ بند قتل کے الزام کے تحت گرفتار کرکے سنٹرل جیل بھیج دیا گیا تھا۔جہاں کل شام اس نے جیل میں پھانسی لے کر خودکشی کرلی۔

