اتر پردیش میں پھر چلا بلڈوزر،سہارنپور اور پریاگ راج میں مکانات کا انہدام، غیرقانونی تعمیرات کا الزام

اسی کا شہر،وہی مدعی،وہی منصف
ہمیں یقین تھا ہمارا قصور نکلے گا

اتر پردیش میں پھر چلا بلڈوزر،سہارنپور اور پریاگ راج میں
مکانات کا انہدام،غیرقانونی تعمیرات کا الزام،کئی گرفتار
نوجوانوں پر پولیس کے تشدد کی سوشل میڈیا پر شدید مذمت 

لکھنئو/نئی دہلی:12۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

 بی جے پی کی سابق قومی ترجمان نوپورشرما کی جانب سے پیغمبر اسلامؐ،حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور واقعہ معراجؐ کےخلاف گستاخانہ ریمارکس پر مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ گستاخ رسولؐ کوصرف بی جے پی سےمعطل کرنا کافی نہیں ہے بلکہ انہیں گرفتار کیاجائے۔

اس سلسلہ میں آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے اپیل کے باؤجود ملک کےمختلف شہروں میں 10 جون کو نماز جمعہ کے بعد شدیداحتجاج کیا گیا تھا۔ جھارکھنڈ جہاں جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور کانگریس کی حکومت ہے کی راجدھانی رانچی میں اس احتجاج کے دؤران پولیس فائرنگ میں دو نوجوان مدثر (14سالہ) اور ساحل (19سالہ)شہید ہوگئے۔جبکہ ایک اور نوجوان افسرعالم کو 6 گولیاں لگی ہیں۔رانچی کےریمس ہسپتال میں زیرعلاج اس نوجوان کے جسم سے ڈاکٹروں نے 4 گولیاں نکال دی ہیں۔

اسی دؤران سوشل میڈیا پر 10 جون سے ہی اترپردیش کےسہارنپور کے پولیس کا ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے۔جس پر ہرطرف سے شدید تنقید کی جارہی ہے۔اس بربریت پرمشتمل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد کو پولیس کی جانب سے لاٹھیوں کے ذریعہ جانوروں سےبھی بدتر طریقہ سے بےتحاشہ پیٹا جارہاہے۔اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ پولیس پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ اس ظلم و بربریت پرمشتمل واقعہ کی باقاعدہ ویڈیوگرافی کرکے اسے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر پھیلادیا گیا ہے۔

اور اس ویڈیو کو اترپردیش کے ایک بی جے پی رکن اسمبلی نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ” بلوائیوں کو ریٹرن گفٹ "!

پولیس کی برہنہ بربریت پرمشتمل اس ویڈیو کوسوشل میڈیا پر کئی اہم شخصیتوں کی جانب سے ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اگر یہ نوجوان واقعی تشدد میں ملوث ہیں تو انہیں سزا دینے کا حق صرف عدالتوں کو ہے پولیس کو نہیں!!

اس ویڈیو کوری۔ٹوئٹ کرتے ہوئے نامورصحافی اجیت انجم نے لکھا کہ”حراست میں پولیس کی بربریت براہ راست قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ملک کا قانون اور سپریم کورٹ کی ہدایت اس کی اجازت نہیں دیتا۔اس کے باوجود یہ سب کچھ ڈنکے کی چوٹ پر ہورہا ہے۔اور تھانے میں ویڈیو بنانے کے بعد اس کو جاری بھی کیا جارہا ہے”۔

جبکہ اسی ویڈیو کو مشہور وکیل پرشانت بھوشن نےبھی ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”اگر ہمارے انسانی حقوق کے ادارے اور آئینی عدالتیں ہمارے پولیس افسران کی طرف سے حقوق اور قانون کی حکمرانی کی اس ڈھٹائی کی خلاف ورزی کا ازخود نوٹس نہیں لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ حکومت انہیں گودی اداروں تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئی ہے”۔

10 جون کو جمعہ کی نماز کے بعد اتر پردیش کے پریاگ راج(سابق نام الہ آباد)کے اٹالہ میں بھی پتھراؤ کے واقعات پیش آئے تھے۔اس موقع پر ہجوم پر لاٹھیاں اور آنسو گیس داغے گئے تھے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلہ میں پریاگ راج کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اجے کمار نے میڈیا کو بتایا کہ اس تشدد کے ماسٹر مائنڈ جاویدمحمد جو کہ پریاگ راج کے پرانے شہر کے علاقے کریلی میں واقع جے کے آشیانہ کالونی کے رہنے والے ہیں اور انہیں تشددکے معاملے میں پہلے ہی گرفتار کیاجاچکا ہے۔اور مزید ماسٹر مائنڈ ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سماج دشمن عناصرنے پولیس اورانتظامیہ پر پتھراؤ کرنے کے لیے کمسن بچوں کو استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ 29 اہم دفعات کےتحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اور ان کے خلاف گینگسٹر ایکٹ اور این ایس اے NSA# (نیشنل سیکورٹی ایکٹ)کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب جاویدمحمد کی دختر اورسماجی کارکن آفرین فاطمہ نے قومی کمیشن برائے خواتین کو لکھے گئے خط میں دعویٰ کیا ہےکہ ان کے خاندان کے افراد کو بغیر وارنٹ کے حراست میں لیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے تین ایف آئی آر میں 95 نامزد اور 5400 کے قریب نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا ہے۔اتر پردیش کے سہارنپور میں بھی بعد نماز جمعہ کے بعد کیا گیا احتجاج پرتشدد ہوگیا تھا۔

وہیں پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ٹیموں نے فوری اٹالہ اور قریبی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات اور قبضہ جات کی نشاندہی کا آغاز کردیاجس میں پولیس اور انتظامی حکام کی طرف سےجمعہ کے پرتشددمظاہرے کے بعدسہارنپور اورپریاگ راج تشدد کےملزمین کی غیرقانونی املاک کوبلڈوزروں کی مدد سے منہدم کرنے کا آغاز کردیا۔

سہارنپور میں تشدد کےالزام میں کل کو دوملزمین کے مکانات کومنہدم کرنے کے ایک دن بعد آج بلڈوزر بھاری پولیس جمعیت کے ساتھ پریاگ راج کے مذکورہ علاقہ میں پہنچے اور مکان کو منہدم کرنا شروع کردیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پرایاگ راج میں مقیم ملزم جاویدمحمد کے مکان کے دروازے اور بیرونی دیواروں کو بلڈوزر کی مدد سے گرایا جارہا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ شہر میں جمعہ کو ہونےوالے تشدد کے پیچھے ماسٹر مائنڈز میں سے جاویدمحمد ایک ہیں۔میونسپل عہدیداروں کی جانب سے یہ انہدامی کارروائی جاویدمحمد کی رہائش گاہ کے باہر ایک نوٹس چسپاں کیے جانے کے چند گھنٹےبعدعمل میں لائی گئی جس میں مکان کی زمین اور پہلی منزل پرغیر قانونی تعمیرات کا دعویٰ کیا گیا تھا۔شام ہوتے ہوتے پریاگ راج میں جاویدمحمد/آفرین فاطمہ کےمکان کوبلڈوزر کی مدد سے تہس نہس کردیا گیا۔

نامور وکیل پرشانت بھوشن نے آفرین فاطمہ/جاویدمحمد کے مکان کو آج منہدم کیے جانے کے خلاف ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہےکہ”مکان کے مکمل طور پر قانونی ہونے کے باؤجود بھی یوپی حکومت اسے منہدم کررہی ہے۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں الزام عائد کیا کہ یوپی میں قانون کی حکمرانی نہیں رہی اور یہ غنڈہ پردیش بن گیا ہے”۔ٹوئٹر پر #StandWithAfreenFatima کاہیش ٹیاگ بھی ٹرینڈ کررہا ہے۔

اسی دؤران میڈیا کے ایک مخصوص گوشہ پر اس بات پر زور دیاجارہا ہے کہ آفرین فاطمہ/جاویدمحمد کے منہدمہ سے قابل اعتراض پوسٹرز برآمد ہوئے ہیں جن پرلکھاہواہے کہ "When injustice becomes law, rebellion becomes duty"("ترجمہ:جب ناانصافی قانون بن جائے تو بغاوت فرض بن جاتی ہے”)

اس پر فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمدزبیر نے بی جے پی کے سابق چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فڈناویز کی اہلیہ محترمہ امروتا فڈناویز کی جانب سے 9 ستمبر 2020ء کو اسی انگریزی قول پرمشتمل کیے گئے ٹوئٹ کا ایک اسکرین شاٹ ٹوئٹ کیا ہے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق اترپردیش کے کانپور میں بھی انہدامی کارروائیاں کی گئیں،جہاں اسی معاملے پر 3 جون کو پرتشددجھڑپیں اور پتھراؤ ہواتھا۔اور اتر پردیش پولیس نے جمعہ کے احتجاج اور تشدد کے سلسلے میں ریاست کےمختلف اضلاع سے 300 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نےماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف”سخت ترین” کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔این ڈی ٹی وی نے پولیس کےحوالے سےلکھا ہےکہ 91 افراد کو پریاگ راج سے،71 افراد کو سہارنپور سے اور 51 افراد کو ہاتھرس سے گرفتار کیا گیاہے۔

بہرحال آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے علاوہ علاقائی مسلم تنظیموں کی بار بار اپیل کے باؤجود جمعہ کی نماز کے بعد احتجاج منظم کرنے کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں اور آئندہ حالات کیا ہوسکتے ہیں؟یہ قوم کے پرجوش نوجوانوں،قائدین و ذمہ داران کے لیے دعوتِ فکر دے رہے ہیں!!

ناموس رسولؐ کےلیے احتجاج سب کا جمہوری حق ہے۔لیکن قانون کے دائرہ میں رہ کراحتجاج کیا جائے اور ساتھ ہی اپنےمجمع میں یا اطراف میں موجود ان کالی بھیڑوں اورسازشی ذہنوں کی بھی نشاندہی کرلی جائے جو احتجاج کے دؤران پتھراؤ اور دیگر تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے اور ضرورت شدید ہے کہ ہم صبر کے ساتھ قانونی طور پر اپنے جمہوری و مذہبی حقوق حاصل کریں۔ 

آج شام دیرگئے نامورنیشنل ایوارڈ یافتہ فلمساز،صحافی،رائٹر و ڈائرکٹرونود کاپری Vinod Kapri@نے اپنے ایک جذباتی ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ” میرے مسلمان دوستو، بھائیو، بہنو اور ماؤں کبھی مت سوچنا کہ آپ اکیلے ہو،میں اور میرے جیسے کروڑوں سچے ہندوستانی ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں۔”

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نامور شاعر بشیر بدر نے آئندہ پیش آنے والے ایسے دل شکن واقعات کو پہلے ہی محسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ؎
بڑے شوق سے مِرے گھر جلا،کوئی آنچ تجھ پہ نہ آئے گی
یہ زباں کسی نے خرید لی،یہ قلم کسی کا غلام ہے