چارمینار کے قریب گلزار حوض پر نوٹوں کی بارش کرنے والے باراتی آخر ہیں کون ؟ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے پولیس تحقیقات میں مصروف

چارمینار کے قریب گلزارحوض پر نوٹوں کی بارش کرنے والے باراتی آخر ہیں کون؟
سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے پولیس تحقیقات میں مصروف 
بلدیہ کے صفائی مزدوروں نے 20 روپئے مالیتی اُڑائے گئے نوٹس اُٹھالیے

حیدرآباد: 12۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام)

کل سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز بالخصوص واٹس ایپ پر ایک ایسا ویڈیو تیزی کے ساتھ وائرل ہورہا ہے جس میں دیکھا جاسکتاہے کہ حیدرآباد میں چارمینار کے قریب موجود مشہور گلزارحوض پرصبح کی اولین ساعتوں میں کاروں اور موٹرسیکلوں پر سوار افراد کی جانب سےبارات روکی جاتی ہے اور باقاعدہ آہنی جالیوں سے لیس گلزارحوض پر چڑھ کر ایک نوجوان کثیر تعداد میں اپنے ہاتھوں سے گلزارحوض کی چاروں جانب ہوا میں نوٹوں کو اڑارہا ہے۔

ایک منٹ پرمشتمل اس ویڈیو میں باقاعدہ ایک فلمی گانا بج رہا ہے ؎

کیا ہوتا ہے پیسے کا
پیسوں کی لگادوں ڈھیری
میں بارش کردوں پیسے کی
جو تو ہوجائے میری

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بارات کا یہ قافلہ مدینہ بلڈنگ کی جانب سے چارمینار کی طرف آرہا ہے اور ان دونوں کے درمیان موجود گلزار حوض پر یہ واقعہ پیش آیا ہے۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد معاشرہ کے مختلف افراد مختلف باتیں کہنے میں مصروف ہیں۔اور کئی واٹس ایپ گروپس میں اس واقعہ کی شدیدلفظوں میں مذمت کی جارہی ہے کہ جہاں ملکی کرنسی کو اس طرح سڑک پر اڑاکر کرنسی کی توہین کی گئی ہے۔وہیں اس بات کی بھی مذمت کی جارہی ہے کہ یہ واقعہ مسلم معاشرہ میں شادیوں کے موقع پر ہونے والے اسراف اور فضول خرچی کی ایک زندہ مثال ہے!!۔

سوشل میڈیا پرخاص کرواٹس ایپ کے گروپس اورنجی چیاٹ میں لکھا جارہاہے کہ حیدرآباد میں ہی مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔بالخصوص کورونا کی وبا کے بعد سے تو ہر دوسرا خاندان شدید معاشی پریشانیوں کا شکار ہے اور خود حیدرآباد میں معاشی پریشان ایک خاندان کی اجتماعی خودکشی کے علاوہ خودکشیوں کے واقعات حال ہی میں رونما ہوچکے ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ اس دؤر میں دن بھرشدید محنت و مزدوری کے بعد بھی کئی خاندانوں کو دووقت پیٹ بھر کھانا نصیب نہیں ہورہا ہے اور ایسے میں جو قوم کا مالدار طبقہ ہے اس طرح بے دردی کے ساتھ نوٹوں کو سڑکوں پر اڑانے میں مصروف ہے!

جبکہ مسلم معاشرہ کی غریب اور متوسط طبقہ کی لاکھوں لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی ہیں جن کےوالدین ان کی شادیوں کی فکرمیں روزجیتے ہیں اور روز مرتے ہیں۔کہیں معاشی پریشانی کا سامنا ہے تو کسی کو کسی کی جہیز کی حرص،خون کے آنسو رلارہی ہے!کوئی اپنی بچیوں کی شادیوں کے بعد سود کی رقم ادا کرنے میں مصروف ہے،تو کوئی کاروبار کے لیے روز سود خور سے رقم لیتے ہیں اور شام کوبھاری سودکے ساتھ وہ رقم ادا کرتے ہیں

چند ذمہ داران کا کہنا ہے کہ جتنے بھی امدادی ایپ ہیں یا سوشل میڈیا پر Ketto کے ذریعہ ان میں دیکھیں تو زیادہ تعداد میں روتے بلکتے مسلمان ہی اپنے معصوم بچوں،یا والدین کے علاج کے لیے عطیات کی اپیل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

بہرحال قوم کی جومعاشی بدحالی ہےکسی سے بھی چھپی ہوئی نہیں ہے۔جس کا علاج کے لیے سرکاری ہسپتال اور اناج کے لیے سرکاری راشن شاپ ہی سب سے بڑا ذریعہ کہا جاسکتا ہے! تو بچوں کی تعلیم کے لیے سرکاری اسکول اس قوم کا مقدر بنادیا گیاہے!!۔

ایسے میں نوٹ اڑائے جانے کے اس ویڈیو نے مسلمانوں کے ایک بہت بڑے طبقے میں غصہ کی لہر دؤڑادی ہے کہ ان کی جانب سے کاش یہ رقم کسی غریب خاندان کو دے دی جاتی(بھلے ہی دوچار ہزار روپئے ہوتے) تو اس کے کئی مسائل حل ہوجاتے!

جبکہ چند ذمہ دار افراد کا کہنا ہے کہ خوشی کے موقع پرکسی کے اس عمل سے کسی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہئے،کیونکہ پیسہ ان کا تو پسندبھی ان کی !!ان کا سوال ہے کہ قوم کے مالداروں کی تقاریب میں شادی خانوں میں جب رقاصاؤں پر یا گانے والوں پراسی طرح رقم اڑائی جاتی ہے تو اس وقت یہ تنقید کرنے والے کہاں ہوتے ہیں؟خیر یہ تو تھیں سوشل میڈیا پر چل رہی بحث۔

اس سلسلہ میں ہم نے قانونی ماہرین کی رائے جاننا چاہی تو انکشاف ہوا کہ ملک کی کرنسی کو اس طرح سڑکوں پر اڑانا یا پھینکنا اس کرنسی کی توہین کے دائرہ میں آتا ہے اور ساتھ ہی اس رقم کے حصول کے لیے عوامی بھگڈر سے کسی حادثہ کا بھی اندیشہ رہتا ہے!!

اب تک اس بات کا پتہ نہیں چل پایا ہےکہ یہ لوگ ہیں کون؟جنہوں نے اس طرح گلزارحوض پر نوٹ اڑائے؟ اور کیا واقعی وہ اصلی نوٹ تھے یا پھر کاغذ کے پرزے؟یا بچوں کے کھیلنے والی کرنسی تھی؟بتایا جارہاہے کہ یہ واقعہ 10جون کو صبح کی اولین ساعتوں میں چار بجے کا ہے۔

اس سلسلہ میں انسپکٹر پولیس چارمینار پولیس اسٹیشن مسٹر گرو نائیڈو کا کہنا ہےکہ پولیس اس معاملہ کی تحقیقات میں مصروف ہے۔اور اس علاقہ کے تمام سی سی ٹی وی کیمرہ کے فوٹیج کا نظارہ کیا جارہا ہے۔جس کے بعد پتہ لگایا جائے گا کہ اس واقعہ میں کون ملوث ہیں۔

بتایاجارہا ہے کہ ان نامعلوم باراتیوں کی جانب سے اڑائے گئے 20روپئے مالیتی نوٹ جی ایچ ایم سی کے صفائی مزدوروں نے اٹھالیے۔اورانہی مزدوروں نے پولیس کو بتایا کہ جن باراتیوں نے یہ نوٹ گلزار حوض پر اڑائے تھے۔بعدازاں ان باراتیوں کا قافلہ "کالی کمان” کی جانب روانہ ہوگیا۔