تلنگانہ میں مانسون داخل، آج ہوسکتی ہے بارش کی دستک، تین دنوں کے دؤران ریاست کے کئی اضلاع میں شدید بارش کا امکان :محکمہ موسمیات

گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولا

تلنگانہ میں مانسون داخل،آج ہوسکتی ہے بارش کی پہلی دستک
تین دنوں کے دؤران ریاست کے کئی اضلاع میں شدید بارش کا امکان

حیدرآباد: 13۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ میں ہرسال 12 جون سے مانسون کا آغاز ہوجاتا ہے۔گزشتہ ماہ محکمہ موسمیات نے پیش قیاسی کی تھی کہ جاریہ سال ملک اور ریاست میں مانسون کی آمد ایک ہفتہ قبل ہی ہوجائے گی۔ریاست کیرالا اور جزائر انڈومان و نکوبار میں مانسون پانچ دن قبل ہی داخل ہوگیا۔

وہیں ریاست تلنگانہ کے چند اضلاع میں گرما کی شدت برقرار رہی لیکن درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی اور ساتھ ہی شام کے وقت ہلکی بوندہ باندی اور بارش موسم کو خوشگوار بناتی رہی۔چند دنوں سے ریاست کے مختلف اضلاع میں دن بھر آسمان پر کبھی سیاہ تو کبھی سفید بادلوں کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے۔آسمان پر سفید و سیاہ بادلوں کے گزرنے والے جھنڈ کےخوبصورت مناظرعوام کے دلوں کو لبھارہے ہیں جیسے کہ یہ پیغام دے رہا ہوکہ چار ماہ سے گرما کی شدت کو برداشت کرنے کے بعد اب بارش کا لطف لینے کا موسم آنے والا ہے۔

اس سلسلہ میں آج 13 جون کو ریاست کےمحکمہ موسمیات نے چار ماہ سے شدید گرما کی شدت سے پریشان عوام کو خوشخبری دی ہے کہ مانسون ریاست تلنگانہ میں داخل ہوچکا ہے۔جس کے باعث درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے اور موسم معتدل ہوگیا ہے۔

آج حیدرآباد میں دن کا درجہ حرارت 34 ڈگری ریکارڈ ہواہے۔جبکہ عادل آبادضلع جہاں گرمی کاپارہ 45 ڈگری تک پہنچ گیاتھا وہاں آج دن کا درجہ حرارت 33 ڈگری ریکارڈ ہوا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مانسون ضلع محبوب نگر تک پھیل گیاہے اور اندرون دو یوم مانسون ریاست کےتمام اضلاع میں پھیل جائے گا۔جبکہ نچلے درجہ کی ہوائیں مشرقی جانب سے ریاست میں داخل ہورہی ہیں۔

ساتھ ہی محکمہ موسمیات کی جانب سے پیش قیاسی کی گئی ہےکہ مانسون کے ریاست میں داخل ہوجانے سے آئندہ تین دنوں کےدؤران ریاست میں بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات حیدرآباد کی پیش قیاسی کے مطابق آج ریاست کے کئی مقامات پر ہلکی اور دھواں دھاربارش کے ساتھ مانسون دستک دے سکتا ہے۔

اور آنے والے تین دنوں کے دؤران ریاست میں تیزہواؤں کے ساتھ شدید بارش کا امکان ہے۔جبکہ چند اضلاع میں ہلکی اور تیز بارش ہوسکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کی چند ریاستوں کرناٹک،تمل ناڈو، گجرات،آندھرا پردیش ،مہاراشٹرا،مرٹھواڑہ،کونکن،مغربی بنگال اور بہارکے بھی چند مقامات میں بھی مانسون داخل ہوگیا ہے۔

دوسری جانب مانسون کےآغاز کے ساتھ ہی ریاست تلنگانہ میں ربیع سیزن کی زرعی سرگرمیوں کاآغاز ہوجاتاہے۔تاہم جہاں حسب معمول ہونے والی بارش سے کسانوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں وہیں معمول سے زائد بارش ان کسانوں کی فصلوں کو برباد کرکے ان کے چہروں پرفکرو قرض کی لکیروں کو مزید گہری کردیتی ہے۔

جبکہ پراجکٹس،ندیوں اور تالابوں میں پانی کا ذخیرہ مچھیروں کے لیےخوشی کا باعث ہوتا ہے جس سے انہیں برسات کے چار ماہ اور پھر سرما کے چار ماہ بہترین روزگار فراہم کرتا ہے کیوں کہ ان دونوں موسموں میں مچھلی کا کاروبار عروج پر ہوتا ہے۔

اونچی اور بلند عمارتوں کے مکینوں کے لیے زیادہ یا کم بارش سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن کچے اورشکستہ مکان والوں کےلئے بارش کا موسم پریشانی کا باعث بنتا ہے۔چھت سے ٹپکتا پانی جہاں انہیں راتوں میں جاگنے پر مجبور کرتا ہے وہیں زیادہ بارش کے بعد ان کے مکانات میں داخل ہونے والا بارش کا پانی ان کی گھریلو اشیا کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیا کو بھی برباد کرنے کا باعث بنتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کسی شاعر نے کہا تھا کہ؎

شہر میں آج بھی کمزور مکانوں والے
تیز بارش کی حمایت نہیں کرنے دیتے "