ملزموں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک لاقانونیت اور دہشت گردی ہے، حکومت کے رویہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ردعمل

ملزموں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک لاقانونیت اور دہشت گردی ہے
حکومت کے رویہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ردعمل

نئی دہلی:13۔جون(پریس نوٹ)

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آج 13 جون کو جاری کردہ پریس نوٹ میں کہا ہے کہ اس وقت حکومت جس لاقانونیت کا مظاہرہ کررہی ہے اور جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی ملزموں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کررہی ہے حد درجہ افسوس ناک اور خود دہشت گردی کی ایک صورت ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمان اپنی جان اور ا پنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں؛ مگر ایک تو بر سر اقتدار پارٹی کے نمائندہ اور ترجمان نے گستاخی کرکےمسلمانوں کا دل زخمی کیا ہے اور پھر بجائے اس کے کہ اس بد زبان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں آتی،اُلٹے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے۔

جو لوگ اس ناشائستہ حرکت کے خلاف پُر امن طریقہ پر احتجاج کر رہے ہیں، ان کے خلاف کیس درج کیا جا رہا ہے، اُن پر لاٹھی چارج ہو رہا ہے، اور ان کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے،جب تک ایک شخص پر عدالت کے ذریعہ جرم ثابت نہ ہو جائے،اس وقت تک وہ صرف ملزم ہے،اس کے ساتھ مجرموں کا سا سلوک کرنا لاقانونیت ہے اور جس گستاخ کا جرم طشت از بام ہے،میڈیا پر موجود ہے اور اس جرم کو تسلیم بھی کیا گیا ہے،اسی بنا پر پارٹی نے اس کومعطل کیا ہے،اس کے خلاف حکومت کی طرف سے کوئی کارروائی نہ کرنا یقیناََانصاف کا قتل ہے۔کیا قانون احتجاج کرنے اور پتھر پھینکنے کی وجہ سے کسی کا گھر گرا دینے اور’’اسلام زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگانے کی وجہ سے کسی شخص کو گولی مار کر ہلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے؟

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مرکزی حکومت اور دیگر صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایسی نامنصفانہ حرکت سے باز آئے، پتھر پھینکنے والے جو بھی ہوں،چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان،تحقیق کے بعد اُن کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے، پھر عدالت جو فیصلہ کرے، اس کو نافذ کیا جائے۔

ریاستی حکومت کا موجودہ رویہ قطعاََناقابل قبول اور اشتعال کو بڑھاوا دینے والا ہے۔ایسی حرکتوں سے امن وامان کی فضا قائم ہونے کی بجائے شر وفساد اور نفرت کا ماحول پیدا ہوگا۔اس لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر اس معاملہ میں گرفتار لوگوں کو رہا کیا جائے،ان کے خلاف عدالت میں معاملہ پیش کیا جائے،جن لوگوں کی جانیں گئیں اور جو زخمی ہوئے ہیں ان کے پسماندگان کواس کا بھرپور معاوضہ دیا جائے اور جن پولیس جوانوں نے قانون کی حد سے تجاوز کیا ہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بورڈ مسلمانوں سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ صبر سے کام لیں، گستاخ رسولؐ کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لئے مقامی سرکاری عہدہ داروں کومیمورنڈم پیش کریں،پولیس مظالم کے شواہدجمع کرکے ملی تنظیموں کے سپرد کریں کہ وہ ایسے پولیس جوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرواسکیں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ فرقہ پرست عناصر چاہتے ہی ہیں کہ آپ مشتعل ہوں اور پولیس اس کو ظلم و زیادتی کا بہانہ بنائے،ہمیں چاہئے کہ ان کو اس کا موقع نہ دیں۔

جاری کردہ : ڈاکٹر محمد وقار الدین لطیفی
آفس سکریٹری۔سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ