ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی نے راج بھون میں بحیثیت وزیر حلف لیا، وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے وزیر معدنیات کا قلمدان سونپا

ایم ایل سی ڈاکٹر  پی۔مہندر ریڈی نے راج بھون میں بحیثیت وزیر حلف لیا
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے وزیر معدنیات کا قلمدان سونپا، سرگرم سیاست میں دھماکہ خیز واپسی

وقارآباد/تانڈور : 24/اگست
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)

رکن قانون ساز کونسل MLC# متحدہ ضلع رنگا ریڈی و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی کی آج سرگرم سیاست میں دوبارہ دھماکہ دار واپسی ہوئی ہے۔جس کے بعد ان کے حامیوں میں زبردست جوش وخروش دیکھا جا رہا ہے۔

ریاستی گورنر محترمہ تملسائی سوندر راجن نے آج 24 اگست کی سہء پہر ساڑھے تین بجے راج بھون میں ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی کو بحیثیت ریاستی وزیر ان کے عہدہ کا حلف دلایا۔اس تقریب حلف برداری میں وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ کے علاوہ ریاستی وزراء،ارکان اسمبلی،ارکان قانون ساز کونسل، ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی کے افراد خاندان کے بشمول 150 مہمان شریک تھے۔حلف برداری کے موقع پرتجسس پایا جاتا تھا کہ ڈاکٹر پی۔ مہندر ریڈی کو کونسا قلمدان دیا جائے گا۔!

امکان جتایا رہا تھا کہ اڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی کو وزیرصحت بنایا جائے گا جو کہ یکم مئی 2021 کو وزیراعلیٰ کی جانب سے اس وقت کے وزیرصحت ایٹالہ راجندر کوعہدہ سے ہٹا دئیے جانے کے بعد وزیرصحت کی زائد ذمہ داری ریاستی وزیر فینانس ٹی۔ہریش راؤ کو دی گئی تھی۔

تاہم آج رات وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے ایم ایل سی ڈاکٹر پی مہندر ریڈی کو” ریاستی وزیر معدنیات و زیر زمین وسائل” کا قلمدان سونپا ہے۔ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی نے قبل ازیں اپنی اہلیہ و صدرنشین ضلع پریشد،ضلع وقار آبادمحترمہ پی۔سنیتا مہندرریڈی اور دیگر افراد خاندان کے ساتھ وزیر اعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے آشیرواد حاصل کیا۔

وزیر معدنیات ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی متحدہ ریاست آندھراپردیش کی اسمبلی کے لیے حلقہ اسمبلی تانڈور سے تین مرتبہ 1994-1999–2009 میں منتخب ہوچکے ہیں۔اس وقت وہ تلگودیشم پارٹی میں شامل تھے۔جبکہ انہیں 2004ء کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے امیدوار ایم۔نارائن راؤ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بعدازاں 2014ء میں ریاست تلنگانہ کی تشکیل کےبعد وہ ٹی آر ایس (موجودہ بی آر ایس BRS# ) میں شامل ہوگئے۔2014ء میں تلنگانہ اسمبلی کے پہلے انتخابات میں حلقہ اسمبلی تانڈور سے ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی نے مقابلہ کرتے ہوئے کانگریسی امیدوار ایم۔نارائن راؤ کو ہی شکست دیتے ہوئے اسمبلی میں داخل ہوگئے۔بعدازاں انہیں وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ کی کابینہ میں جدید ریاست تلنگانہ کے پہلے وزیر ٹرانسپورٹ کا قلمدان دیا گیا ۔2018 کے وسط میں وزیراعلیٰ کے سی آر کی جانب سے معیاد سے 6 ماہ قبل ہی ریاستی اسمبلی تحلیل کیے جانے کے باعث وہ 2018 تک وزیر ٹرانسپورٹ تلنگانہ کے عہدہ پر فائز رہے۔

وہیں ڈسمبر 2018ء میں منعقدہ تلنگانہ اسمبلی کےانتخابات میں انہیں اس وقت کے کانگریسی امیدوار پائلٹ روہت ریڈی کےہاتھوں تین ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سےشکست کا منہ دیکھنا پڑاتھا۔تاہم کامیابی کے چند ماہ بعد 6 جون 2018ء کو رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی دیگر کانگریسی ارکان اسمبلی کے ساتھ اس وقت کی ٹی آر ایس (موجودہ بی آر ایس) میں شامل ہوگئے۔

اس کے بعد ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی جن کی متحدہ ضلع رنگاریڈی(اضلاع وقارآباد،رنگاریڈی اور میڑچل) کی سیاست پر زبردست پکڑ ہے اور ان کے حامیوں کی تعداد کا حلقہ بھی وسیع ہے کو پارٹی کی جانب سے 2019ء میں رکن قانون ساز کونسل بنایا گیا۔بعدازاں دوبارہ 2022 میں وہ بلاء مقابلہ متحدہ ضلع رنگاریڈی کے رکن قانون ساز کونسل منتخب ہوگئے۔

جاریہ سال کے اواخر میں منعقد ہونےوالے تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات میں مقابلہ کےلیے ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی بی آر ایس پارٹی ٹکٹ کےمضبوط دعویدار تھے،اور بارہا مرتبہ پریس کانفرنسوں میں کہہ چکےتھے کہ پارٹی انہیں ہی ٹکٹ دے گی۔تاہم گذشتہ دنوں وزیر اعلیٰ کے سی آر کی جانب سے جاری کردہ 115 میدواروں کی فہرست میں رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کو دوبارہ موقع دیا گیا۔اس وقت سیاسی اورصحافتی حلقوں میں ایسی اطلاعات زیر گشت تھیں کہ اس کے لیے ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی کو پہلے ہی رضامند کرلیا گیاہے! اور انہیں دو تین دنوں میں ریاستی کابینہ میں شامل کیا جارہا ہے۔اس طرح یہ پیش قیاسی آج درست ثابت ہوئی۔

حلقہ اسمبلی تانڈور میں بی آر ایس پارٹی دو گروپوں میں تقسیم ہوکر رہ گئی تھی۔ایک دوسرےکےخلاف بیان بازی اور پارٹی پر پکڑ قائم کرنے کی دونوں جانب سے لگاتار کوشش سے عوام اور پارٹی کارکن مخمصہ میں گرفتار تھے۔یہ معاملہ کئی مرتبہ پارٹی ہائی کمان تک بھی پہنچا تھا اور ہر مرتبہ مفاہمت کروائی گئی۔

اسی دوران جب تین دن قبل پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان ہوا تو ایک دوسرے کے انتہائی سخت حریف مانے جانے والے ایم ایل سی ڈاکٹر  پی۔مہندر ریڈی اور رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کےدرمیان اس وقت خوشگوار ماحول دیکھا گیا تھا جب رکن اسمبلی، ایم ایل سی کے مکان واقع حیدر آباد پہنچ کر انہیں گلدستہ پیش کرتے ہوئے ان کا آشیرواد حاصل کیا۔کہا جارہا ہے کہ اب بی آر ایس پارٹی تانڈور میں اختلافات ختم ہوگئے ہیں!!

اسی دؤران آج ڈاکٹر  پی۔مہندر ریڈی کی جانب سے حلف لیے جانے اور انہیں وزیر معدنیات بنائے جانے کے بعد رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی،رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی، رکن اسمبلی وقارآباد و صدر بی آر ایس وقارآباد ضلع ڈاکٹر میتکو آنند اور رکن اسمبلی پرگی مہیشور ریڈی نے ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی اور گلدستے پیش کیے۔

وہیں وزیر معدنیات ڈاکٹر پی۔ مہندر ریڈی کے حامیوں میں زبردست جوش وخروش دیکھا جارہا ہے۔متحدہ ضلع رنگاریڈی کے مختلف مقامات اور تانڈور سے ان کے حامی قائدین اور پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد حیدرآباد پہنچ کر انہیں مبارکباد پیش کرنے میں مصروف ہے۔سابق صدر تانڈور ٹاؤن ٹی آر ایس عبدالرؤف کی قیادت میں ایک وفد نے آج حیدرآباد پہنچ کر وزیر معدنیات ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس وقد میں سینئر پارٹی قائدین محمد جاوید،محمد محمود خان کے علاوہ دیگر شامل تھے۔

 

یہ بھی پڑھیں ” 

چندریان 3 کی کامیاب لینڈنگ، چاند کے تاریک کونے پر ہندوستان کا پرچم رؤشن ، چاند کے قطب جنوبی پر پہنچنے والا پہلا ملک بن گیا

حلقہ اسمبلی تانڈور سے موجودہ رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی کو ہی دوبارہ موقع، ایم ایل سی مہندر ریڈی کی ریاستی کابینہ میں شمولیت!

https://www.facebook.com/BRSParty/videos/1979975962385833