اتر پردیش : خاتون ٹیچر کی جانب سے ایک مسلم طالب علم کو ہندو طلباء کے ذریعہ تھپڑ مارنے کی ہدایت : دردناک ویڈیو وائرل

محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
خدا کی بستیوں میں درد اور دہشت کا موسم ہے

اتر پردیش : خاتون ٹیچر کی جانب سے ایک مسلم طالب علم کو
ہندو طلباء کے ذریعہ تھپڑ مارنے کی ہدایت : دردناک ویڈیو وائرل

لکھنؤ/مظفر نگر: 25۔اگست
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ملک اور سماج میں والدین کے بعد ٹیچر کو سب سے زیادہ عزت اور اہمیت دی جاتی ہے۔کیونکہ ٹیچر اپنی تعلیم، تعلیمی طریقہ کار اور بہتر تربیت کے ذریعہ بچوں کا مستقبل بناتا ہے، انہیں سماج میں ایک ذمہ دارشخص بناکر کھڑا کرتا ہے، تاکہ آگے چل کر وہ ملک اور قوم کی بہتر خدمت کر سکیں۔لیکن افسوس کہ اس مقدس پیشہ کو ریاست اترپردیش میں ایک خاتون ٹیچرنے اس حد تک داغدار کرکے رکھ دیاہے کہ جس پر سارا سوشل میڈیا بلاء مذہبی تفریق شدید تنقید میں مصروف ہے۔اور اس ٹیچر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

یہاں تک کے اس ٹیچر کےخلاف سخت ریمارکس کرتے ہوئے کئی مطالبات کیے جارہے ہیں اور الزام عائد کیاجارہا ہے کہ مذہبی منافرت سے اب اسکول بھی پاک نہیں ہیں۔جہاں بچے آپس میں مل جل کر تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کےدرمیان ذات پات اور مذہبی نفرت نہیں ہوتی لیکن افسوس کہ اس خاتون ٹیچر نے اس مقدس پیشہ کو داغدارکردیا ہے۔جبکہ اسکولوں کےمعصوم بچوں کےمتعلق کبھی ندا فاضلی نے کہا تھا کہ

جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا
بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا

 آج شام ایکس X (سابقہ نام ٹوئٹر) کےعلاوہ انسٹاگرام،واٹس ایپ اور دیگرسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہر درد مند انسان کی روح کو تڑپا دینے والا ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے ڈی جی پی اتر پردیش،اتر پردیش پولیس،دفتر وزیراعلیٰ اتر پردیش اور مظفر نگر پولیس کو ٹیگ کرتے لکھا گیاہے کہ”مظفر نگر کےمنصور پور تھانہ علاقےکے کھبھ پور گاؤں میں نیہا پبلک اسکول چلانےوالی ٹیچر ترپتا تیاگی ایک مسلمان بچہ کو غیر مسلم بچوں کےہاتھوں سے باری باری سے پٹوا رہی ہیں۔اس میڈم کے دماغ میں کتنا زہر بھراہے۔”

اس دردناک اور آنکھوں کو نم کر دینے والے ویڈیو میں دیکھا اور سنا جاسکتا ہے کہ ٹیچر ترپتا تیاگی کس طرح ایک، ایک بچہ کو بلا کر اس کے سامنے کھڑے ایک مسلم لڑکے کو تھپڑ مارنے کے لیے کہہ رہی ہے۔ساتھ ہی جب ایک طالب علم آہستہ سے تھپڑ مارتا ہےتو یہ مذہبی جنونی کہتی ہےکہ”اے کیا تم مار رہے ہو اس کو؟ زور سے مارو نہ، اس طرح وہ مزید دو بچوں کو بلاتی ہیں جو اس روتےہوئےمسلم لڑکے کو زوردار تھپڑ مارتے ہیں۔انہی میں سے ایک لڑکا اس مسلم لڑکے کی پیٹھ میں گھونسا مارتا ہے۔اور یہ لڑکا روتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

اس طرح اس ٹیچر نے ہندو طلباء کو کلاس روم میں ایک مسلمان طالب علم کو پیٹنے کی ترغیب دیتے ہوئے نظر آرہی ہے۔وہیں کوئی اس کے سامنے بیٹھا ہوا اس ٹیچر کے ساتھ بات چیت میں بھی مصروف ہے۔تاہم اس بات کا علم نہیں ہوپا یا ہے کہ یہ ویڈیو کیسے بنائی گئی کیوں کہ ٹیچر اس شخص کےساتھ بات چیت میں مصروف دکھائی دے رہی ہے اور اس کو بھی پتہ ہےکہ وہ ایک مسلم لڑکے کے ساتھ جو ساتھی طلبا سےکروارہی ہےوہ قابل گرفت بھی ہے۔ایک اور اطلاع میں بتایا جارہاہے کہ ترپتا تیاگی نیہا پبلک اسکول کی پرنسپل ہیں اور متاثرہ لڑکا 8 سال کا ہے۔! اور یہ واقعہ کل 24 اگست کا بتایا گیا ہے، اس طالب علم کو پہاڑا یاد نہیں تھا اس لیے اس طرح پٹائی کروائی گئی۔! 

دوسری جانب اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد آلٹ نیوز کے فیاکٹ چیکر محمد زبیر نے اسی ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”ساتھی طلبا کے ہاتھوں خاتون ٹیچر کے ذریعہ تھپڑ کھانے والے طالب علم کا نام شمس (نام تبدیل) ہے۔انہوں نےلکھا کہ ابھی لڑکے کے والد عمران (نام تبدیل)سے بات ہوئی۔وہ کہہ رہےہیں کہ اب انہوں نےاپنے بیٹےکو اسکول نہ بھیجنے کا فیصلہ کیاہے۔انہوں نے کہاکہ خاتون ٹیچر نے پولیس کےسامنےمعافی مانگ لی ہے۔اور اس نےمظفر نگر پولیس کوتحریری طور پربتایاکہ وہ اس ٹیچرکےخلاف شکایت درج نہیں کروانا چاہتا 

کھٹولی علاقہ کے پولیس عہدیدار ڈاکٹر روی شنکر کا اس سلسلہ میں مظفر نگر پولیس کے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک ویڈیو ٹوئٹ کیا گیا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ” پولیس تھانہ منصورپور پولیس تھانہ کے کھبہ پور گاؤں کےاسکول میں کلاس کے دیگر طلباءکے ذریعہ ایک طالب علم کی پٹائی کروانے اور مذہبی تبصرے کرنے کے معاملے کی تحقیقات منصور پور تھانہ کے ذریعہ کر وائی جا رہی ہے۔ "

اس ویڈیو کے بعد فیاکٹ چیکر محمد زبیر نے متاثرہ لڑکے عمران کے والد کے بیان پرمشتمل ویڈیو بھی ٹوئٹ کیا جس میں وہ کہہ رہےہیں کہ وہ ٹیچر کے خلاف پولیس میں شکایت درج نہیں کروائیں گے۔اور وہ اپنے بچہ کواسکول نہیں بھیجیں گے۔ایک سال کی اسکول فیس واپس لےلیں گے ( الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ مقامی سطح پر طالب علم کے والد پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے؟)

تاہم اس ویڈیوکے وائرل ہونےکے بعد محمد زبیر نے ٹوئٹ کیا ہے کہ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس NCPCR# کی ہدایت پر اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے۔تاکہ ان معاملات میں متاثرہ طالب علم اور اس کےسرپرستوں کی شناخت کومخفی رکھنا ضروری ہے۔

اس واقعہ کے بعد بابائے قوم مہاتما گاندھی کے پڑ پوتے تشار گاندھی نےسخت الفاظ میں کہا کہ اتر پردیش کے اسکولوں میں مستقبل کے ناتھو رام گوڈسے پیدا کیے جا رہے ہیں۔” نفرت کی پاٹھا شالہ "

ٹیچر ترپتا تیاگی کے خلاف ٹوئٹر پر باقاعدہ ArrestTriptaTyagi# کا ہیش ٹیگ ٹرینڈنگ کررہا ہے جو ٹاپ پر ہے۔آج اسکول کےاس نفرت انگیز ویڈیو پر کئی سوشل میڈیاصارفین لکھ رہے ہیں کہ منی پور واقعہ کے ویڈیو کےبعد یہ ویڈیو ایک شرمناک ویڈیو ہے۔جس سےپتہ چلتا ہےکہ مذہبی منافرت اب اسکولوں تک پہنچ گئی ہے۔! اور سوال اٹھائے جارہے ہیں اس مسلم لڑکے پر کتنا نفسیاتی اثر ہوا ہوگا؟ اور اس کے لیے کون ذمہ دار ہیں۔؟ اور کیا اس خاتون ٹیچر ترپتا تیاگی کےخلاف پولیس ازخود اپنی جانب سے Suomoto# کےتحت قانونی کارروائی کویقینی بنائے گی۔؟

https://twitter.com/Politics_2022_/status/1695115853606633627

کانگریس کی چیئر پرسن سوشل میڈیا و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سپریہ شری ناٹے نے ویڈیوبیان جاری کرتےہوئے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور ٹیچر ترپتا تیاگی کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ 

اپ ڈیٹ : 26 اگست 2023ء "

سابق صدرکل ہند کانگریس و رکن پارلیمان راہول گاندھی،صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمان حلقہ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی، جنرل سیکریٹری کانگریس پرینکاگاندھی واڈرا،سابق وزیراعلیٰ اتر پردیش اکھلیش یادو،،کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور،رکن پارلیمان بی جے پی ورون گاندھی، فلم اداکار پرکاش راج،اداکارہ رینوکا شاہنی، آزاد صحافیوں کے علاوہ کئی ممتاز شخصیتوں اور عام صارفین کی جانب سے بالخصوص ٹوئٹر پر اس واقعہ کی شدید مذمت اور ٹیچر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

بعدازاں مظفر نگر کےضلع ایس پی(سٹی) ستیہ نارائن نے کہاکہ ٹیچر ترپتا تیاگی کےخلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 323 (رضاکارانہ طور پر چوٹ پہنچانا) اور 504 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانےکے ارادہ سےجان بوجھ کر توہین)کے تحت مقدمہ درج کیا گیاہے۔انہوں نے کہاکہ تفتیش کے دوران دیگر عوامل کے تحت مزید دفعات کا اندراج کیا جائے گا۔

اسی دوران ٹیچر ترپتا تیاگی نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ ویڈیو خود اس مسلم طالب علم کے چاچا نے بنایا تھا!! انہوں نے قبول کیا کہ انہوں نے ساتھی طلباء کے ذریعہ اس بچہ کی پٹائی کروا کر واقعی غلطی کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ میں معذور ہوں اور اٹھ نہیں سکتی،اس لیے میں نے طلباء سے کہاکہ وہ بچے کو تھپڑ ماریں۔ ٹیچر ترپتا تیاگی نے کہا کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا جیسا کہ سوشل میڈیا پر لکھا جا رہا ہے کیونکہ ان کے اسکول میں مسلم طلباء کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔

سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر اس قابل مذمت واقعہ پرمشتمل ویڈیو کی سونامی آنےکے بعد کہا جارہا ہے کہ یہ صرف ایک مسلم بچہ کے ساتھ ظلم نہیں ہےبلکہ اس لڑکے کوتھپڑ مارنے کی ترغیب دینےوالی ٹیچر ہندوبچوں کو بھی ایک مذہب کے خلاف کھڑا کرنے اور معصوم ذہنوں کو خراب کرنے کا جرم کر رہی ہیں۔دوسری جانب ٹوئٹر پر ٹیچر کی تائید میں ISupportTriptaTyagi# کا ہیش ٹیگ بھی چلایا جا رہا ہے۔

اس واقعہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کسان رہنماء نریش ٹکیٹ نے ٹیچر کےکہنے پر تھپڑ کھانےوالے طالب علم اور اپنےہم جماعت کوتھپڑ مارنے والے ان بچوں کو گلے ملواتے ہوئے اس پیغام کو عام کیا کہ ٹیچر کے دل میں زہر اور نفرت بھری ہوئی ہے لیکن بچوں کے درمیان صرف دوستی اور محبت ہے۔اس واقعہ کا دلکش ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے۔

اس انسانیت کو شرمسار کرنے والے ویڈیو کو دیکھنے کے بعد کسی شاعر کا یہ شعر موجودہ حالات کی عکاسی کرتا ہے کہ ؎

محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
خدا کی بستیوں میں درد اور دہشت کا موسم ہے