محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
خدا کی بستیوں میں درد اور دہشت کا موسم ہے
اتر پردیش : خاتون ٹیچر کی جانب سے ایک مسلم طالب علم کو
ہندو طلباء کے ذریعہ تھپڑ مارنے کی ہدایت : دردناک ویڈیو وائرل
لکھنؤ/مظفر نگر: 25۔اگست
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا
بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا
اس طرح اس ٹیچر نے ہندو طلباء کو کلاس روم میں ایک مسلمان طالب علم کو پیٹنے کی ترغیب دیتے ہوئے نظر آرہی ہے۔وہیں کوئی اس کے سامنے بیٹھا ہوا اس ٹیچر کے ساتھ بات چیت میں بھی مصروف ہے۔تاہم اس بات کا علم نہیں ہوپا یا ہے کہ یہ ویڈیو کیسے بنائی گئی کیوں کہ ٹیچر اس شخص کےساتھ بات چیت میں مصروف دکھائی دے رہی ہے اور اس کو بھی پتہ ہےکہ وہ ایک مسلم لڑکے کے ساتھ جو ساتھی طلبا سےکروارہی ہےوہ قابل گرفت بھی ہے۔ایک اور اطلاع میں بتایا جارہاہے کہ ترپتا تیاگی نیہا پبلک اسکول کی پرنسپل ہیں اور متاثرہ لڑکا 8 سال کا ہے۔! اور یہ واقعہ کل 24 اگست کا بتایا گیا ہے، اس طالب علم کو پہاڑا یاد نہیں تھا اس لیے اس طرح پٹائی کروائی گئی۔!
اس واقعہ کے بعد بابائے قوم مہاتما گاندھی کے پڑ پوتے تشار گاندھی نےسخت الفاظ میں کہا کہ اتر پردیش کے اسکولوں میں مستقبل کے ناتھو رام گوڈسے پیدا کیے جا رہے ہیں۔” نفرت کی پاٹھا شالہ "
https://twitter.com/Politics_2022_/status/1695115853606633627
کانگریس کی چیئر پرسن سوشل میڈیا و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سپریہ شری ناٹے نے ویڈیوبیان جاری کرتےہوئے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور ٹیچر ترپتا تیاگی کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
” اپ ڈیٹ : 26 اگست 2023ء "
سابق صدرکل ہند کانگریس و رکن پارلیمان راہول گاندھی،صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمان حلقہ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی، جنرل سیکریٹری کانگریس پرینکاگاندھی واڈرا،سابق وزیراعلیٰ اتر پردیش اکھلیش یادو،،کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور،رکن پارلیمان بی جے پی ورون گاندھی، فلم اداکار پرکاش راج،اداکارہ رینوکا شاہنی، آزاد صحافیوں کے علاوہ کئی ممتاز شخصیتوں اور عام صارفین کی جانب سے بالخصوص ٹوئٹر پر اس واقعہ کی شدید مذمت اور ٹیچر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
بعدازاں مظفر نگر کےضلع ایس پی(سٹی) ستیہ نارائن نے کہاکہ ٹیچر ترپتا تیاگی کےخلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 323 (رضاکارانہ طور پر چوٹ پہنچانا) اور 504 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانےکے ارادہ سےجان بوجھ کر توہین)کے تحت مقدمہ درج کیا گیاہے۔انہوں نے کہاکہ تفتیش کے دوران دیگر عوامل کے تحت مزید دفعات کا اندراج کیا جائے گا۔
اسی دوران ٹیچر ترپتا تیاگی نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ ویڈیو خود اس مسلم طالب علم کے چاچا نے بنایا تھا!! انہوں نے قبول کیا کہ انہوں نے ساتھی طلباء کے ذریعہ اس بچہ کی پٹائی کروا کر واقعی غلطی کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ میں معذور ہوں اور اٹھ نہیں سکتی،اس لیے میں نے طلباء سے کہاکہ وہ بچے کو تھپڑ ماریں۔ ٹیچر ترپتا تیاگی نے کہا کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا جیسا کہ سوشل میڈیا پر لکھا جا رہا ہے کیونکہ ان کے اسکول میں مسلم طلباء کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔
سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر اس قابل مذمت واقعہ پرمشتمل ویڈیو کی سونامی آنےکے بعد کہا جارہا ہے کہ یہ صرف ایک مسلم بچہ کے ساتھ ظلم نہیں ہےبلکہ اس لڑکے کوتھپڑ مارنے کی ترغیب دینےوالی ٹیچر ہندوبچوں کو بھی ایک مذہب کے خلاف کھڑا کرنے اور معصوم ذہنوں کو خراب کرنے کا جرم کر رہی ہیں۔دوسری جانب ٹوئٹر پر ٹیچر کی تائید میں ISupportTriptaTyagi# کا ہیش ٹیگ بھی چلایا جا رہا ہے۔
اس واقعہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کسان رہنماء نریش ٹکیٹ نے ٹیچر کےکہنے پر تھپڑ کھانےوالے طالب علم اور اپنےہم جماعت کوتھپڑ مارنے والے ان بچوں کو گلے ملواتے ہوئے اس پیغام کو عام کیا کہ ٹیچر کے دل میں زہر اور نفرت بھری ہوئی ہے لیکن بچوں کے درمیان صرف دوستی اور محبت ہے۔اس واقعہ کا دلکش ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے۔
محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
خدا کی بستیوں میں درد اور دہشت کا موسم ہے


