وزیراعلیٰ ریونت ریڈی سے سابق وزیر ، ایم ایل سی مہیندر ریڈی اور صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد سنیتا مہندر ریڈی کی ملاقات

تلنگانہ میں بی آر ایس پارٹی کو ایک اور جھٹکا
وزیراعلیٰ ریونت ریڈی سے سابق وزیر، ایم ایل سی مہیندر ریڈی اور
صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد سنیتا مہندر ریڈی نے ملاقات کی
11 فروری کو کانگریس میں شمولیت کی قیاس آرائیاں!

حیدرآباد : 08۔فروری
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ میں 3 ڈسمبر کوانتخابی نتائج کے بعد دو معیادوں تک ریاست کے اقتدار پر مضبوط پکڑ رکھتے ہوئے بھی اقتدار سے بے دخل ہونے والی بی آر ایس پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہے۔جہاں اس کے پانچ ارکان اسمبلی نے گزشتہ دنوں ریاستی وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سے ملاقات کی تھی۔پھر اس کے بعد ان کی کانگریس میں شمولیت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ سے یہ خیر سگالی ملاقات تھی۔جبکہ کئی اضلاع میں بی آر ایس کے کئی اہم قائدین اور ارکان بلدیہ انتخابات سے قبل یا بعد میں کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں۔

دو دن قبل دہلی میں بی آر ایس پارٹی کے رکن پارلیمان حلقہ پیدا پلی بی۔وینکٹیش نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کی موجودگی میں کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔وہیں آج ہی سابق ڈپٹی میئر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن بابا فصیح الدین بی آر ایس پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوگئے۔

اسی دؤران آج رات سابق ریاستی وزیر و موجودہ ایم ایل سی متحدہ ضلع رنگاریڈی ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی نےاپنی اہلیہ محترمہ پی۔سنیتا مہندر ریڈی صدرنشین ضلع پریشد،ضلع وقارآباد اور اپنے فرزند پی۔رنیش ریڈی کےساتھ حیدرآباد میں وزیراعلیٰ ریونت ریڈی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔ اس موقع پر نائب وزیراعلیٰ بھٹی وکرا مارکا اور ریاستی وزیر دامودر راج نرسمہا بھی موجود تھے۔اس ملاقات کوخیر سکالی ملاقات کہا جارہا ہے۔

قریبی ذرائع کےمطابق کانگریس کی مرکزی قیادت نے محترمہ پی۔سنیتا مہندرریڈی کو حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے مقابلہ کرنے کا پیشکش کیا ہے۔محترمہ پی۔سنیتا مہندر ریڈی ہیٹ ٹرک ریکارڈ قائم کرتے ہوئے صدرنشین ضلع پریشدمنتخب ہوئی ہیں۔سیاسی میدان میں ان  کی شبیہ انتہائی بے داغ، غیر متنازعہ اور عوامی مقبولیت کا ایک ریکارڈ رکھتی ہے۔وہیں ڈاکٹر پی۔مہیندر ریڈی بھی متحدہ ضلع رنگاریڈی میں اپنی ایک مضبوط سیاسی گرفت رکھتے ہیں۔

امکان جتایا رہا ہے 11 فروری کو سابق ریاستی وزیر و موجودہ ایم ایل سی متحدہ ضلع رنگاریڈی ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی نے اپنی اہلیہ محترمہ پی۔سنیتا مہندر ریڈی صدرنشین ضلع پریشد،ضلع وقارآباد، فرزند پی۔رنیش ریڈی کے علاوہ متحدہ ضلع رنگاریڈی (اضلاع وقارآباد، رنگا ریڈی اور میڑچل) کے اپنے حامیوں کی کثیر تعداد کے ساتھ باقاعدہ کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔

گزشتہ ماہ ایسی اطلاعات زیرگشت تھیں کہ 5 فروری کو وزیراعلیٰ ریونت ریڈی وقارآبادضلع میں موجود اپنے حلقہ اسمبلی کوڑنگل کا دؤرہ کرنے والے ہیں۔جہاں وہ ایک جلسہ سےخطاب بھی کریں گے اور اسی جلسہ میں ڈاکٹر پی۔مہیندر ریڈی اور محترمہ سنیتا مہندر ریڈی کانگریس میں شامل ہونے والے ہیں تاہم وزیراعلیٰ کا یہ دورہ ملتوی کر دیا گیاتھا۔یہاں یہ تذکرہ غیرضروری نہ ہوگاکہ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی 1994 تا 2014حلقہ اسمبلی تانڈور سے پانچ مرتبہ انتخابات جیت چکے ہیں۔

2014ء میں تشکیل پانے والی ریاست تلنگانہ کےپہلے انتخابات میں انہوں نے بی آر ایس پارٹی کے امیدوار کےطور پر بھی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اس وقت کے وزیراعلیٰ کے سی آر کی کابینہ میں وزیر ٹرانسپورٹ کی وزارت حاصل کی تھی۔تاہم 2018ء میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں انہیں کانگریس کے امیدوار پائلٹ روہت ریڈی کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔بعد ازاں بی آر ایس نے انہیں ایم ایل سی نامزد کیا تھا۔لیکن انتخابات کے 6 ماہ بعد اس وقت کانگریس سے علحدگی اختیار کرتے ہوئے جن 12 ارکان اسمبلی نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی ان میں رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی بھی شامل تھے۔

نومبر 2023 میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی نے حلقہ اسمبلی تانڈور سے پارٹی ٹکٹ کے لیے مضبوط دعویداری پیش کی تھی لیکن بی آر ایس سربراہ کے سی آر نے دوبارہ پائلٹ روہت ریڈی کو ہی ٹکٹ دیا تھا۔اور ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی کو اپنی وزارت میں شامل کرتے ہوئے انہیں وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ و معدنیات کا قلمدان تفویض کیاتھا۔وہیں ان اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس پارٹی کےامیدوار پائلٹ روہت ریڈی کو حلقہ اسمبلی تانڈور سے کانگریس پارٹی کے امیدوار بویانی منوہر ریڈی کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

متحدہ ضلع رنگاریڈی کے 7 اسمبلی حلقہ جات مہیشورم، راجندر نگر، سیری لنگم پلی، وقارآباد، تانڈور اور پرگی پر مشتمل حلقہ پارلیمان چیوڑلہ جس پر 2014 کےانتخابات میں بی آر ایس پارٹی کے امیدوار کونڈا وشویشورریڈی اور 2019کے انتخابات میں ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی منتخب ہوئے تھے۔

تاہم 2018 میں کونڈا وشویشور ریڈی بی آر ایس چھوڑکر کانگریس میں شامل ہوتےہوئے 2019 کے انتخابات میں مقابلہ کیا تھا لیکن انہیں شکست ہوئی تھی۔گزشتہ سال وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے۔اب ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی اور ان کی اہلیہ محترمہ سنیتا مہیندر ریڈی کی کانگریس میں شمولیت کے بعدحلقہ پارلیمان چیوڑلہ اور اضلاع رنگاریڈی و وقارآباد میں شدید سیاسی اتھل پتھل کا امکان ہے۔!!

حالیہ اسمبلی انتخابات میں وقارآباد ضلع میں موجود چاروں اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، تانڈور، پرگی کے علاوہ کوڑنگل کو کانگریس نے بی آر ایس سے چھین لیا تھا۔تاہم اسمبلی حلقہ کوڑنگل پارلیمانی حلقہ محبوب نگر میں شامل ہے۔جبکہ چیوڑلہ پارلیمانی حلقہ میں شامل متحدہ ضلع رنگاریڈی کے اسمبلی حلقہ جات مہیشورم، سیری لنگم پلی، راجندر نگر اور چیوڑلہ پر بی آر ایس نے اپنا قبضہ برقرار رکھا تھا۔

یاد رہےکہ جدید پارلیمانی حلقوں کی تشکیل کے بعد حلقہ پارلیمان چیوڑلہ وجود میں آیا تھا۔اس سے قبل یہ حلقے حلقہ پارلیمان حیدرآباد میں شامل میں تھے۔2009 میں منعقدہ انتخابات میں پارلیمانی حلقہ چیوڑلہ سے کانگریسی امیدوار جئے پال ریڈی پہلی مرتبہ منتخب ہوئے تھے۔اس کے بعد دو مرتبہ بی آر ایس پارٹی نے اس حلقہ سے کامیابی حاصل کی۔فی الوقت بی آر ایس پارٹی کے ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی اس حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

 " یہ بھی پڑھیں "

ڈپریشن کی حالت میں سیرت رسول ؐ کا مطالعہ کیجئے : حضرت شاہ جمال الرحمن مفتاحی، تاریخ شاہد ہے کہ ظلم وستم کی عمر بہت قلیل ہوتی ہے : حضرت مولانا پی ایم مزمل

 

کشمیر میں برفباری کے دؤران دو کمسن لڑکیوں کا دلنشین ویڈیو وائرل، برف سے کھیلتے ہوئے شاعرانہ انداز میں رپورٹنگ، زبردست ستائش

جمہوریت کا قتل نہیں ہونے دیں گے، جمہوریت کو مذاق بنا دیا گیا : سپریم کورٹ آف انڈیا