جمہوریت کا قتل نہیں ہونے دیں گے، جمہوریت کو مذاق بنا دیا گیا: سپریم کورٹ
چنڈی گڑھ کے میئر کے انتخابات میں پریسائیڈنگ آفیسر کی حرکت پر
چیف جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ کی قیادت والی بنچ کے سخت ریمارکس
دہلی : 05۔جنوری
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
سپریم کورٹ نے آج پیر کے دن چندی گڑھ میونسپل کارپوریشن کے میئر انتخابات میں پریسائیڈنگ آفیسر کے طرزعمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے سخت ریمارک کیا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ جمہوریت کا قتل ہے۔ یہ واقعہ 30 جنوری کو پیش آیا تھا۔
معزز چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرا چوڑ کی صدارت والی تین ججوں کی بنچ نے ہدایت دی کہ آج شام 5 بجے تک چنڈی گڑھ میونسپل کارپوریشن کے میئر کے انتخاب سے متعلق تمام ریکارڈ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کی تحویل میں لے لیا جائے۔سپریم کورٹ کی اس سہء رکنی بنچ جس میں جسٹس جے بی پارڈی والا اور منوج مشرا بھی شامل ہیں نے حکم دیا کہ نو منتخب کونسل کی میٹنگ جو 7 فروری کو ہونے والی ہے، مزید احکامات تک ملتوی کر دی جائے۔
معزز چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرا چوڑ نے آج عام آدمی پارٹی (عآپ) کے کونسلر و شکست سے دوچار ہونے والے میئر کے امیدوار کلدیپ کمار کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا ریٹرننگ افسر کا یہ رویہ ہے؟ جو کیمرے کو دیکھتا ہے،اور پھر بیلٹ پیپر کو دیکھتا ہے،پھر بیلٹ پیپر پر غلط کانشان لگاتا ہے اور انہیں ٹرے میں رکھتا ہے۔جس لمحہ وہ ایک بیلٹ پیپر پر غلط کا نشان لگاتا ہے تو وہ آدمی بیلٹ کوخراب کرتاہے اورکیمرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کون اسے دیکھ رہا ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرا چوڑ نے کہا کہ آپ اپنے ریٹرننگ آفیسر کو بتائیں کہ سپریم کورٹ ان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اور ہم جمہوریت کا اس طرح قتل نہیں ہونے دیں گے۔اس ملک میں سب سے بڑی طاقت انتخابی عمل کی پاکیزگی ہے،لیکن یہاں کیا ہواہے!!
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا نے انتخابات کی پاکیزگی کے متعلق جو کہا ہے اس پر کوئی تنازعہ نہیں ہو سکتا لیکن انہوں نے اس کیس کی سماعت کر رہی سہء رکنی بنچ پر زور دیا کہ وہ مکمل تصویر حاصل کیے بغیر رائے قائم نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے تصویر کا صرف ایک رخ دیکھا ہے۔جس پر چیف جسٹس آف انڈیانے کہاکہ اگلے موقع پر پوری ویڈیو کو عدالت میں پیش کیاجائے،تشارمہتا نے ایسا اس پر رضا مندی ظاہر کی۔لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت میں اس ریٹرننگ آفیسر کو بھی سپریم کورٹ میں حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔
جب تشار مہتا نے ضوابط کا حوالہ دیا تو معزز چیف جسٹس نے مزید کہاکہ” ہم ضوابط کےمطابق نہیں جا رہے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ضمیر مطمئن ہو۔بصورت دیگر نئے انتخابات کروائیں۔ہم ہدایت دیں گے کہ ریٹرننگ آفیسر کون ہوگا اور دوبارہ الیکشن کروائیں۔
جس پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ایک بار پھر بنچ پر زور دیا کہ انتہائی منتخب طور پر کہی گئی کسی چیز پر مبنی رائے قائم نہ کریں۔لیکن اس پر چیف جسٹس مطمئین نہیں ہوئے اور یمارکس کیے کہ وہ ایک مفرور کی طرح کیمرے کی جانب کیوں دیکھ رہا ہے؟ اسے اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔ وہ کیمرے کی طرف دیکھتا ہے اور آرام سے بیلٹ پیپر کو خراب کرتا ہے۔
درخواست گزار کلدیپ کمار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل اے ایم سنگھوی نے کہاکہ ریکارڈ کو ضبط کرنے کے بعد نئے انتخابات کروا کر اس کو حل کیا جا سکتا ہے جس پر بنچ نے اتفاق کیا۔بعدازاں ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے،بنچ نے کہا کہ اس مرحلہ پر ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابی عمل کی پاکیزگی اور تقدس کے تحفظ کےلیے ایک مناسب عبوری حکم نامہ جاری کیا گیا تھا،جسے ہائی کورٹ منظور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ہم ہدایت دیتے ہیں کہ چندی گڑھ میونسپل کارپوریشن کے میئر کے انتخاب سے متعلق تمام ریکارڈ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کی تحویل میں طلب کیاجائے۔اس میں بیلٹ پیپرز، پورے انتخابی عمل کی ویڈیو گرافی اور ریٹرننگ آفیسر کی تحویل میں موجود دیگر تمام مواد شامل ہوں گے۔
یاد رہےکہ 30 جنوری کو اس واقعہ کا ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہواتھاکہ کس طرح 35 رکنی چندی گڑھ میونسپل کارپوریشن کےمیئر کے الیکشن کے وقت عام آدمی پارٹی اور کانگریس میں مفاہمت کے بعد ڈالے گئے 20 ووٹوں میں سے 8 ووٹوں کو پریسائیڈنگ آفیسر انیل مسیح نے مسترد کرتےہوئے بشمول بی جے پی ایم پی اور دیگر 15 پرمشتمل 16 ووٹ حاصل کرنے والے بی جے پی کے امیدوار کو کامیاب قرار دیا تھا۔
https://twitter.com/Politics_2022_/status/1752258491962785876
پریسائیڈنگ آفیسر کی اس حرکت پر اپوزیشن جماعتوں اور سوشل میڈیا پر اس واقعہ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شدید تنقید کی جارہی تھی اور باقاعدہ تصاویر کے ذریعہ الزام عائد کیا گیاتھاکہ پریسائیڈنگ آفیسر کا تعلق بی جے پی سے ہے! اس لیے انہوں نے چندی گڑھ کے میئر کے انتخاب کے دؤران اکثریت حاصل ہونے کے باوجود عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے اتحادی 8 ووٹوں کو خود اپنی جانب سے ناقابل قبول بناتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا تھا۔!!
” یہ بھی پڑھیں "

