کشمیری پنڈتوں کے معاملہ میں ان کے رول کے سوال پر فاروق عبداللہ برہم
کہا مرکز کی بی جے پی حکومت ایک کمیشن قائم کرے،حقائق سامنے آجائیں گے
نئی دہلی:22۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
حال ہی میں 1990 کے دہے میں کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کے قتل اور ان کی نقل مکانی کے موضوع پر پر بنائی گئی فلم”دی کشمیر فائلز” کو لے کر بی جے پی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔
خبر رساں ادارہ اے این آئی کے مطابق نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما و سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر فاروق عبداللہ آج صحافیوں پر اس وقت شدید برہم ہوگئے جب صحافیوں نے جموں وکشمیر کے چیف منسٹر کی حیثیت سے ان کے دؤر میں کشمیری پنڈتوں کے قتل اور ان کی نقل مکانی کے متعلق سوال پوچھا۔
جس پر فاروق عبداللہ نے کہا کہ”مجھے لگتا ہے کہ بی جے پی زیرقیادت والی مرکزی حکومت کو ایک کمیشن مقرر کرنا چاہئے۔اور یہ انہیں بتائے گا کہ کون ذمہ دار ہے؟ آپ سچ جاننا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک کمیشن کا تقرر کرنا چاہئے۔”
"فلم دی کشمیر فائلز” 1990 کی دہائی میں کشمیری پنڈتوں کے قتل اور ان کی کشمیر سےنقل مکانی کےموضوع پربنائی گئی ہے۔
وویک اگنی ہوتری کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم دی کشمیر فائلز میں فاروق عبداللہ کے رول کو کشمیری پنڈتوں کے اخراج کے دؤران جموں و کشمیر کے چیف منسٹر کے طور پر دکھایا گیا ہے۔وہیں جمعہ کو فاروق عبداللہ کے فرزند و سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ "فلم دی کشمیر فائلز میں بہت سی غلط چیزیں دکھائی گئی ہیں‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ”جب کشمیری پنڈت وادی چھوڑ گئے تو فاروق عبداللہ چیف منسٹر نہیں تھے۔جگموہن جموں و کشمیر کے گورنر تھے اور مرکز میں وی پی سنگھ کی حکومت تھی جسے بی جے پی کی حمایت حاصل تھی۔فاروق عبداللہ کے فرزند و سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ فلم کشمیر فائلز میں وی پی سنگھ کی حکومت اور بی جے پی کو کیوں نہیں دکھایا گیا؟انہوں نے کہا کہ حقائق سے کھیلنا درست نہیں۔ہم کشمیری پنڈتوں کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔لیکن کیا کشمیری مسلمانوں اور سکھوں کا بھی قتل نہیں ہوا تھا؟۔
بعدازاں عمرعبداللہ نے ٹوئٹر پر ویڈیو کے ساتھ ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ”1990 اور اس کے بعد کے درد اور تکلیف کو ختم نہیں کیاجا سکتا۔جس طرح سے کشمیری پنڈتوں سے ان سے تحفظ کا احساس چھین لیا اور انہیں وادی چھوڑنا پڑا جو کہ ہماری کشمیریت کی ثقافت پر ایک داغ ہے۔ہمیں تقسیم کو دور کرنے کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے اور ان میں اضافہ نہیں کرنا ہے”۔

