نیوزی لینڈ میں فلم دی کشمیرفائلز کی نمائش پر روک
نئی دہلی: 22۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
نیوزی لینڈ نے ہندوستان میں 1990 کی دہائی میں کشمیری پنڈتوں کے قتل اور کشمیر سے ان کی نقل مقامی کے موضوع پر بنائی گئی فلم ” دی کشمیر فائلز” کی نمائش کواپنے ملک میں روک دی ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق نیوزی لینڈ کے سنسر بورڈ نے قبل ازیں اپنے ملک میں اس فلم کی نمائش کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کردیا تھا اور یہ فلم وہاں 24 مارچ کو ریلیز ہونے والی تھی۔
تاہم چند مذہبی گروپس کی جانب سے سنسر بورڈ سے رابطہ قائم کرتے ہوئے فلم کے موضوع سے متعلق اور ملک میں جاری تنازعہ اور حالات و واقعات سے واقف کروانے کے بعد اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فلم دی کشمیر فائلز کی نیوزی لینڈ میں نمائش کو فی الوقت روک دیا ہے۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق نیوزی لینڈ کے فلم سنسر بورڈ نے اپنے ملک میں فلم”دی کشمیر فائلز” کی نمائش کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کردیا تھا۔جس کے تحت 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے حامل افراد کو فلم دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔لیکن بورڈ نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور فلم کی نمائش کوروک دیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چیف سنسر فلم کی درجہ بندی کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ مسلم مذہبی ذمہ داران نے اس فلم کے مواد پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
نیوزی لینڈ کے چیف سنسر ڈیوڈ شینکس کے کہنے کے بعد کہ وہ "دی کشمیر فائلز” کو جاری کیے گئے سرٹیفکیٹ کا ازسر نو جائزہ لیں گے۔کیونکہ مسلم تنظیموں کی جانب سے اس پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔وہیں نیوزی لینڈ میں ہندوستان کے ہائی کمشنر مکیش کے پردیشی نے انہیں اس معاملہ میں ایک مکتوب روانہ کیا ہے۔جس میں ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ میں فلم کو لے کر غیر ضروری تنازعہ کھڑا کیا گیا ہے۔اور سنسر سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں متوازن اور منصفانہ رویہ اختیار کرے۔
اس معاملہ میں فلم دی کشمیرفائلز کے رائٹر و ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری نے 19 مارچ کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ”پیارے دوستو،کچھ فرقہ وارانہ اور دہشت گردی کے ہمدرد گروپ TheKashmirFiles# پر پابندی عائد کرنے کے لیے نیوزی لینڈ کی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔یہ اخلاقی اور اصولی طور پر غلط ہے۔براہ کرم RightToJustice# (حق۔انصاف) کی حمایت کریں۔
یاد رہے کہ اداکار انوپم کھیر،متھن چکرورتی، پلوی جوشی کی اداکاری پر مشتمل فلم”دی کشمیر فائلز” 11 مارچ کو ریلیز کی گئی تھی جس نے آج تک 179 کروڑ روپئے کا بزنس کرتے ہوئے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔جس کی ریلیز کے بعد ملک بھر ایک ہنگامہ جاری ہے۔
ایک جانب سرکاری سطح پر بی جے پی کی جانب سے اس فلم کی زبردست تائید کی جارہی ہے تو سوشل میڈیا پر اور خود چند کشمیری پنڈتوں کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ اس فلم میں مکمل حقائق نہیں دکھائے گئے اور سکہ کا صرف ایک رخ ہی دکھایا گیا ہے!۔
اس فلم کو دیکھنے کے بعد ملک کے مختلف شہروں کے سینما تھیٹروں میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور دھمکیوں پرمشتمل کئی ویڈیوز سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئے ہیں!!
دوسری جانب نیوزی لینڈ کے سابق نائب وزیراعظم ونسٹن پیٹرز نے اس سلسلہ میں فیس بک پر تحریر کردہ اپنے ایک طویل پوسٹ میں نیوزی لینڈ کے فلم سنسر بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم کو سنسر کرنا نیوزی لینڈ کی آزادی پر حملہ ہوگا۔اپنے اس فیس بک پوسٹ میں انہوں نے لکھا ہے کہ اس فلم کو سنسر کرنا نیوزی لینڈ میں 15 مارچ کے مظالم سے متعلق معلومات یا تصاویر کو سنسر کرنے کے مترادف ہے۔یا پھر 9/11 کے حملے کی تمام تصاویر کو عوام کے علم سے ہٹانے کے مترادف ہے۔
نیوزی لینڈ کے سابق نائب وزیراعظم ونسٹن پیٹرز نے مزید لکھا ہے کہ دہشت گردی کسی بھی شکلوں میں ہو،خواہ اس کا ذریعہ کوئی بھی ہو،بے نقاب ہو اور اس کی مخالفت کی جانی چاہیے۔سلیکٹیو سنسر شپ کی یہ کوشش نیوزی لینڈ کے باشندوں اور دنیا بھر کے لوگوں کی آزادی پر ایک اور حملے کے مترادف ہوگی۔
https://www.facebook.com/winstonpeters/posts/507128480785114
TheKashmirFiles#

