بی جے پی کے ارکان پارلیمان مینکا گاندھی اور ان کے فرزند ورون گاندھی بی جے پی ایگزیکٹیو کونسل سے خارج

کسانوں کی تائید اورلکھیم پور کھیری واقعہ کی مذمت،ورون گاندھی کے لگاتار ٹوئٹس کا شاخسانہ!!
مینکا گاندھی اور ان کے فرزند ورون گاندھی بی جے پی ایگزیکٹیو کونسل سے خارج

نئی دہلی: 07۔اکتوبر(سحرنیوزبیورو؍ایجنسیز)

اتوار کو اتر پردیش کےلکھیم پور کھیری میں مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کے بیٹے اشیش مشرا کی جانب سے کسانوں کو گاڑی سے رؤند دئیے جانے کے الزامات کے بعد سے گاندھی خاندان کے رکن ورون گاندھی جو کہ حلقہ پیلی بھیت،اترپردیش سے بی جے پی کے رکن لوک سبھا ہیں کے تیور تبدیل ہوگئے ہیں اور وہ ٹوئٹر پر لگاتار اس معاملہ پر ٹوئٹ کرکے بی جے پی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔

ان کا مطالبہ ہے کہ واقعہ کے ذمہ داران کو فوری گرفتار کیا جائے۔

ورون گاندھی اور ان کی والدہ جو کہ اتر پردیش کے ہی سلطان پور حلقہ سے بی جے پی کی رکن پارلیمان ہیں اور سابق میں بی جے پی حکومت میں وزیر رہ چکی ہیں کو آج  بی جے پی نے اپنی 80 رکنی ” قومی ایگزیکٹیو کونسل ” کی فہرست سے خارج کردیا ہے۔

جس میں سابق نائب وزیراعظم و وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی،مرلی منوہر جوشی کے علاوہ کئی سابق وزرا اور بی جے قائدین شامل ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سمیت کئی مرکزی وزراء اس فہرست میں متوقع طور پر حال ہی میں شامل کئے گئے ہیں۔وزیر اشونی وشنو کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ہرش وردھن،روی شنکر پرساد اور پرکاش جاوڈیکر جیسے سابق مرکزی وزراء بھی قومی ایگزیکٹو کونسل کے رکن رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم اندراگاندھی کے فرزند سنجے گاندھی کی بیوہ مینکا گاندھی 2014ء میں نریندر مودی حکومت میں وزیر بنائی گئی تھیں تاہم 2019ء میں انہیں وزارت سے دور رکھا گیا تھا۔جو کہ جانوروں کے حقوق کے لیے بھی کام کرتی ہیں اور دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

آج جاری کردہ 80 رکنی بی جے پی قومی ایگزیکٹو کونسل کے ارکان کی تازہ فہرست سے ورون گاندھی اور ان کی والدہ مینکا گاندھی کے نام خارج کردیئے گئے ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ہمیشہ کی طرح ایک مشق ہے ۔

دراصل لکھیم پور کھیری واقعہ کے بعد ورون گاندھی واحد بی جے پی لیڈر تھے جنہوں نے اس مسئلے کو اٹھایا جس میں ایک بی جے پی کے مرکزی وزیر کے بیٹے پر قتل کے الزام عائد کیے گئے ہیں۔

لکھیم پور واقعہ کے بعد اترپردیش حکومت نے مملکتی وزیر داخلہ کے بیٹے سمیت 14 افراد پر قتل کا کیس درج کرلیا گیا ہے اور آج ہی ایک تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کیا گیا ہے تاہم اس معاملہ میں اب تک مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کے بیٹے اشیش مشرا سے پوچھ تاچھ یا انہیں گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

ورون گاندھی نے لکھیم پور کھیری واقعہ کے بعد سے ٹوئٹر پر انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کیا تھا انہوں نے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بی جے پی کا نام ہٹاتے ہوئے صرف رکن لوک سبھا پیلی بھیت کردیا۔

5 اکتوبر کو ورون گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھیم پور کھیری میں گاڑی کے ذریعہ کسانوں کو رؤندے جانے والا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ”لکھیم پور کھیری میں جان بوجھ کر کسانوں کو گاڑیوں سے کچلنے کی یہ ویڈیو کسی کی بھی روح کو ہلا دے گی۔پولیس کو اس ویڈیو کا نوٹس لینا چاہیے اور ان گاڑیوں کے مالکان،ان میں بیٹھے لوگوں اور اس کیس میں ملوث دیگر افراد کو فوری طور پر گرفتار کرنا چاہئے”۔

جبکہ 4 اکتوبر کو کیے گئے اپنے ٹوئٹ میں ورون گاندھی نے لکھا تھا کہ "میں ان کسانوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جو لکھیم پور کھیری کے دل دہلا دینے والے واقعہ میں شہید ہوئے۔میں اترپردیش کے وزیراعلیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں سخت کارروائی کریں”۔

اسی دؤران آج صبح 9 بجے رکن پارلیمان پیلی بھیت ورون گاندھی نے لکھیم پور کھیری والا وہی ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” ویڈیو انتہائی صاف وشفاف ہے۔ مظاہرین کو قتل کے ذریعہ خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ہر کسان کے ذہن میں تکبر اور ظلم کا پیغام داخل ہونے سے پہلے کسانوں کے بے گناہ خون کا احتساب ہونا چاہئے اور انصاف ہونا چاہئے”۔

ایسا مانا جارہا ہے کہ ورون گاندھی کے ان سخت تیوروں کے بعد ہی بی جے پی نے آج انہیں اور ان کی والدہ کو کو” قومی ایگزیکٹیو کونسل ” سے خارج کردیا ہے۔!!

بی جے پی کے رکن پارلیمان ورون گاندھی مرکز ی حکومت تینوں کسان قوانین کے خلاف جاری تحریک کے دوران کسانوں کی حمایت میں مسلسل بول رہے ہیں۔ان کی والدہ مینکا گاندھی بھی کسانوں کے لیے ہمدرد رہی ہیں۔سابق مرکزی وزیر بیریندرسنگھ جنہیں کسانوں کے ہمدرد کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا کو بھی بی جے پی ایگزیکٹو ممبر کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا ہے۔