لوک سبھا انتخابات کے نتائج سے قبل ہی بناء ووٹنگ کے پہلا نتیجہ آگیا
سورت سے بی جے پی امیدوار کامیاب، دیگر امیدوار مقابلہ سے غائب!!
دہلی/احمد آباد : 22۔اپریل
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
لوک سبھا انتخابات 2024 کے لیے ملک کی 29 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں 7 مرحلوں میں رائے دہی ہونی ہے۔4 جون کو ووٹوں کی گنتی اور ان انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوگا۔جاریہ لوک سبھا انتخابات کےپہلے مرحلہ میں 19 ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کے چند پارلیمانی حلقوں میں رائے دہی ہوئی جن میں اروناچل پردیش، آسام، بہار،چھتیس گڑھ،مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، راجستھان،سکم، تمل ناڈو، تریپورہ، اتر پردیش، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، انڈمان و نکوبار جزائر، جموں و کشمیر، لکشا دیپ اور پدو چیری شامل ہیں۔
تاہم گجرات کے سورت میں بی جے پی نے آج اپنا کھاتہ کھول دیا ہے۔گجرات کے سورت پارلیمانی حلقے سے بی جے پی کےامیدوار مکیش دلال نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔کیونکہ ان کےتمام مخالفین اب میدان سے باہر ہو گئے ہیں۔مکیش دلال کو مبارکباد دیتے ہوئے گجرات بی جے پی کے سربراہ سی آر پاٹل نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ” سورت لوک سبھا سیٹ کے امیدوار مکیش دلال کو بلا مقابلہ منتخب ہونے پر مبارکباد اور نیک خواہشات۔”
سورت لوک سبھانشست سے کانگریس کے امیدوار نیلیش کمبھانی ضلع کلکٹر و الیکشن آفیسر کےسامنے اپنے تین تجویز کنندگان میں سےایک کو بھی پیش نہیں کرسکے،جس کےبعد ان کا پرچہ نامزدگی خارج کر دیا گیا۔بی جے پی نےنیلیش کمبھانی کے نامزدگی فارم میں تین تجویز کنندگان کی دستخطوں میں تضادات پر سوالات اٹھائے تھے۔جبکہ سورت سے کانگریس کے متبادل (ڈمی) امیدوار سریش پڈسالہ کے پرچہ نامزدگی کو بھی غلط قرار دیا گیا، جس کے بعد کانگریس کو انتخابی میدان سے باہر دھکیل دیا گیا۔
اپنے حکم میں ریٹرننگ آفیسر سوربھ پاردھی نے کہا کہ کانگریس کے امیدوار اور ڈمی امیدوارکمبھانی اور پڈسالہ کی جانب سے داخل کیے گئے چار نامزدگی فارم مسترد کر دیے گئے تھے، کیونکہ پہلی نظر میں تجویز کنندگان کے دستخطوں میں تضاد پایا گیا تھا اور وہ حقیقی محسوس نہیں ہوتے تھے۔نیز تجویز کنندگان نے اپنے حلف ناموں میں کہاکہ انہوں نےخود فارم پر دستخط نہیں کیے،اتفاق سےکمبھنی کےتین تجویز کنندہ ان کے رشتہ دار تھے۔
تجویز کنندگان کے دعوے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے نیلیش کمبھانی کو اپنا جواب داخل کرنے کےلیے ایک دن کا وقت دیا تھا۔کانگریس امیدوار اپنے وکیل کے ساتھ انتخابی افسر کے پاس پہنچے لیکن ان کے تین تجویز کنندگان میں سے کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں آیا۔اس حکم میں کہا گیا کہ کانگریس امیدوار کے وکیل کی درخواست پر جانچ کی گئی ویڈیو فوٹیج میں بھی دستخط کنندگان کی موجودگی نہیں پائی گئی۔
دریں اثنا کانگریس نے حکمراں بی جے پی پرالزام عائد کرتےہوئے دعویٰ کیاکہ ہر کوئی حکومت کی دھمکی سےخوفزدہ ہے۔کانگریس لیڈر اور ایڈوکیٹ بابو منگوکیا نے کہا کہ کمبھانی کے تین تجویز کنندگان کو اغوا کیا گیا تھا انہوں نے مزید کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کو اس کی جانچ کرنی چاہئے نہ کہ فارم پر دستخط کیے گئے ہیں یا نہیں۔منگوکیا نے کہاکہ دستخطوں کو ٹیلی چیک کیےبغیر اور تجویز کنندگان کے دستخط درست ہیں یا غلط اس کی جانچ کیے بغیر فارم کو منسوخ کرنا غلط تھا۔میڈیا اطلاعات کے مطابق چند آزاد امیدواروں نے بھی اپنے پرچہ نامزدگی واپس لے لیے تھے۔!!
کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے اپنے طویل ٹوئٹ میں لکھا ہےکہ” پی ایم مودی کے نا انصافی کے دور میں کمپنیوں کے مالکان اور تاجروں کی پریشانیوں اور غصے کو دیکھ کر بی جے پی اتنی خوفزدہ ہے کہ وہ سورت لوک سبھا کامیچ ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ اس نشست پر 1984 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد سےمسلسل جیت رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے انتخابات، ہماری جمہوریت،بابا صاحب امبیڈکر کا آئین سب کچھ سنگین خطرے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں دوبارہ کہتا ہوں کہ یہ ہماری زندگی کا سب سے اہم الیکشن ہے۔”
دوسری جانب سورت کے اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملہ کا ازخود نوٹ لے۔
” یہ بھی پڑھیں "
تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ سالانہ امتحانات کے نتائج کی تاریخ کا اعلان

