روس یوکرین جنگ: 1.4 بلین مہذب عوام کا وزیراعظم سیاسی سطح پر تیسری صنف کا نہیں ہوسکتا: بی جے پی ایم پی سبرامنین سوامی کا ٹوئٹر پرحملہ

روس۔یوکرین جنگ
کیا مودی میں پوتین کو پیچھے ہٹنے کے لیے کہنے کی ہمت ہے؟
1.4 بلین مہذب عوام کا وزیراعظم سیاسی سطح پر تیسری صنف کا نہیں ہوسکتا
بی جے پی ایم پی سبرامنین سوامی کا ٹوئٹر پر رکیک حملہ

نئی دہلی :01۔مارچ
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی(جنہیں عام طور پر سبرامنیم سوامی بھی کہا جاتا ہے) جو کہ اپنی سیاسی سوچ اور کسی بھی مسئلہ پر دوٹوک تنقید،کسی کا بھی مضحکہ اڑانے اور کھری کھری سنانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

تاہم انہیں بولنے کے لیے خود پارٹی کے کسی پلیٹ فارم پر جگہ ملتی ہے اور نہ ہی میڈیا ان کو ترجیح دیتا ہے۔کیونکہ وہ خود اپنی ہی پارٹی بی جے پی اور اس کے اعلیٰ قائدین کو کھل کر نشانہ بناتے ہیں۔تاہم چند اخبارات میں ان کے موجودہ بین الاقوامی اور قومی موضوعات پر لکھے گئے ان کے مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی اپنا زیادہ تر نزلہ سوشل میڈیا بالخصوص اپنے ٹوئٹرکے مصدقہ ہینڈل پرٹوئٹس کے ذریعہ نکالتے رہتے ہیں۔

گزشتہ دنوں انہوں نے کرناٹک میں جاری حجاب تنازعہ پر ٹوئٹ کیا تھا کہ”مسلم طلباء حجاب تنازعہ پر کلاسوں کا بائیکاٹ کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پہلے حجاب اور پھر پڑھائی۔یہ سب دیکھ کر میں حیران ہوں کہ ان کے داداؤں GrandFathers نے پاکستان جانے کے بجائے ہندوستان میں رہنے کا انتخاب کیوں کیا؟ وہاں حجاب سے کوئی مسئلہ نہیں ہے”۔

یوکرین پر روس کے حملہ کے بعد سے سبرامنین سوامی لگاتار روس پر تنقید کرنے میں مصروف ہیں۔آج بی جے پی کے رکن راجی سبھا سبرامنین سوامی نے اپنے ایک پہلے ٹوئٹ میں وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ”اب جب کہ یہ واضح ہے کہ روس نے یوکرین میں جو کچھ کیا ہے وہ گزشتہ سال کے دہلی اعلامیہ میں برکس BRICS کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔کیا مودی میں پوتین کو پیچھے ہٹنے  کے لیے کہنے کی ہمت ہے؟

بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی کے اس سوالیہ ٹوئٹ پر HINDU Sandy Kapur@ نامی ٹوئٹر صارف نے کمنٹ کیا کہ "نہیں وہ ایک چٹان اور سخت جگہ کے درمیان پھنس گئے ہیں،سب سے بہتر یہ ہے کہ وہ غیرجانبدار کردار ادا کریں جیسا کہ وہ کر رہے ہیں۔

جس پر جوابی رکیک کمنٹ کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی نے لکھا ہے کہ”1.4 بلین مہذب عوام کاوزیراعظم سیاسی سطح پر تیسری صنف کا نہیں ہوسکتا”۔

سبرامنین سوامی کے اس رکیک ٹوئٹ پر Madhav Sharma@ نے اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل سے مذمت کرتے ہوئے کمنٹ کیا ہے کہ”ڈاکٹر سوامی،آپ کے لیے ہر دن ایک اوچھا اور افسردہ دن ہوتا ہے۔آپ کی مایوسی نے آپ کو پوری قوم کے سامنے ایک رسوا کن مذاق بنا دیا ہے۔آپ ہندوستانی سیاست میں کچھ بھی نہیں ہیں۔اور وزیراعظم کے خلاف یہ انتہائی توہین آمیز اور سستے تبصرے کر رہے ہیں۔جو کہ صرف چیزوں کو بدتر بنا دے گا۔

سبرامنین سوامی کے اس غیر مہذب ریمارک پرمشتمل ٹوئٹ کے خلاف بی جے پی اور وزیراعظم کے حامی ان کے خلاف باقاعدہ ٹرینڈ چلاتے ہوئے ان کی مذمت میں مصروف ہیں۔

فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمدزبیر Mohammed Zubair@ نے بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا سبرامنین سوامی کے اس ٹوئٹ کے اسکرین شاٹ کے ساتھ ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ”تصور کریں کہ گودی میڈیا،ان کے اینکرس،مرکزی وزرا اور بی جے پی کے ترجمانوں کا کیا ردعمل ہوتا اگر یہی ٹوئٹ بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا کے بجائے کسی اپوزیشن لیڈر نے کیا ہوتا؟