افغانستان سے یوکرین ہجرت کرنے والے اجمل رحمانی اب اپنے خاندان کے ساتھ جنگ زدہ ملک سے پولینڈ پہنچ گئے

ابھی تو ایک وطن چھوڑ کر ہی نکلے ہیں
ہنوز دیکھنی باقی ہیں ہجرتیں کیا کیا

افغانستان سے جنگ کے خوف سے یوکرین ہجرت کرنے والےاجمل رحمانی
اپنے خاندان کے ساتھ جنگ زدہ ملک سے پولینڈ کے پناہ گزیں کیمپ میں پہنچ گئے

نئی دہلی: 02۔مارچ
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

ترکِ وطن کرنا اور پناہ گزین ہونا اس دنیا میں انسانی زندگیوں کا ایک المیہ ہے۔ہم اپنے اپنے گھروں میں چین سے بیٹھے ہیں،ہم نہیں جانتے کہ ابتلا کیا ہوتی ہے۔ہمیں موسم کے شدائد کی شکایت ہے،اس بات کا شکوہ رہتاہے کہ بجلی کبھی آتی ہے اورکبھی نہیں آتی،پانی کے لیے لوگ بطور خاص عورتیں اور بچے مارے مارے پھرتے ہیں۔ان تمام مسائل کے باوجود ہم ان لوگوں کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتے جو اپنے ملکوں اور گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

لاکھوں لوگوں نے اپنے اپنے ملکوں سے راہ فرار اختیار کی اور دوسری زمینوں میں پناہ گزین ہوئے۔گزشتہ برسوں میں ہم نے کتنے ہی لوگوں کے قافلے دیکھے جوگرتے پڑتے پناہ کی تلاش میں تھے۔بہتوں کو ہم نے کشتیوں سے سمندر میں گرکر ہلاک ہوتے دیکھا۔بچوں،عورتوں اور مردوں کی تصویریں دیکھیں۔جائے امان اور جائے پناہ کی تلاش میں سرگرداں۔

ان میں مختلف رنگ ونسل،زبان و مسلک سے تعلق رکھنے والے،اقلیتی فرقوں کے لوگ جن پر زمین تنگ تھی۔وہ بھی ہماری طرح اپنے اپنے گھروں میں رہتے تھے۔ان کے باورچی خانوں میں بھی چولہا گرم ہوتا تھا۔نان،شوربے اور چاول کی خوشبو بچوں کو بھوک سے بے قرار کرتی تھیں،مرد شیشے کے گلاس میں قہوہ پیتے تھے اور سگریٹ کا دھواں اڑاتے تھے اور اب وہ دوسروں کے سامنے ایک روٹی کےلیے قطار میں لگتے ہیں،ہاتھ پھیلاتے ہیں۔

ان کی عزت نفس سیاسی،نسلی اور مسلکی بنیادوں پر غاصبوں کے قدموں تلے روندی گئی،ان کی زمینیں چھینی گئیں۔ان کی نوجوان لڑکیاں اور لڑکے جبرو تشدد کا نشانہ بنے۔

ان لوگوں کے بارے میں’’پناہ گزینوں کے عالمی دن‘‘کے موقع پر اقوام متحدہ نے جو اعداد وشمار جاری کیے ہیں،ان کے مطابق 2018 کے آخر تک 7 کروڑ 80 لاکھ انسانوں نے دنیا کے مختلف علاقوں سے ایذا دہی،ستم رانی اورمسلح تصادم سے بچنے کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑا،خانہ بدوش اور بے وطن ہوئے۔ان میں افغانستان،میانمار (برما) صومالیہ،سوڈان اور شام کے لوگوں کی اکثریت ہے۔70 برس کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر انسانوں کی نقل مکانی ایک بہت بڑا انسانی سانحہ ہے۔(محترمہ زاہدہ حناکےمضمون سے اقتباس۔بشکریہ:ہم سب ڈاٹ کام، شائع شدہ 23جون2019)۔

ایسے ہی نقل مقامی یا ہجرت کرنے والے بدنصیب افراد میں ان دنوں ایک اور خاندان کا اضافہ ہوا ہے! جو اپنے ملک میں جنگ کے ماحول سے یہ سوچ کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے کہ وہ بچ گئے ہیں۔لیکن چند ہی دنوں میں وہ ایک نئی جنگ کی کوکھ میں پہنچ گئے!جس کی حقیقت شاید پہلی جنگ سے بھی بڑھ کر ہو!! یہ کسی سائنسی فکشن فلم کا حصہ نہیں ہے نہ ہی یہ کسی فلم کی کہانی اور ایسی کہانیاں ہر روز نہیں ہوتیں جو کہ حقیقت میں ایک افغان شہری اور ان کے خاندان کے ساتھ ہوا ہے۔

یہ کہانی ہے افغان شہری اجمل رحمانی اور ان کے چھوٹے سے خاندان کی۔اجمل رحمانی جو کہ افغانستان کے شہری ہیں بارود کی بو اور خون کے سمندروں سے بھاگتے ہوئے اپنا ملک چھوڑ کر یوکرین چلے گئے تھے جہاں انہیں پناہ حاصل ہوئی تھی۔اس سے پہلے کہ انہیں وہاں سکون کی زندگی میسر ہوتی روس نے یوکرین پر حملہ کردیا انہیں دوبارہ یوکرین میں جنگ کے میدان اور حالات کا سامنا کرنا پڑگیا۔

جس کے بعد اجمل رحمانی اپنے خاندان کے ساتھ یوکرین سے ہزاروں دیگر پناہ گزینوں کے ساتھ پولینڈ پہنچ گئے۔بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو اجمل رحمانی نے بتایا کہ "میں ایک جنگ سے بھاگا اور اب دوسری جنگ شروع ہو گئی ہے۔افغان شہری اجمل رحمانی نے اے ایف پی سے کہا کہ”میں واقعی بدقسمت ہوں”انہوں نے مزید کہا کہ”میں ابھی اپنی اہلیہ مینا،اپنے 11 سالہ بیٹے عمر اور اپنی سات سالہ بیٹی مروہ کے ساتھ پولینڈ پہنچا ہوں۔

جب اجمل رحمانی اپنی اہلیہ،کمسن بیٹا اور بیٹی کے ساتھ پولینڈ کی سرحد پر واقع میڈیکا پہنچے تو وہ دوسرے پناہ گزینوں کے ساتھ قریبی قصبے پرزیمیسل کے ایک استقبالیہ مرکز میں بسوں کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔

ان پناہ گزینوں میں،یوکرینی شہریوں کے علاوہ،دیگر قومیتوں کے سینکڑوں افراد،طالب علم یا یوکرین میں مقیم کارکن،افغان،کانگولیس،مگہری، ایکواڈور یا نیپالی شامل ہیں۔

اجمل رحمانی جن کا تعلق افغانستان کے کابل سے ہے نے اپنے متعلق بتایا کہ وہ  کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نیٹو کے لیےدس سال کام کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکہ کے افغانستان سے چلے جانے کے اعلان کے چار ماہ بعد ہی ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ انہیں خطرہ محسوس ہوا تھا۔اجمل رحمانی نے بتایا کہ انہیں اور ان کے بیوی بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکیوں والی کالس موصول ہورہی تھیں۔اس سلسلہ میں انہوں نے نیٹو کے عہدیداروں کو اس بارے میں بتانا چاہالیکن کوئی بھی ان کی بات نہیں سننا چاہتا تھا اور نہ ہی ان کی مدد کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی انہیں داخلی ویزا دینا چاہتا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ خوفزدہ اجمل رحمانی اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان سے یوکرین کے لیے روانہ ہوگئے۔اس وقت یوکرین وہ واحد ملک تھا جس نے انہیں قبول کیا اور بحیرہ اسود کے ساحلی شہر اوڈیسہ میں اجمل رحمانی کا خاندان آباد ہو گیا۔اجمل رحمانی نے میڈیا کو بتا کہ انہوں نے افغانستان میں ایک خوبصورت زندگی گزاری ہے۔ان کے پاس اپنا ایک گھر اور ایک گاڑی تھی اور انہیں معقول تنخواہ بھی حاصل ہوتی تھی۔افسردہ اجمل رحمانی نے بتایا کہ میں نے سب کچھ بیچ دیا،میں نے سب کچھ کھو دیا۔میں نے اپنے بچوں کے ساتھ،اپنے خاندان کی خاطر،ملک اور سب کچھ چھوڑنے کو ترجیح دی۔

24 فروری کو جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو وہ دوبارہ سب کچھ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور اپنے خاندان کے ساتھ اوڈیسہ اور پولینڈ کی سرحد کے درمیان 1,110 کلومیٹر کا سفر طئے کیا۔اس دؤران اجمل رحمانی،اپنی اہلیہ مینا،11 سالہ بیٹے عمر اور اپنی سات سالہ بیٹی مروہ کے ساتھ 30 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل چلنا پڑا۔کیونکہ سڑک کاروں سے بھری ہوئی تھی انہوں نے بتایا کہ ہم جب پہنچے تو شدید سردی تھی اور میں نے اپنی بیٹی کے لیے کمبل لیا،لیکن وہ چند منٹوں میں بیمار ہوگئی اور اس کی ماں رونے لگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایمبولینس پہنچی اور یوکرین کی سرحدی پولیس نے اسے گزرنے میں سہولت فراہم کی۔

انہوں نے مزید کہا ہم خوش قسمت تھے سرحد پر 50,000 سے زیادہ لوگ موجود تھے،ہر کوئی بچوں اور سامان کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہا تھالیکن ہم ان کے آگے سے گزر گئے۔پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی پولینڈ کی این جی او”اوکالینی”کے وکیل ٹامس پیٹرزاک کے مطابق اجمل رحمانی اور ان کے خاندان کے پاس پولینڈ کے ویزا کے بغیر کسی بھی شخص کی طرح اپنی شناخت کو باقاعدہ بنانے کےلیے سرکاری درخواست جمع کروانے کے لیے 15 دن کا وقت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے مقررہ حد کو اب غیر حقیقی سمجھا جا رہا ہے اور اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے پولینڈ کو اس علاقے میں اپنے قانون میں جلد ترمیم کرنی ہوگی۔افغانستان سے یوکرین اور اب جنگ زدہ یوکرین سے پولینڈ کے پناہ گزنیوں کے کیمپ پہنچنے والے اجمل رحمانی اپنے اور اپنے خاندان کےمستقبل کے بارے میں ہنوز تشویش میں مبتلا ہیں۔لیکن پولینڈ پہنچنے پر وہ خود کو محفوظ اور حوصلہ افزا قرار دیتے ہیں۔

 

ملک کے نامور شاعر منور رانا نے تقسیم کے تناظر میں شہرہ آفاق ” مہاجر نامہ” جو کہ 500 اشعار پرمشتمل ہے لکھا اور متعدد مشاعروں میں پڑھ کر خوب داد تحسین حاصل کی۔اس ویڈیو میں منور رانا خود مہاجر نامہ سناتے ہوئے دیکھے اور سنے جاسکتے ہیں۔

https://www.facebook.com/watch/?ref=saved&v=1992000534304757