یوکرین سے بحفاظت سلوواکیہ پہنچنے والے ہندوستانی طلبہ میں
وقارآباد ضلع کے تانڈور کی طالبہ مدیحہ آنم بھی شامل
189 طلبہ کی آج رات ہندوستان کے لیے روانگی
مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو کی طلبہ سے ملاقات
نئی دہلی/وقارآباد: 02۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام)

روس کے حملہ کے بعد حالت جنگ میں موجود یوکرین میں پھنسے ہوئے طلبہ کو بحفاظت ملک واپس لانے کے لیے حکومت ہند کی جانب سے آپریشن گنگا کا آغاز کیا گیاہے۔ہندوستانی طلبہ اور شہری ٹرینوں اور دیگر ذرائع سے اور پیدل چل کر یوکرین کے پڑوسی ممالک سلوواکیہ، پولینڈ، ماڈووا، ہنگری اور رومانیہ کی سرحدوں تک پہنچ رہے ہیں۔جنہیں ان ممالک سے خصوصی طیاروں کے ذریعہ ملک واپس لایا جارہا ہے۔ان طلبہ میں سے چند طلبہ ہندوستان پہنچ چکے ہیں۔اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
پیر کو وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی وزراء جیوترادتیہ سندھیا،ہردیپ پوری ،کرن رجیجو اور وی کے سنگھ ہندوستانی طلبہ اور شہریوں کی ملک منتقلی کے مشن کو مربوط کرنے کے لیے یوکرین کے پڑوسی ممالک کاسفر کریں گے۔سندھیا رومانیہ اور مالڈووا،سلوواکیہ میں رجیجو، ہنگری میں پوری اور پولینڈ میں سنگھ میں آپریشنز سنبھالیں گے۔کل یہ وزرا مذکورہ ممالک پہنچ گئے ہیں۔اسی دؤران آج شام خبر آئی ہے کہ یوکرین کے مختلف مقامات سے کئی ہندوستانی طلبہ پڑوسی ملک سلوواکیہ پہنچ گئے ہیں۔
اس سلسلہ میں مرکزی وزیر قانون و انصاف مسٹر کرن رجیجو نے آج شام ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” یوکرین سے سلوواکیہ پہنچنے والے اپنے طلباءکے چہروں پر بڑی راحت دیکھ کر خوشی ہوئی۔ان سب کی مناسب دیکھ بھال کی جارہی ہے اور انہیں سلوواکیہ میں Košice کے قریب رکھا جارہاہے۔ان میں سے 189 طلبہ آج رات ہندوستان کے لیے روانہ ہو رہے ہیں"۔
یوکرین سے سلوواکیہ پہنچنے والے طلبہ کے ساتھ مرکزی وزیر قانون و انصاف مسٹر کرن رجیجو کی خوشگوار ملاقات کی تصاویر بھی آئی ہیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طلبہ کے چہروں پر خوشی ہے اور مرکزی وزیر مسٹر رجیجو بھی بہت خوش نظر آرہے ہیں۔
سلوواکیہ پہنچنے اور مرکزی وزیر کرن رجیجو سے ملنے والے طلبہ میں ریاست تلنگانہ کے ضلع وقارآباد کے حلقہ اسمبلی تانڈور کی ایک طالبہ”مدیحہ آنم” Madeeha Aanam# بھی شامل ہیں۔جن کا تعلق تانڈور کے عسکری لین علاقہ سے ہے اور وہ محمد فیاض علی(رحمن علی) کی دختر ہیں۔محمد فیاض علی تانڈور میں انڈین اسٹون کے مالک ہیں۔اطلاعات کے مطابق مدیحہ آنم دیگر 50 طلبہ کے ساتھ ایک بس کے ذریعہ 24 گھنٹوں کے طویل صبرآزما انتہائی مشکل سفر کرکے یوکرین سے سلوواکیہ پہنچیں۔

23 سالہ مدیحہ آنم جون 2019 میں یوکرین روانہ ہوئی تھیں اور وہ یوکرین کی”ایوانو فرانسکلی یونیورسٹی”میں میڈیکل کے چوتھے سال میں زیرتعلیم ہیں۔مدیحہ آنم جنوری 2021 میں یوکرین سے اپنے گھر آئی تھیں بعدازاں وہ جون 2021 میں یوکرین واپس چلی گئیں۔مدیحہ آنم ریاستی صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا سید کمال اطہر، ٹی آر ایس قائدین سید اجمل احمد اور سید مسعود احمد کی بھانجی ہیں۔
مدیحہ آنم کے بحفاظت یوکرین سے سلوواکیہ پہنچنے اور مرکزی وزیر مسٹر رجیجو کی ان سے ملاقات پر مدیحہ آنم کا کے والدین اور تمام رشتہ داروں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بحفاظت گھر واپسی کے منتظر ہیں۔اور اس کے لیے انہوں نے مرکزی اور حکومت تلنگانہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
مدیحہ آنم کی دسویں جماعت تک تعلیم تانڈور کے سینٹ مارکس ہائی اسکول میں ہوئی۔بعدازاں وہ ایم ایس ایجوکیشن،حیدرآباد میں تعلیم کی تکمیل کے بعد میڈیکل تعلیم کے حصول کے لیے یوکرین روانہ ہوئی تھیں۔

