تمل ناڈو میں ایک نوجوان نے دو لاکھ 60 ہزار روپئے مالیتی
موٹرسیکل کی مکمل قیمت ایک روپیہ مالیتی سکّوں کی شکل میں ادا کی
تین سال سے جمع کیے گئے سکّوں کی گنتی میں چار ملازمین کو دس گھنٹے لگ گئے
سیلم:30۔مارچ (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
مختلف اقسام کی گاڑیاں خریدنا ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے۔لیکن ان کی قیمتوں کو دیکھ کر زیادہ تر عام اورمتوسط طبقہ کےلوگوں کےدلوں میں ایسی قیمتی گاڑیاں خریدنے کی صرف حسرت ہی رہ جاتی ہے۔یا پھر کوئی اس عزم کے ساتھ روزآنہ یا ماہانہ اپنی محدود آمدنی میں سے کچھ رقم جمع کرنا شروع کردیتا ہے کہ اس بچت کی جارہی رقم سے ایک دن ضرور گاڑی خریدوں گا! اور اکثر کا یہ خواب پورا بھی ہوجاتا ہے۔وہیں زیادہ ترمتوسط طبقہ کے لوگ فینانس کمپنیوں کی مدد سے گاڑیاں خریدلیتے ہیں اسکے لیے بھی رقم کاایک بڑا حصہ درکار ہوتا ہے۔
تمل ناڈو کے سیلم ضلع کے نوجوان کے ویڈیوز اور تصاویر ان دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں جس نے تین سال تک جمع کیے گئے ایک روپیہ مالیتی سکّے جمع کرتے ہوئے بالآخر اپنی دلی تمنا پوری کی اور یہاں خاص بات یہ ہے کہ اس نوجوان نے اس کی جانب سے خریدی گئی 2 لاکھ 60 ہزار روپئے مالیتی”بجاج ڈومینار Bajaj Dominar” کی مکمل رقم ایک روپیہ مالیتی سکّے ادا کرکے ہی خریدی۔اور اس رقم کے تھیلے ایک ویان کے ذریعہ شوروم تک لائے گئے تھے۔
جس سے شوروم کے مالک اور ملازمین کو شدید پاپڑ بیلنے پڑگئے کیونکہ اتنی بڑی رقم پرمشتمل سکّوں کی گنتی کے لیےکوئی مشین دستیاب نہیں ہے تو شوروم کے ملازمین نے کئی گھنٹوں تک فرش پر بیٹھ کر ان سکّوں کی گنتی کے بعد گاڑی حوالے کی۔
29 سالہ وی۔بھوپتی نامی جو کہ ایک یوٹیوبر YouTuber ہے اور ساتھ ہی ایک خانگی کمپنی میں کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔وہ گزشتہ تین سال سے ایک روپیہ مالیتی سکّوں کو جمع کررہے تھے۔میڈیارپورٹ کےمطابق بھوپتی اکثر مندروں،چائے کے اسٹالوں اور ہوٹلوں میں اپنے کرنسی نوٹوں کو ایک روپیہ کے سکوں میں تبدیل کرلیا کرتے تھے۔
ٹائمز آف انڈیا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں بھوپتی نے کہاکہ”میرے پاس اُس وقت اتنے پیسے نہیں تھے۔میں نے YouTube چینل سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پیسے بچانے کا فیصلہ کیا۔میں نے حال ہی میں موٹرسائیکل کی قیمت کے بارے میں دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ اس کی جملہ قیمت 2,60,000 روپئے ہے اور میرے پاس اب جمع کی گئی رقم موجود تھی جس سے یہ گاڑی خریدی جاسکتی تھی۔
گاڑیوں کے شوروم کے منیجر مہاوکرانت نے پہلے تو اتنی بڑی رقم کے لیے ایک روپیہ مالیتی سکّے قبول کرنے سے انکارکردیا تھا لیکن پھر انہوں نے اس نوجوان کی خواہش کے آگے اپنی ہار مان لی کیونکہ وہ بھوپتی کو مایوس نہیں کرنا چاہتے تھے۔ٹائمز آف انڈیا کو مہاوکرانت نے بتایا کہ”بینک ایک لاکھ روپئے رقم جو کہ 2000 روپے کی مالیتی نوٹوں پر مشتمل ہوتی کی مشین سے گنتی کرنے کے لیے 140 روپئے کا کمیشن وصول کرتے ہیں تو ایسے میں جب ہم انہیں ایک روپے کے ان سکوں پر مشتمل 2,60,000 کی رقم دیں گے تو وہ کیسے قبول کریں گے؟ شوروم کے منیجر مہاوکرانت نے بتایا کہ بھوپتی کی جانب سے ادا کیے گئے ایک روپیہ کے سکوں کی گنتی کے لیے کئی ملازمین 10 گھنٹے لگ گئے۔
یاد رہے کہ ماہ فروری میں ایک شخص نے سکّوں کی بوریوں کے ذریعہ مہندرا بولیرو کی ایس یو وی گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔ایس یو وی کی قیمت لگ بھگ 12 لاکھ روپئے ہے۔تاہم اس شخص نے پوری رقم سکوں کی شکل میں ادا نہیں کی تھی بلکہ 22.000 روپئے ایک روپیہ مالیتی سکے شوروم مالکین کے حوالے کیے تھے باقی ماندہ رقم ایک فینانس کمپنی نے ادا کی تھی۔

