اگرمسلم ممالک ہندوؤں کے ساتھ بھی یہاں مسلمانوں کے ساتھ کیے جارہے جیسا سلوک کرنے لگیں تو حکومت کیا کرے گی؟ بی جے پی ایم ایل سی وشواناتھ

اگر مسلم ممالک ہندوؤں کے ساتھ بھی
یہاں مسلمانوں کے ساتھ کیے جارہے جیسا سلوک کرنے لگیں تو حکومت کیا کرے گی؟

کرناٹک کے بی جے پی ایم ایل سی وشواناتھ کا سوال
ایک اور بی جے پی ایم ایل اے بھی اٹھائی آواز

بنگلورو:29۔مارچ (سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

ریاست کرناٹک میں منادر انتظامیہ کی جانب سے زعفرانی ٹولے کے احتجاج کے بعد منادر کے تہوار (جاترا) کے مواقع پرمسلم دکانداروں پر پابندی عائد کردی گئی ہے کہ جاترا کے مواقع پر وہ اپنی دکانات نہ لگائیں۔اس معاملہ میں کرناٹک کے سینئر سیاسی قائد اور بی جے پی کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر اے ایچ وشواناتھ اور بی جے پی کے ہی ایک رکن اسمبلی جو کہ شمالی بیلگام کی نمائندگی کرتے ہیں نے آواز اٹھاتے ہوئے اس کو پاگل پن قرار دیتے ہوئے کرناٹک حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں۔

برسراقتدار بی جے پی کے اندر سے بلند ہونے والی ان حقائق پر مشتمل آوازوں کو”تپتے ہوئے ریگستان میں خوشگوار ہوا کے جھونکے” ہی کہے جاسکتے ہیں!

کرناٹک کے سینئر سیاسی قائد اور بی جے پی کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر اے ایچ وشواناتھ نے منادرکے تہواروں(جاترا) کے دؤران مسلم دکانداروں کے تجارت کرنے پر منادرکمیٹیوں کے انتظامیہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندی پر ریاستی حکومت کی”خاموشی”پرسوال اٹھایا ہے۔انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہاں تک پوچھا کہ”اگرمسلم اکثریتی ممالک بھی وہاں موجود ہندوؤں کے ساتھ یہاں مسلمانوں کے ساتھ کیے جارہے جیسا سلوک کرنے لگیں تو حکومت کیا کرے گی؟ "

بی جے پی کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر اے ایچ وشواناتھ جو کہ میسور کی نمائندگی کرتے ہیں نے پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا کہ”مذہب کا سیاست میں ملوث ہونا بہت خطرناک ہے”۔الیکشن جیتنے کے لیے مذہب کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔انہوں نے سوال کیا کہ اس بنیاد پر آپ کتنے الیکشن جیتیں گے؟انہوں نے وزیراعظم کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا”وزیراعظم نریندرمودی نے سب کا ساتھ،سب کا وشواس کا پیغام دیا ہے۔انہوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیکن ہماری ریاست غلط سمت میں جارہی ہے۔

بی جے پی قانون ساز کونسل کے رکن اے ایچ وشواناتھ نے سوال کیا کہ وہ مسلمان جو مندروں کے پاس پھول،پھل اور پوجا کا سامان بیچتے ہیں اپنی روزی روٹی کیسے کمائیں گے؟”یہ اچھوت کے مترادف ہے”۔

اے ایچ وشواناتھ نے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے مذہب کوکبھی استعمال نہیں کرنا چاہیے،یہ خطرناک عمل ہے۔انہوں نے پوچھا کہ”مذہبی سیاست کا استعمال کرتے ہوئے کوئی کب تک زندہ رہ سکتا ہے؟”کوئی اسے بتائے کہ اس کی پارٹی کے پاس سوائےتقسیم کرنے،تفرقہ بازی اور نفرت کے کچھ نہیں ہے "۔

بی جے پی قانون ساز کونسل کے رکن اے ایچ وشواناتھ او بی سی طبقہ کے تجربہ کار،طاقتور اور مقبول قائد ہیں۔جو کہ ماضی میں کانگریس میں شامل تھے اس 2013 تا 2018 کانگریس حکومت میں اپنے ساتھی چیف منسٹر سدرامیا کے ساتھ اختلافات کے باعث وہ جنتادل سیکولر میں شامل ہوگئے اور 2019 میں وہ اس پارٹی کے ریاستی صدر بھی رہ چکے ہیں اور بحیثیت وزیر خدمات انجام دے چکے ہیں۔پھر وہ سابق چیف منسٹر کرناٹک بی ایس ایڈی یورپا کی تائید کرتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے۔وہ کنڑا زبان کے ادیب و ناول نگار بھی ہیں۔ان کے دو ویڈیوز الگ الگ حصوں میں وائرل ہوئے ہیں جن میں سے ایک ویڈیو ایک منٹ 24 سیکنڈ کا اور دوسرا ویڈیو ایک منٹ 46 سیکنڈ پر مشتمل ہے۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پوچھا کہ برطانیہ میں کتنے ہندوستانی رہتے ہیں؟آپ کے خیال میں کرہ ارض پر کتنے ہندوستانی ہیں؟مسلم اکثریتی ممالک میں کتنے ہندوستانی کام کرتے ہیں؟اگر وہ حکومتیں ان ہندوؤں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو کیا ہوگا؟ اگر انہیں ان ممالک سے نکال دیا جائے تو کیا ہماری حکومت ان کو اندر لے سکے گی؟

بی جے پی قانون ساز کونسل کے رکن اے ایچ وشواناتھ نے پریس کانفرنس میں حقیقت بیانی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ”جب ہندوستان اور پاکستان تقسیم ہوئے تو ہندوستان کے مسلمانوں نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔وہ جناح کے حق میں نہیں تھے۔اور یہ وہ چیز ہے جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔وہ یہیں ٹھہرگئے کیونکہ وہ ہندوستانی بننا چاہتے تھے۔وہ ہندوستانی ہیں،دوسری نسلوں کے لوگ نہیں۔

یاد رہے کہ وشوا ہندو پریشد،بجرنگ دل اور سری رام سینا جیسی دائیں بازو کی تنظیموں کے دباؤ کے بعد اضلاع اُڑپی اور شیموگہ کے متعدد مندروں نے مسلمان تاجروں پر تہواروں میں دکانات لگانے پر پابندی عائد کی ہے۔ایسے چھوٹےمسلم بیوپاریوں پر پابندی اب ریاست کے دیگر مندروں کے تہواروں تک پھیل گئی ہے۔یہ پابندی 2002 کے ایک آرڈیننس پر مبنی ہے جو کانگریس کی قیادت والی حکومت نے نافذ کیا تھا جس نے غیر ہندوؤں کو مندر کی بنیاد پر کاروبار کرنے سے روکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ وہ خاص طور پرمسلمان بیوپاریوں اور کمپنیوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟ریاست کی بہت بری حالت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت آگے بڑھے اور متبادل کے طور پر ان کی مدد کرے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف عوامی ردعمل ہوگا۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ”لوگوں کا یہ ذریعہ معاش ہے جس سے انہیں کھانا اور کپڑے حاصل ہوتے ہیں۔اے ایچ وشواناتھ نے مزید کہا کہ جب معاش کا کوئی ذریعہ نہیں ہے تو پھر جمہوریت کا کیا فائدہ؟ انہوں نے زرو دے کر کہا”مذہب،ذات پات سب کو پھینک دو۔جب ہمارے پاس کھانا خریدنے کے ذرائع نہیں ہیں تو ہم کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟

"انگریزی سب ٹائٹلس کے ساتھ بی جے پی رکن قانون ساز کونسل اے ایچ وشواناتھ کی پریس کانفرنس کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔”

https://www.facebook.com/rajiv.personal/videos/495793155384668

دوسری جانب شمالی بیلگام اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی انیل ایس بیناکے جو کہ مراٹھا قائد ہیں اورمسلم اکثریتی حلقہ سے منتخب ہوئے ہیں نے بھی منادر کے قریب مسلم بیوپاریوں کے کاروبار پر پابندی عائد کیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کوئی اپنی تجارت کر سکتا ہے اور یہ لوگوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کہاں سے کیا خریدنا پسند کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مندر کے میلے (جاترا) کے دوران کوئی پابندیاں لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ہم نہیں لگائیں گے۔ہم اس طرح کی پابندیوں کی اجازت نہیں دیں گے۔انیل ایس بیناکے کہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو یہ بتانا غلط ہے کہ کہاں خریدنا ہے اور کہاں نہیں،انہوں نے کہا کہ آئین سب کو یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔