کرناٹک کے بیلگام میں بجرنگ دل کارکنوں کا سڑکوں پر برہنہ تلواروں کے ساتھ رقص
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل، پولیس نے کیا کارروائی کرنے کا اعلان
بنگلور/ بیلگام: 18۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
گزشتہ چند سال سے اس ملک میں ایک مخصوص طبقہ کے خلاف نفرت انگیز بیانات، کھلے عام دھمکیاں،موب لنچنگ کے نام پر قتل اور پھر میڈیا کے ایک مخصوص گروہ کی جانب سے اس طبقہ کے خلاف جرنلزم کے نام پر جھوٹی اور من گھڑت باتوں کو منافرت اور فرقہ پرستی کے نشے کو افیون کی طرح لپیٹ کر پھیلایا جارہا ہے۔
جس کے باعث اس ملک کی صدیوں قدیم گنگا جمنی تہذیب اور فرقہ وارانہ آہنگی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اور ایک دوسرے کے خلاف عدم اعتماد کے ماحول کو ایسا لگتا ہے کہ ایک منظم منصوبہ کے تحت کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟ جبکہ اس ملک کے امن پسند عوام کا بڑا طبقہ ان تمام حرکتوں سے عاجز آگیا ہے اور اب وہ امن اور سکون چاہتے ہیں۔
سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر آج شام ریاست کرناٹک کے” بیلگام ” (بیلگاوی) کا ایک ایسا ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ” بجرنگ دل ” کے کارکن کھلے عام سڑک پر برہنہ تلواروں کے ساتھ رقص کررہے ہیں
جرنلسٹ نکھیلا ہینری نے اس ویڈیو کو ٹوئٹر پر پوسٹ کیا ہے۔اس اشتعال انگیز ویڈیو کے وائرل ہونے اور کھلے ذہن کے لوگوں کی جانب سے مختلف سوال اٹھائے جانے کے بعد بیلگام پولیس کے عہدیداروں نے اعلان کیا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث تمام کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ ویڈیو 13 اکتوبر کا ہے جب دسہرہ تہوار کے موقع پر سے ہتھیاروں کی پوجا کرنے کے بعد باقاعدہ ریالی منظم کی گئی تھی۔
اس جلوس کے دؤران ڈی جے ساؤنڈ کے ساتھ اس میں شامل بجرنگ دل کے قائدین اور کارکن کوویڈ قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے انہوں نے نہ ماسک پہنے تھے اور نہ جسمانی فاصلہ ہی برقرار رکھا تھا۔
بتایا جارہا ہے کہ دسہرہ تہوار کے موقع پر بجرنگ دل کارکنوں نے ہتھیاروں کی پوجا کے بعد ویرن واڑی علاقہ میں یہ ریالی اور جلوس منظم کیا تھا! جس میں برہنہ تلواروں کے ساتھ جم کر رقص کیا گیا۔
بتایا یہ بھی جارہا ہے کہ یہ جلوس پولیس تحفظ میں ہی نکالا گیا تھا!!جس پر اس وقت نہ پولیس نے برہنہ تلواروں کے ساتھ رقص کے خلاف اور نہ ہی ڈی جے ساؤنڈ کے استعمال پر اور نہ ہی کوویڈ قواعد کی دھجیاں اڑائے جانے پر کوئی کارروائی کی!!

سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہوجانے کے بعد سوشل میڈیا صارفین حکومت کرناٹک پر تنقید کررہے ہیں۔اور سوال کیا جارہا ہے کہ کوویڈ قواعد کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اس طرح سڑکوں پر برہنہ تلواروں کے رقص کا مقصد کیا ہے؟
اور حکومت کرناٹک سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ان تمام بجرنگ دل قائدین اور کارکنوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر بیلگام ایم جی ہیری متھ نے کہا ہے کہ پولیس اس معاملہ کی تحقیقات میں مصروف ہے اور تحقیقات کی تکمیل کے بعد ان تمام کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

